روات (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی | 05جون 2026) —گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کلر سیداں کی سابق پرنسپل صالح پروین، جو ریٹائرمنٹ کے بعد ڈی ایچ اے فیز ون میں اکیلی رہائش پذیر تھیں، جمعرات کے روز اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں۔ حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر موت کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مرحومہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسی رہائشی علاقے میں تنہا مقیم تھیں۔ ان کی لاش مشکوک حالات میں برآمد ہوئی جس کے بعد متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق مرحومہ کے ورثا اور اہل خانہ کی تلاش جاری ہے تاہم تاحال کسی قسم کی تصدیق شدہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ انتظامیہ ان کے قریبی رشتہ داروں سے رابطے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس اچانک وفات پر کلر سیداں کے تعلیمی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اساتذہ، سابق ساتھیوں اور مقامی شہریوں نے مرحومہ کی تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی ہے۔
Rawat (Pothwar.com — Ikram-ul-Haq Qureshi | June 05, 2026): Former Principal of Government Girls Degree College Kallar Syedan, Salih Parveen, who had been living alone after her retirement in DHA Phase 1, was found dead in her residence in the DHA area, authorities confirmed on Thursday.
According to initial reports, the deceased had been residing alone since her retirement from government service. Her body was discovered under unclear circumstances, prompting concern and further investigation. The cause of death has not yet been officially determined.
Authorities have stated that efforts are underway to trace and contact her family members, but no confirmed information regarding her heirs has been obtained so far.
The sudden demise has cast a wave of sorrow across educational circles in Kallar Syedan, where she was widely respected for her long and dedicated service in the education sector. Teachers, colleagues, and local residents expressed deep grief over her passing and prayed for the elevation of her ranks in the hereafter.
زین شاہ قتل کیس کو موب لنچنگ قرار دے کر انسداد دہشتگردی ایکٹ شامل کر دیا گیا
Zain Shah Murder Case Declared Mob Lynching, Anti-Terrorism Act Section Added
روات (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی | 05جون 2026) — نوجوان زین شاہ کے انسانیت سوز قتل کیس میں اہم پیش رفت
پولیس نے مقدمے میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 ڈبلیو ڈبلیو شامل کرتے ہوئے واقعے کو موب لنچنگ قرار دے دیا
راولپنڈی تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں نوجوان زین شاہ کے انسانیت سوز قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 11 ڈبلیو ڈبلیو شامل کرتے ہوئے واقعے کو موب لنچنگ قرار دے دیا ہے۔
پولیس کے مطابق نئی دفعات کے اندراج کے بعد موب لنچنگ میں ملوث چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں امجد خان، شاہ حسین، عبدالباسط، حمزہ خان، نعمان خان اور سہیل محمود شامل ہیں، گرفتار ملزمان کو انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے پولیس نے دس روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ ریمانڈ ملزمان سے دیگر ساتھیوں، واقعے کی منصوبہ بندی اور مقتول زین شاہ کے اغواء میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق دوہرے قتل کا یہ واقعہ آٹھ مئی کو پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق تیرہ سو روپے کے لین دین کے تنازع پر جھگڑا ہوا جس کے بعد سراج محسود اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زین شاہ کے گھر پہنچا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زین شاہ کے گھر پر دھاوے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں سراج محسود ہلاک ہوگیا، سراج محسود کی ہلاکت کے بعد اس کے عزیز و اقارب مشتعل ہوگئے اور انہوں نے زین شاہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، تحقیقات کے مطابق مشتعل ہجوم نے زین شاہ پر انسانیت سوز تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش کی بے حرمتی بھی کی گئی جس کے باعث مقدمے میں موب لنچنگ اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، کیس کی تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔