DailyNewsGujarKhanHeadlinePothwar.com

Gujar Khan: Traders’ Union Established in Bewal After Long Anticipation: Ch. Zulfiqar Elected President

بیول میں طویل انتظار کے بعد انجمن تاجراں کا قیام، چوہدری ذوالفقار صدر منتخب

گوجر خان: 04 اگست 2025 (پوٹھوار ڈاٹ کام) – طویل مشاورت اور کاروباری برادری کے مسلسل مطالبات کے بعد بیول میں تاجروں کی تنظیم (انجمن تاجران) کا قیام بالآخر عمل میں آ گیا ہے۔ یہ تنظیم مقامی تاجروں کے درمیان باہمی اتفاق اور اتحاد کے جذبے کے ساتھ قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد کاروباری طبقے کو درپیش اہم مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔

ایک متفقہ اور پرامن انتخابی عمل کے ذریعے چوہدری ذوالفقار کو انجمن تاجران بیول کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ ان کے ہمراہ ایک تجربہ کار اور پرعزم ٹیم کام کرے گی، جن میں ملک بشیر وارثی اور چوہدری عمران بطور نائب صدور، راجہ نعیم جنرل سیکریٹری، ذیشان شہزاد وارثی جوائنٹ سیکریٹری، شیخ ادریس فنانس سیکریٹری، اور مبین ہاشمی میڈیا ایڈوائزر کے طور پر شامل ہیں۔ نو منتخب عہدیداران نے اپنی ذمہ داریاں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ سنبھال لی ہیں۔

اس تنظیم کے قیام کی بات سب سے پہلے اپریل 2025 میں بیول یونین کونسل آفس میں ہونے والے ایک اجلاس میں سامنے آئی تھی، جو بیول پریس کلب کے نئے عہدیداروں کی تشکیل کے بعد منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں مقامی صحافیوں اور عوامی نمائندوں نے شہر کو درپیش بڑے مسائل کی فہرست مرتب کی تھی، جس میں انجمن تاجران کا قیام ایک اہم ترجیح کے طور پر شامل تھا۔

اب جب کہ انجمن قائم ہو چکی ہے، قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایک منظم اور شفاف نظام کے تحت محصولات اور فنڈز کی وصولی کو یقینی بنانا ہے۔ بیول کی عوام امید کرتی ہے کہ یہ تنظیم تاجروں کو متحد کرے گی اور مارکیٹ و انفراسٹرکچر سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بیول کے تمام ذمہ دار اور باشعور تاجر اس نئے اقدام کی بھرپور حمایت کریں گے اور انجمن تاجران بیول کو ایک کامیاب اور مثالی تنظیم بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

Gujar Khan:  – August 04, 2025 (Pothwar.com):  After months of deliberation and demand from the business community, the long-awaited formation of the Traders’ Union (Anjuman Tajiran) in Bewal has finally been realised. The new union was formed with a spirit of mutual understanding and unity among local traders, aiming to address key issues faced by the business sector in the area.

In a unanimous and peaceful process, Chaudhry Zulfiqar was elected as the President of the union. He will be supported by a competent team, including Malik Bashir Warsi and Chaudhry Imran as Vice Presidents, Raja Naeem as General Secretary, Zeeshan Shehzad Warsi as Joint Secretary, Sheikh Idrees as Finance Secretary, and Mubeen Hashmi as Media Advisor. The newly appointed officials have already begun their work enthusiastically.

The establishment of the union was first discussed during a meeting held at the Union Council Office Bewal, in April this year, following the formation of the new body of the Press Club, Bewal. At that time, local journalists and public representatives compiled a list of major issues affecting the town, with the formation of a Traders’ Union being listed as a key priority.

Now, with the union in place, the leadership faces a major challenge: to introduce an organised system for collection and funding that ensures transparency and efficiency. The community hopes that the union will not only unify the traders but also play a vital role in resolving the longstanding issues of Bewal’s marketplace and infrastructure.

It is expected that all responsible and aware traders of Bewal will fully support this new initiative and contribute to making Anjuman Tajiran Bewal a successful and exemplary organisation.

بھڈانہ میں کشیدگی: غیر قانونی افغانوں کی تلاش پر پولیس اور مدرسہ طلبا آمنے سامنے، ڈنڈے اٹھا کر احتجاج

Tension in Bhadana: Madrasa Students Protest with Sticks Against Police Over Alleged Misconduct During Afghan Nationals’ Search Operation

گوجر خان (پوٹھوار ڈاٹ کوم – 04 اگست 2025)نواحی علاقہ بھڈانہ میں اُس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی جب مقامی مدرسے کے درجنوں طلبا ڈنڈے اٹھا کر پولیس کے سامنے آ گئے اور بھرپور احتجاج کیا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقامی پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے بھڈانہ کی ایک مسجد کے ساتھ واقع گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ اس گھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے موجود ہیں، جنہیں گرفتار کر کے ملک بدر کرنا مقصود تھا۔

ذرائع کے مطابق جب پولیس ٹیم وہاں پہنچی تو مدرسے کے قاری نوید نے پولیس کو بتایا کہ گھر کے مرد حضرات کام پر گئے ہوئے ہیں اور اس وقت گھر میں صرف خواتین موجود ہیں، لہٰذا گھر کے اندر داخل نہ ہوا جائے۔ اس بات پر قاری نوید اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اور مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار نے قاری نوید پر ہاتھ اٹھایا، جس پر صورتحال بگڑ گئی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مدرسے کے طلبا مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے ڈنڈے اٹھا لیے اور مدرسے سے نکل کر سڑک پر آ گئے۔ طلبا نے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور واقعے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور کچھ دیر بعد واپس چلے گئے۔

مدرسہ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے ادارے میں کوئی افغانی طالبعلم زیر تعلیم نہیں ہے، اور پولیس کا رویہ بلاجواز اور اشتعال انگیز تھا۔

پولیس اور مدرسہ انتظامیہ کے درمیان اس واقعے کے بعد سے شدید تناؤ پایا جا رہا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان آج ایک بار پھر مذاکرات متوقع ہیں تاکہ معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس میں طلبا کو ڈنڈے اٹھائے نعرے بازی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کارروائیاں حدود میں رہ کر کریں، اور مذہبی اداروں کے احترام کا خاص خیال رکھا جائے۔

Show More

Related Articles

Back to top button