لندن (پوٹھوار ڈاٹ کام، محمد نصیر راجہ، 19 اپریل 2026): برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جب ایک برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بعض تارکینِ وطن کو ملک میں قیام کے لیے جھوٹے دعوے کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، جن میں خود کو ہم جنس پرست یا گھریلو تشدد کا شکار ظاہر کرنا شامل ہے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے مضبوط حفاظتی اقدامات موجود ہیں جن کے ذریعے ہر دعوے کا سخت اور منصفانہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق محکمہ داخلہ اور امیگریشن سے متعلق مشاورت کے نگران ادارہ مل کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ امیگریشن نظام کا غلط استعمال کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے نظامِ پناہ میں مکمل اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جھوٹے دعوؤں کی روک تھام کی جا سکے۔
حکام کے مطابق پہلے ہی ایسے بڑھتے ہوئے رجحان کی تحقیقات جاری تھیں جس میں کچھ افراد خود کو ہم جنس پرست ظاہر کر کے پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ گھریلو تشدد کے متاثرین کے لیے بنائے گئے قوانین کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی خدشات سامنے آئے تھے۔ اب نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں سامنے آنے والے افراد اور اداروں کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے تارکینِ وطن جن کے ویزے ختم ہونے کے قریب ہوتے ہیں، انہیں جعلی کہانیاں تیار کرنے اور فرضی شواہد حاصل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جن میں حمایتی خطوط، تصاویر اور طبی رپورٹس شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بعض قانونی مشیر اور ادارے ہزاروں پاؤنڈ فیس لے کر تارکینِ وطن کو یہ سکھاتے ہیں کہ وہ خود کو ہم جنس پرست ظاہر کریں اور دعویٰ کریں کہ اگر انہیں پاکستان یا بنگلہ دیش واپس بھیجا گیا تو ان کی جان کو خطرہ ہوگا، تاکہ وہ پناہ کے لیے درخواست دے سکیں۔
مزید برآں، کچھ افراد نے گھریلو تشدد کے متاثرین کے لیے متعارف کرائے گئے قوانین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جلد مستقل رہائش حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بعض معاملات میں تارکینِ وطن نے برطانوی شہریوں کے ساتھ تعلقات یا شادی کر کے بعد میں جھوٹے گھریلو تشدد کے دعوے دائر کیے۔
اعداد و شمار کے مطابق گھریلو تشدد کی بنیاد پر تیز رفتار مستقل رہائش حاصل کرنے کے دعوؤں کی تعداد سالانہ پانچ ہزار پانچ سو سے تجاوز کر چکی ہے، جو گزشتہ تین برسوں میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنسی رجحان کی بنیاد پر پناہ کے دعوؤں میں پاکستان سرفہرست رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نظام کو شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے، جبکہ حقیقی مستحقین کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی رہے۔
London (Pothwar.com, Mohammad Naseer Raja, April 19, 2026): The UK government is investigating after BBC reports revealed some migrants are being advised to make false claims they are gay or a victim of domestic abuse in order to stay in the country.
The UK government said there were “robust safeguards” to make sure claims are “rigorously and fairly assessed”.
The Home Office and the regulator, the Immigration Advice Authority, were working to ensure “anyone potentially abusing our immigration system is held accountable”.
Opposition parties have called for a complete overhaul of the asylum system to prevent false claims.
The Home Office was already looking into a growing trend of fake claims from people pretending to be gay, as well as concerns that rules designed to protect victims of domestic violence are being exploited.
It is now investigating the individuals and organisations highlighted by the BBC’s reporting.
A BBC investigation has uncovered how migrants whose visas are due to run out are being given fake cover stories and instructed in how to obtain fabricated evidence, including supporting letters, photographs and medical reports.
In some cases, law firms and advisers are charging thousands of pounds to advise migrants how they can claim to be gay and in fear for their lives if they return to Pakistan or Bangladesh, in order to apply for asylum.
The BBC has also discovered how some migrants are exploiting rules brought in by ministers to help genuine victims of domestic abuse to secure permanent residence more quickly than through other routes, such as asylum.
In some cases, migrants have duped British partners into relationships and marriage before making fake domestic abuse claims after moving to the UK.
The number of people claiming fast-track residency on the basis of domestic abuse has now reached more than 5,500 a year – a number which has risen by more than 50% in just three years.
Pakistan had the most asylum claims citing sexual orientation
ایسے لوگ جو غلط تربیت دیتے ھیں اور نظام کو نقصان پہنچاتے ھیں، پاکستان آ جاتے ھیں اور مال یہاں انویسٹ کرتے ھیں یا پھر دبئ میں۔ اور یہاں گمنامی اختیار کرلیتے ھیں۔