مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ، 31مئی2026) پنج پیر راکس پر کلرسیداں سے آئے سیاحوں کی ہوٹل پر روٹی لیٹ ملنے پر ہوٹل مالکان سے تلخ کلامی،ہوٹل مالکان باپ بیٹے نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سیاحیوں پر حملہ،شدید زخمی کرنے کے بعد گہری کھائی میں پھینک دیا،بازوں اور ٹانگیں ٹوٹ گیں،موبائل فون چھین لیے اور گاڑی بھی خراب کر دی پولیس تھانہ کہوٹہ میں زیر دفعہ 324ت پ،148ت پ اور149ت پ کے مقدمہ درج کر لیا،تفصیل کے مطابق پولیس تھانہ کہوٹہ میں مسمی ارسلان نعیم ولد چوہدری محمد آمین سکنہ پھلینہ ڈاکخانہ خاص در کالی کلر سیداں نے درخواست دیتے ہوئے کہا کہ میں ٹی ایم اے میں سرکاری ملازم ہوں مورخہ 28.05.26 3/30 جیدن میرا حقیقی بھائی ہمراہ کس قریبی عزیز ا ریحان التار ولد محمد القارح حسن النار ولد النار 3 مراج عزیز ولد عبد الشکور 14 حسن مختار ولدمحمد مختار بلال ولد امیر افضل 6 محمدندیم ولد محمدکاظم ریحان خالد ولد محمد خالد 8 د ولد محمد ضمیر 9 محمد توصیف ولد محمد ملازم 10 محمد کامران ولد چوہدری محمد آمین سکنائے پھلینہ بسواری پرائیویٹ گاڑی کیری ڈبہ نمبری 2222 پنجاہ صاحب کی زیارت کے لیے گئے وہاں پہنچ کرکھانا کھانے کے لیے ہوٹل کانچ کر ملیاری رتہ بیٹھے تو ہوٹل کے مالک ظہیر محمود اور اس کے بیٹے عاقب ظہیر کو کھانے کا آرڈر دیا دوران کھانا سالن اور روٹی تاخیر سے ملنے پر ہر دو کو روٹی اور سالن کے لیے آواز دی جنہوں نے تلخ لہجہ استعمال کرتے ہوئے صبر کرنے کو کہا جس پر کورہ بالا اشخاص نے ایسا رویہ استعمال کرنے سے منع کیا ہوٹل کے مالک عاقب ظہیر نے کہا اب تم نے روٹی مانگی تو یہ سیخ تمہارے اندر کر دیں گے ایسی توں تکرار پر ہر دو باپ بیٹے نے ہمیں مار نا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر بعد گاؤں کے دیگر 15/20 بندروں کو بلایا اور ہم سب کے مو بائل چھین لیے اور ہماری گاڑی کو پابند کر کے گاڑی کا ریڈ یٹر خراب کر دیا تا کہ گاڑی چل نہ سکے مسمی عاقب ظہیر ولد ظہیر نے میرے بھائی کو تیز دار آجر سے مضروب کیا اور دونوں باپ بیٹے نے میرے بھائی کو گہری کھائی میں پھینک دیا اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دوسرے 9 کسی ساتھیوں کو خوف میں مبتلا کیا تقریبا 11/30 بحیرات ندیم ولد کا ظم کے فون آنے پر پتہ چلا کہ ان کے ساتھ ہوٹل اور گاؤں کے لوگوں نے لڑائی ہوئی تھی جس پر میں نے 15 کال کی تو مقامی پولیس کو ہمراہ ساتھ لے جاکر بر موقع اپنے بھائی اور کس کو برآمد کر وایا اور اپنے بھائی کو گہری کھائی سے نکالا نظری ملاحظہ کرنے پر بازو اور ٹا نگیں ٹوٹی ہوئی تھی اور بھی گہری ضربات لگی ہوئی تھی ملہ ساتھ گئے لڑکے بھی لاتوں ملکوں اور ڈنڈوں کی وجہ سے زخمی پائے گئے جبکہ بر موقع سے عملہ ہوٹل اور ان کے ہمراہی اشخاص جن کی تعداد 15/20 تھی ہوٹل چھوڑ کر بھاگ چکے تھے میں نے اپنے بھائی اور دیگر ان کو THQ پتہ پر لے آیا ہوں آپ آگئے ہیں قانونی کاروائی کی جائے۔
Mator, Kahuta (Pothwar.com – Kabir Ahmed Janjua, May 31, 2026) A violent altercation at the scenic Panj Peer Rocks tourist site led to the serious injury of several visitors after a dispute over delayed food service at a local hotel, according to a police case registered at Kahuta Police Station.
According to the First Information Report (FIR), complainant Arsalan Naeem, a government employee and resident of Phalina, Kallar Syedan, stated that on May 28, 2026, he, his brother, and several relatives and friends travelled to the area after visiting Gurdwara Panja Sahib. The group stopped at a hotel near Panj Peer Rocks for a meal.
The complainant alleged that after food and bread were served late, members of the group requested the hotel staff to expedite the service. This reportedly led to a heated exchange with hotel owner Zaheer Mahmood and his son Aqib Zaheer. Witnesses claim that Aqib Zaheer threatened the visitors and soon afterwards, both father and son allegedly began assaulting them.
The FIR states that the hotel owners later called 15 to 20 additional individuals from the nearby village, who joined the attack. The accused allegedly snatched the tourists’ mobile phones, damaged their vehicle by disabling its radiator, and prevented them from leaving the area.
The most serious allegation concerns Arsalan Naeem’s brother, who was reportedly struck with a sharp-edged tool by Aqib Zaheer before being thrown into a deep ravine by the accused. As a result, he suffered multiple serious injuries, including fractures to his arms and legs. Other members of the group also sustained injuries from kicks, punches, and sticks.
The complainant further alleged that the attackers resorted to aerial firing, creating fear and panic among the remaining tourists.
After receiving information about the incident, Arsalan Naeem contacted emergency services. Police reached the scene, recovered the injured victims, and rescued his brother from the ravine. The injured were later shifted to THQ Hospital for medical treatment.
Kahuta Police have registered a case under Sections 324, 148, and 149 of the Pakistan Penal Code and have initiated legal proceedings. Further investigation is underway.
کہوٹہ، کوٹلی ستیاں اور مری کے سرکاری جنگلات میں خوفناک آگ، لکڑی چوروں پر آگ لگانے کا الزام، آبادیوں کو خطرہ
Massive Forest Fire Engulfs Government Woodlands in Kahuta Region; Timber Thieves Blamed as Flames Threaten Nearby Communities
مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ، 31مئی2026) تحصیل کہوٹہ اور ملحقہ سرکاری جنگلات میں لکڑی چوروں نے آگ لگا دی ہرسال کٹے ہوئے درختوں کے نشانات مٹانے کیلے باقاعدگی سے آگ لگادی جاتی ہے۔ جنگلی جانور۔ چرند پرند گزشتہ پانچ دن سے شدید آگ کی لپیٹ میں آکرجل کر خاک ہو گے۔ آگ تیزی سے سرکاری جنگلات نمبرز 43. 52 اور 54 سے ہوتی ہوئی گزارہ۔آبادی ایریا کی طرف بڑھنے لگی۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر راولپنڈی مسز ارم منیر تین رات سے جنگلات میں موجودجبکہ اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ شیریں گل کے احکامات پر محکمہ سول ڈیفنس کہوٹہ کے عبد الشکور کھٹڑ،محمد عمر،عثمان فضل،ریسکیو1122 ٹیم کہوٹہ،میونسپل کمیٹی کہوٹہ کے سب انجینئر حبیب اللہ شہزاد سمیت عملہ مسلسل دشوار گزار علاقوں میں پہاڑوں کے راستہ سے میلوں پیدل چل کر آگ بجھانے میں مصروف ہے۔ دھلیتر کے جنگلات میں خوفناک آگ، جنگل نمبر 43۔۔۔53 اور 52، گاؤں لہتراڑ۔دھلیتر (کہوٹہ) میں گزشتہ تین روز سے شدید آگ بھڑک اٹھی ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں، گھنے سرکاری جنگلات اور بلند و بالا درختوں میں آگ بجھانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر راولپنڈی مسز ارم منیر مری اور کوٹلی ستیاں سے کہوٹہ گزشتہ رات پہنچیں۔ مسلسل رات موقع پر موجود رہیں۔جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ شیریں گل کے احکامات پر سول ڈیفنس کہوٹہ کے عبدالشکور کھٹر، محمد عمر اور عثمان فضل رات کی تاریکی میں سرکاری جنگل کے اندر جا کر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر شدید گرمی اور دشوار گزار علاقوں میں پوری رات آگ بجھانے میں مصروف رہے۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر راولپنڈی مسز ارم منیر بھی اپنی ٹیم وعملہ کے ہمراہ رات کو جنگلات میں موقع پر موجود رہیں۔ سول ڈیفنس کہوٹہ، ریسکیو 1122، میونسپل کمیٹی کہوٹہ، محکمہ جنگلات کے افسران، اہلکاران اور مقامی افراد بھی آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل سرگرم رہے۔ آگ تحصیل کہوٹہ، کوٹلی ستیاں اور مری کے جنگلات سے بڑھتے ہوئے آبادی والے علاقوں اور گھروں کے قریب پہنچ گئی ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
Youm-e-Takbeer Symbolizes National Sovereignty and Defense
یومِ تکبیر قومی خودمختاری اور دفاع کی علامت ہے
مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ، 31مئی2026) معروف سیاسی وسماجی شخصیات راجہ امتیاز یعقوب جنجوعہ آف سہر راجگان حال مقیم یو کے،راجہ فیاض یعقوب جنجوعہ صدر مسلم لیگ ن یوسی لہڑی،راجہ وقار احمد جنجوعہ آف سہر راجگان حال مقیم یو کے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یوم تکبیر ہماری قومی خود مختاری، سلامتی اور دفاع کی علامت ہے۔ 28 مئی 1998 ء کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے دشمن قوتوں کو واضح پیغام دیا۔محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جو ملک پر احسان کیا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ان کی وجہ سے آج دشمن ملک کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے غیر ملکی دباو اور اربوں روپے کی آفر کو ٹھکرا کر بھارت کے دھماکوں کے مقابلے میں چھ دھماکے کر کے بھارت کو چھکے چھڑا دیے تھے،انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آج نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور علم و شعور سے لیس ہو کر وطن کی خدمت کریں انہوں نے کہا کہ یوم تکبیر ہمیں اتحاد، قربانی اور خود انحصاری کا درس دیتا ہے۔ یہ دن پوری قوم کے لیے فخر اور سر بلندی کا دن ہے۔
Another Life Lost in Nograan Triple Murder Case
نوگراں تہرے قتل کیس میں ایک اور جان چلی گئی
مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ، 31مئی2026) نوگراں کے مشہور تہرے قتل کیس میں ایک اور جان چلی گئی،7ماہ سے زندگی و موت کی جنگ لڑنے والا محمد شہزاد حرف جید ی دم توڑ گیانوگراں تہرے قتل کیس میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہو گئی، ورثاء کا پولیس پر اصل ملزمان گرفتار نہ کرنے کا الزام تفصیل کے مطابق پولیس تھا نہ کہوٹہ کے علاقہ نوگراں میں 10 اکتوبر 2025 کو پیش آنے والے مشہور تہرے قتل کیس میں شدید زخمی ہونے والا محمد شہزاد عرف جیدی بھی زندگی کی بازی ہار گیا۔تفصیلات کے مطابق فائرنگ کے واقعہ میں محمد بشارت، محمد نصیر اور شہزاد موقع پر جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ محمد شہزاد عرف جیدی شدید زخمی ہو گیا تھا۔ تقریباً 7 ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد آج وہ بھی دم توڑ گیا۔ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود پولیس اصل ملزمان گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
Exemplary Cleanliness and Security Arrangements in Kahuta on Eid-ul-Adha
عیدالاضحیٰ پر کہوٹہ میں مثالی صفائی و سکیورٹی انتظامات
کہوٹہ (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام، عمران ضمیر | 31 مئی 2026) عیدالاضحیٰ کے موقع پر تحصیل کہوٹہ میں سکیورٹی، صفائی ستھرائی اور آلائشوں کی بروقت تلفی کے حوالے سے مثالی انتظامات دیکھنے میں آئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے “صاف ستھرا پنجاب” پروگرام کے تحت ضلعی و تحصیل انتظامیہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا۔
اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ شیریں گل، ڈی ایس پی وقار عظیم، ایس ایچ او کہوٹہ راجہ ندیم، چیف میونسپل آفیسر عمیر سلطان، میونسپل آفیسر ریگولیشن مسز شیزا، سب انجینئر حبیب اللہ شہزاد، انچارج آر ڈبلیو ایم سی ماجد ستی اور دیگر افسران نے صفائی اور سکیورٹی انتظامات کی مسلسل نگرانی کی۔ آلائشیں اور کچرا اٹھانے کے لیے صفائی عملہ دن بھر اور رات گئے تک ڈیوٹی پر موجود رہا۔
عوامی و سماجی حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر شیریں گل، جی ایم رانا شعیب اور صفائی عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک محنت اور مؤثر حکمت عملی کے باعث شہر، گلی محلوں، مرکزی شاہراہوں اور تجارتی مراکز کو صاف ستھرا رکھا گیا۔
شہریوں، تاجر برادری اور سول سوسائٹی نے انتظامیہ کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ صفائی ستھرائی کا یہ معیار مستقبل میں بھی برقرار رکھا جائے گا تاکہ شہر کی خوبصورتی اور عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
One Youth Killed, Another Critically Injured in Truck and Motorcycle Collision Near Sakhi Sabzwari Mor
کہوٹہ سخی سبزواری موڑ کے قریب ٹرک اور موٹر سائیکل میں تصادم، ایک نوجوان جاں بحق
کہوٹہ (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، عمران ضمیر | 31 مئی 2026) تھانہ کہوٹہ کے علاقہ سخی سبزواری موڑ کے قریب ٹرک اور موٹر سائیکل کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق حادثے میں موٹر سائیکل سوار نوجوان محمد مراد ولد محمد ظہور سکنہ بنڈھیا موقع پر جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کا ساتھی عبداللہ ولد محمد یاسین سکنہ دوبیرن خورد شدید زخمی ہو گیا۔
زخمی نوجوان کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔