02 August 2026DailyNewsGujarKhanHeadlinePothwar.com

Gujar Khan: Punjab Food Authority Seizes 425kg of Adulterated Butter in a Raid

گوجرخان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا کریک ڈاؤن، جعلی لیبل لگا کر مضر صحت مکھن تیار کرنے والا غیر قانونی یونٹ بے نقاب

گوجر خان (پوٹھوار ڈاٹ کام | 02 اگست 2026) پنجاب فوڈ اتھارٹی راولپنڈی نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے گوجرخان میں ایک نجی رہائش گاہ کے اندر قائم غیر قانونی مکھن تیار کرنے والے یونٹ کا سراغ لگا لیا۔ کارروائی کے دوران فوڈ سیفٹی ٹیم نے 425 کلوگرام ملاوٹ شدہ اور انسانی صحت کے لیے مضر مکھن قبضے میں لے کر موقع پر ہی تلف کر دیا۔ لیبارٹری تجزیے میں مکھن میں بناسپتی گھی کی ملاوٹ اور خمیر (Yeast) کی مقررہ حد سے زیادہ مقدار کی تصدیق ہوئی، جس کے باعث یہ مصنوعات انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی پنجاب فوڈ اتھارٹی راولپنڈی کی فوڈ سیفٹی آفیسر سروش یوسف نے اپنی ٹیم کے ہمراہ خفیہ اطلاع موصول ہونے پر کی۔ اطلاع میں بتایا گیا تھا کہ گوجرخان کے وارڈ نمبر 01 میں واقع ایک گھر کے اندر غیر معیاری ڈیری مصنوعات، خصوصاً مکھن، تیار کیا جا رہا ہے۔

چھاپے کے دوران معائنہ کرنے پر حکام کو یونٹ میں بھاری مقدار میں بناسپتی گھی موجود ملا، جسے مبینہ طور پر مکھن میں ملا کر تیار کیا جا رہا تھا۔ فوڈ سیفٹی حکام کے مطابق مکھن میں بناسپتی گھی کی آمیزش فوڈ سیفٹی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور ملاوٹ کے زمرے میں آتی ہے۔ موقع سے حاصل کیے گئے نمونے لیبارٹری بھجوائے گئے، جہاں تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مکھن میں بناسپتی گھی کی ملاوٹ کی جا رہی تھی جبکہ اس میں خمیر کی مقدار بھی مقررہ قانونی حد سے تجاوز کر چکی تھی، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔

فوڈ سیفٹی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ یونٹ میں مکھن کی تیاری پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مقرر کردہ فوڈ سیفٹی معیارات کی سنگین خلاف ورزی تھی اور یہ عمل پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ عوامی صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر موقع پر موجود 425 کلوگرام ملاوٹ شدہ مکھن فوری طور پر قبضے میں لے کر تلف کر دیا گیا تاکہ اسے مارکیٹ میں فروخت ہونے سے روکا جا سکے۔

مزید تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ غیر قانونی یونٹ  کے نام سے کام کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق یہاں تیار کیا جانے والا مکھن معروف برانڈز کے جعلی لیبل لگا کر پیک کیا جا رہا تھا، جبکہ صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے پیکنگ پر اسلام آباد اور فیصل آباد کے جعلی پتے درج کیے جاتے تھے تاکہ مصنوعات کو مستند برانڈ ظاہر کر کے مارکیٹ میں فروخت کیا جا سکے۔

فوڈ اتھارٹی حکام نے جعلی برانڈنگ اور گمراہ کن لیبلنگ کو صارفین کو دھوکہ دینے اور مصنوعات کی اصل شناخت چھپانے کی منظم کوشش قرار دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملاوٹ شدہ مکھن انہی معروف برانڈز کے نام پر مختلف علاقوں کی مارکیٹوں میں سپلائی کیا جا رہا تھا۔

کارروائی کے بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی نے یونٹ کے مالک ایم آصف کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ گوجرخان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا جا رہا ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ملاوٹ مافیا اور جعلی خوراک تیار کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اتھارٹی نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی مقام پر ملاوٹ شدہ یا غیر قانونی طور پر تیار کی جانے والی خوراک کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کو آگاہ کریں تاکہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

Gujar Khan (Pothwar.com | 02 August, 2026):   Acting on confidential intelligence, the Punjab Food Authority (PFA) Rawalpindi conducted a successful raid in Gujjar Khan, uncovering an illegal butter manufacturing unit operating inside a private residence. During the operation, authorities seized and destroyed 425 kilograms of adulterated and unsafe butter after laboratory tests confirmed the presence of vanaspati ghee and excessive yeast levels, posing a serious risk to public health.

According to official sources, the raid was led by Food Safety Officer Saroosh Yousaf, accompanied by a team of Punjab Food Authority officials. The operation was carried out following a tip-off regarding the production of substandard dairy products at a house located in Ward No. 01, Gujjar Khan.

During the inspection, officials discovered large quantities of vanaspati ghee, which was allegedly being mixed with butter in violation of food safety regulations. Samples collected from the site were sent to a laboratory for analysis. The laboratory report confirmed that the butter contained vanaspati ghee adulteration, while the level of yeast exceeded the permissible safety limits, rendering the product hazardous for human consumption.

Food Safety officials stated that the manufacturing process violated the Punjab Food Authority’s food safety standards and constituted a serious offence under the Punjab Food Authority Act. The adulterated butter was immediately confiscated and destroyed on-site to prevent it from reaching consumers.

Further investigation revealed that the illegal unit was operating under the name “MK Brand Dairy Processing Unit.” Authorities alleged that the products were being packaged with counterfeit labels of well-known brands, including Lyallpur Butter and Tazo Butter, and falsely marketed using addresses from Islamabad and Faisalabad to mislead consumers and facilitate their sale in the market.

Officials described the use of fake branding and misleading labeling as an attempt to deceive consumers and conceal the true origin of the products. The adulterated butter was reportedly being distributed in the market under the names of these established brands.

Following the raid, the Punjab Food Authority initiated legal action against the owner of the unit, identified as M. Asif. Authorities confirmed that a criminal case is being registered against him at Gujar Khan Police Station under the relevant provisions of the Punjab Food Authority Act.

The Punjab Food Authority reiterated its commitment to ensuring food safety across the province and warned that strict action would continue against individuals involved in the production and sale of adulterated or counterfeit food products. The authority also urged citizens to report any suspected food adulteration or illegal food manufacturing activities to help protect public health.

گوجر خان: بیول گرین ٹیم کی جانب سے شجر کاری مہم کا باقاعدہ آغاز، ماحول کے تحفظ کا عزم

Tree Plantation Drive Launched by Beawal Green Team in Gujar Khan to Promote Environmental Protection

گوجر خان (پوٹھوار ڈاٹ کام | راجہ طارق ایوب,02 اگست 2026)–بیول گرین ٹیم کی جانب سیبیول اور اس کے گردو نواح میں آج باقاعدہ شجر کاری مہم کا آغاز کیا گیا۔اس شجر کاری مہم کی تقریب گرین ٹیم کے زیر اہتمام بیول یونین کو نسل میں منعقد کی گئی۔جس میں چوہدری رشید،ملک ادریس،ملک فیاض،راجہ احسان،حنیف ملنگی،فراز خان،حافظ نزاکت،حافظ اللہ دتہ،عتیق بھٹی،اور اہل علاقہ کے ساتھ ساتھ جوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔گرین ٹیم بیول کے ممبرز ثاقب وارثی،راجہ ماجد،عبدالصبور، حارث سجاد،اور دیگر ٹیم ممبرز نے بھی شرکت کی۔ گرین ٹیم بیول کے سرپرست اعلیٰ سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری وسیم (حال مقیم فرانس) ہیں جن کی سرپرستی میں یہ ٹیم شجر کاری مہم کو چلائے گی اور دیکھ بھال کرے گی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت سے کیا گیا۔جس کی سعادت حافظ نزاکت اور حافظ اللہ دتہ نے حاصل کی۔چوہدری رشید نے شرکائے محفل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرین ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے اور آپ لوگ ان سے تعاون کریں آپ کے فائدے کے لئے یہ لوگ کام کر رہے ہیں درخت لگانا صدقہ ہے اور اس کی حفاظت بھی کرنا لازمی ہے۔ملک فیاض سندھو نے کہا کہ ہم لوگوں کو درختوں کی قدر کرنی چاہیۓ اور ان کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے درخت ہمارے لئے ٹھنڈی ہوا، سایہ اور سبزہ فراہم کرتے ہیں۔آپ تمام لوگ گرین ٹیم کی اس کاوش میں ان کا ساتھ دیں۔تقریب کے اختتام پر دعا مانگی گئ اور شرکاء کی مشروبات اور سویٹس سے تواضع کی گئی۔معزز ممبران نے باقاعدہ پودے لگا کر شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button