28 September 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

Stoke on Trent: Ten Men Jailed for Combined 130 Years After Mother Set on Fire

اسٹوک آن ٹرینٹ; انتقامی حملے میں ماں کو آگ لگانے والے دس افراد کو مجموعی طور پر تقریباً 130 سال قید

لندن (پوٹھوارڈاٹ کام – محمد نصیر راجہ – 28 ستمبر 2025): اسٹوک آن ٹرینٹ میں ایک انتقامی حملے کے دوران ایک ماں کو آگ لگانے اور ایک تیرہ سالہ لڑکی کو شدید زخمی کرنے کے جرم میں دس افراد کو مجموعی طور پر تقریباً ایک سو تیس سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

یہ واقعہ 16 دسمبر 2021 کی رات اسٹوک آن ٹرینٹ کے بیورلی ڈرائیو میں واقع ایک گھر میں پیش آیا۔ آگ سے بچنے کے لیے دونوں متاثرہ افراد کو اوپری منزل کی کھڑکی توڑ کر وہاں سے چھلانگ لگانا پڑی۔

اس مقدمے میں دس افراد کو مختلف جرائم میں سزا سنائی گئی۔ ان میں سے بعض نے مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا تھا، جبکہ دیگر کے خلاف نوٹنگھم کی شاہی عدالت میں گیارہ ہفتے تک مقدمہ چلتا رہا، جو فروری میں اختتام پذیر ہوا۔

اسٹافورڈ شائر پولیس کے محکمہ تفتیشِ سنگین جرائم سے وابستہ تفتیشی افسر ہاورڈ ڈیوس نے واقعے کو انتہائی ہولناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تشدد سے انسانی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سزائیں ایک طویل اور پیچیدہ تفتیش کے اختتام کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق یہ انتہائی سنگین اور پرتشدد واقعات کا سلسلہ تھا جس کے نتیجے میں ایک ماں کو ایسی چوٹیں آئیں جنہوں نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔

ہاورڈ ڈیوس نے متاثرین کی غیر معمولی ہمت اور ثابت قدمی کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں متاثرین نے ناقابلِ تصور جسمانی اور ذہنی صدمہ برداشت کیا۔

لیسٹر کی شاہی عدالت میں سات افراد کو سزائیں

جمعہ کے روز سات افراد کو لیسٹر کی شاہی عدالت میں سزائیں سنائی گئیں، جبکہ تین دیگر افراد کو اس سے قبل اسٹوک آن ٹرینٹ کی شاہی عدالت میں سزا دی جا چکی تھی۔

شکیل الدین، عمر 23 سال، اولڈہم، کو اقدامِ قتل اور انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی کے جرم میں 34 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

علی عباس، عمر 23 سال، نورماکاٹ، اسٹوک آن ٹرینٹ، کو دو مرتبہ اقدامِ قتل، انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی، پرتشدد ہنگامہ آرائی، سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت اور عوامی مقام پر چاقو رکھنے کے جرائم کا اعتراف کرنے کے بعد 25 سال قید کی سزا دی گئی۔

حارث محمود، عمر 22 سال، نورماکاٹ، کو دو مرتبہ اقدامِ قتل اور انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی کا اعتراف کرنے کے بعد 24 سال 9 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

ریاض اقبال، عمر 23 سال، نورماکاٹ، کو سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت اور انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی کے جرم میں 12 سال 6 ماہ قید کی سزا دی گئی۔

لقمان خان، عمر 25 سال، نورماکاٹ، کو سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت اور انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی کے جرم میں 12 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

محمد سفیان شاہ، عمر 25 سال، اولڈہم، کو سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت کے جرم میں 11 سال 6 ماہ قید کی سزا دی گئی۔

طیب مجید، عمر 24 سال، لونگٹن، کو سنگین جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت کے جرم میں 10 سال 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

کاشف احمد، عمر 26 سال، ہینلی، کو پرتشدد ہنگامہ آرائی کا اعتراف کرنے پر 7 جولائی کو 48 ہفتے قید کی سزا سنائی گئی۔

نوید حسین، عمر 32 سال، لونگٹن، کو پرتشدد ہنگامہ آرائی اور عوامی مقام پر چاقو یا تیز دھار چیز رکھنے کا اعتراف کرنے پر 3 جون کو 22 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، تاہم یہ سزا 18 ماہ کے لیے معطل کر دی گئی۔

بلال احمد، عمر 27 سال، نورماکاٹ، کو پرتشدد ہنگامہ آرائی کا اعتراف کرنے پر 3 جون کو 15 ماہ کی معطل قید اور 100 گھنٹے بلا معاوضہ سماجی خدمت کی سزا دی گئی۔

حملہ کیسے کیا گیا؟

عدالت کو بتایا گیا کہ 16 دسمبر 2021 کو تقریباً شام چار بجے لونگٹن کی کِلڈیر اسٹریٹ پر ایک لڑائی ہوئی، جس میں حسین، بلال احمد، کاشف احمد اور عباس شامل تھے۔

اس دوران کاشف احمد کے کندھے پر چاقو کا زخم آیا اور اسے بعد میں اسپتال لے جایا گیا۔

اسی رات تقریباً گیارہ بجے مسلح افراد کا ایک گروہ اسٹوک آن ٹرینٹ کے بیورلی ڈرائیو میں واقع ایک گھر پہنچا اور حسین سے بات کرنے کا مطالبہ کیا۔

گروہ نے گھر کی نچلی منزل کی کھڑکیاں توڑ دیں اور راہداری کے اندر اور بیٹھک کی کھڑکی کے باہر پٹرول چھڑک دیا۔

ماں کا جسم 65 فیصد جھلس گیا

پولیس کے مطابق گھر کے اندر موجود 31 سالہ خاتون کے سر پر حملہ کیا گیا اور اسے آگ لگا دی گئی۔

خاتون کے جسم کا 65 فیصد حصہ جھلس گیا۔ اس کے علاوہ اس کی کمر کی ہڈی اور کئی پسلیاں ٹوٹ گئیں جبکہ جگر بھی زخمی ہوا۔

ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کو خدشہ تھا کہ خاتون زندہ نہیں بچ سکے گی۔ وہ تقریباً دو ماہ تک بے ہوشی کی حالت میں رہی، بعد ازاں اس نے دوبارہ چلنا سیکھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اسے آئندہ زندگی بھر طبی علاج کی ضرورت پڑنے کا امکان ہے۔

گھر میں موجود تیرہ سالہ لڑکی بھی آگ کی زد میں آئی اور اس کے دائیں بازو کا تقریباً 15 فیصد حصہ جھلس گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا

تفتیشی افسر ہاورڈ ڈیوس نے کہا کہ پولیس کو امید ہے کہ ان سزاؤں سے یہ واضح پیغام جائے گا کہ اس نوعیت کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ دار افراد کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔

London (Pothwar.com – Mohammad Naseer Raja – September 28, 2025): Ten men have been jailed for a combined 130 years after a mother was set on fire in a revenge attack that also seriously injured a teenage girl.

To escape the flames at a house on Beverley Drive in Stoke-on-Trent, on the night of 16 December 2021, both victims were forced to jump from an upstairs window they had smashed.

The convictions of the 10 men involved came after an 11-week trial at Nottingham Crown Court, which ended in February, alongside a number of guilty pleas entered before the trial began.

Det Con Howard Davies from Staffordshire Police’s major investigations department said the violence had been “truly shocking” and had “put lives at grave risk”.

“These sentences mark the conclusion of a lengthy and complex investigation into an extremely serious and violent series of events that left a mother with life changing injuries,” he said.

Davies also praised the “incredible strength and resilience” shown by the victims, who he said had endured “unimaginable physical and emotional trauma”.

Seven of the men were sentenced on Friday at Leicester Crown Court, sitting at Loughborough, while three of the men were sentenced previously at Stoke-on-Trent Crown Court.

Those sentenced over the incident were:

Shakil Uddin, 23, of Oldham, was sentenced on Friday to 34 years in prison after being found guilty of one count of attempted murder and arson with intent to endanger life.

Ali Abbas, 23, of Normacot, Stoke on Trent, was sentenced on Friday to 25 years in prison after pleading guilty to two counts of attempted murder and arson with intent to endanger life, as well as violent disorder, two counts of grievous bodily harm with intent and possession of a knife or blade in a public place.

Haris Mahmood, 22, of Normacot, Stoke-on-Trent, was sentenced on Friday to 24 years and nine months in prison after pleading guilty two counts of attempted murder and arson with intent to endanger life.

Riyadh Iqbal, 23, of Normacot, Stoke-on-Trent, was sentenced on Friday to 12 years and six months in prison after being found guilty of grievous bodily harm with intent and arson with intent to endanger life.

Lukman Khan, 25, of Normacot, Stoke on Trent, was sentenced on Friday to 12 years and six months in prison after being found guilty of grievous bodily harm with intent and arson with intent to endanger life.

Muhammad Sufyaan Shah, 25, from Oldham, was sentenced on Friday to 11 years and six months in prison after being found guilty of grievous bodily harm with intent.

Tayyeb Majeed, 24, of Longton, Stoke on Trent, was sentenced on Friday to 10 years and six months in prison after being found guilty of grievous bodily harm with intent.

Kashif Ahmed, 26, of Hanley, Stoke-on-Trent, was sentenced on 7 July for 48 weeks after pleading guilty to violent disorder.

Naveed Hussain, 32, of Longton, Stoke-on-Trent, was sentenced on 3 June to 22 months in prison, suspended for 18 months, after pleading guilty to violent disorder and possession of a knife blade or sharp pointed article in a public place.

Bilal Ahmed, 27, of Normacot, Stoke-on-Trent, was sentenced on 3 June to 15 months in prison, suspended for 18 months, as well as 100 hours of unpaid work after pleading guilty to violent disorder.

During the trial, the court heard that at around 16:00 GMT on 16 December 2021, a fight broke out on Kildare Street, Longton, involving Hussain, Bilal Ahmed, Kashif Ahmed and Abbas, according to police.

During the incident, Kashif Ahmed sustained a stab wound to his shoulder and later attended hospital.

Shortly before 23:00 GMT the same evening, a group of men went to a house on Beverley Drive in Stoke-on-Trent, demanding to speak to Hussain.

They smashed the downstairs windows and poured petrol into the hallway and outside the living room window.

Police confirmed that a 31-year-old woman inside the property was struck on the head and set on fire. She suffered 65% burns, a broken pelvis, broken ribs and a cut to her liver.

She was not initially expected to survive, but spent two months in a coma, learned to walk again and is likely require lifelong medical treatment.

A 13-year-old girl, also in the house, suffered 15% burns to her right arm.

Davies added: “We hope these sentences send a strong message that this kind of violence will not be tolerated, and that those responsible will be held to account.”

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button