28 September 2026DailyNewsGujarKhanHeadlinePothwar.com

Gujar Khan: Married Woman Dies Mysteriously in Village Jatal

گاؤں جٹال میں شادی شدہ خاتون کی پراسرار موت

گوجرخان (پوٹھوار ڈاٹ کام، 28 ستمبر 2026): تھانہ مندرہ کی پولیس چوکی سکھو کی حدود میں واقع گاؤں جٹال میں 22 ستمبر 2026ء کو شادی شدہ خاتون عطیہ بی بی کی پراسرار موت کے واقعے سے متعلق پولیس روزنامچے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کے مطابق روزنامچہ رپورٹ نمبر 2/7، کتاب نمبر 2 شام 5 بج کر 45 منٹ پر درج کی گئی۔

بھائی کی جانب سے پولیس کو اطلاع

پولیس روزنامچے کے مطابق واقعے کی اطلاع کامران انصاری ولد مشتاق حسین، سکنہ کالی پڑی، تحصیل گوجر خان نے دی، جو متوفیہ عطیہ بی بی کا بھائی بتایا گیا ہے۔پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کامران نے بتایا کہ اس کی بہن عطیہ بی بی کی شادی تقریباً 9 سے 10 سال قبل طارق صدیق، سکنہ جٹال، سے ہوئی تھی۔بیان کے مطابق طارق صدیق نے عطیہ بی بی کی بہن ایمان مشتاق کے موبائل نمبر پر فون کرکے اطلاع دی کہ عطیہ بی بی کی طبیعت خراب ہے، جس پر اہلِ خانہ جٹال پہنچے۔

تشدد اور زہریلی شے دینے کا الزام

متوفیہ کے بھائی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا کہ طارق صدیق نے رات کے وقت عطیہ بی بی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور صبح اسے گھر سے نکال دیا۔کامران کے مطابق جب اہلِ خانہ ہسپتال پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ عطیہ بی بی پہلے ہی جاں بحق ہو چکی تھی۔ اس نے مزید دعویٰ کیا کہ متوفیہ کے منہ سے ایک ایسی شے نکلی ہوئی تھی جسے زہریلا مادہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
پولیس ریکارڈ میں درج یہ الزامات فی الحال متوفیہ کے بھائی کے بیان پر مبنی ہیں اور ان کی حتمی تصدیق ابھی ہونا باقی ہے۔ کسی عدالت یا حتمی فرانزک رپورٹ کی جانب سے اس مرحلے پر ان الزامات کو ثابت شدہ قرار نہیں دیا گیا۔

ہسپتال میں پولیس کی کارروائی

عطیہ بی بی کی لاش تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال گوجر خان منتقل کی گئی، جہاں پولیس چوکی سکھو کے اے ایس آئی ضیاء الرحمٰن پہنچے اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔پولیس نے متوفیہ کے بھائی کا تحریری بیان بھی ریکارڈ کیا، جسے ابتدائی تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ سے موت کی اصل وجہ واضح ہوگی-پولیس نے متوفیہ عطیہ بی بی کی نعش کا پوسٹ مارٹم کرانے اور دیگر ضروری قانونی دستاویزات مکمل کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔پولیس حکام کے مطابق موت کی اصل وجہ اور حالات کے بارے میں حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ، ممکنہ زہر خوانی سے متعلق رپورٹ اور دیگر فرانزک شواہد سامنے آنے کے بعد ہی قائم کی جا سکے گی۔پولیس کے مطابق طبی و فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد قانون کے مطابق آئندہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

Gujar Khan (Pothwar.com, September 28, 2026): Details of a police daily diary report concerning the mysterious death of a married woman, identified as Atiya Bibi, in Jatal village within the jurisdiction of Sukho Police Post, Mandra, on September 22, 2026, have emerged.

According to Daily Diary Report No. 2/7, Book No. 2, the report was entered into the police record management system at 5:45 p.m. on September 22, 2026.

Brother Reports Death to Police

According to the police record, the information was provided by Kamran Ansari, son of Mushtaq Hussain, a resident of Kali Pari, Tehsil Gujar Khan. He is identified in the report as the brother of the deceased, Atiya Bibi.

In his statement to police, Kamran said that his sister had been married to Tariq Sadiq, a resident of Jatal, for approximately nine to 10 years.

According to his account, Tariq allegedly contacted his sister Iman Mushtaq by telephone and informed her that Atiya Bibi was unwell. Following the call, family members travelled from their residence to Jatal.

Allegation of Assault and Poisoning

In his statement, Kamran alleged that Tariq Sadiq had severely assaulted Atiya Bibi during the night and that she was subsequently removed from the house in the morning.

The complainant further alleged that when the family reached the hospital, they were informed that Atiya Bibi had already died. He also stated that a substance suspected to be poisonous had emerged from her mouth.

These allegations are contained in the brother’s statement to police and have not, at this stage, been established as facts by a court or through a final forensic investigation.

Police Reach Hospital, Begin Legal Proceedings

The deceased woman’s body was shifted to THQ Hospital Gujar Khan, where ASI Zia-ur-Rehman of Sukhho Police Post reportedly arrived and initiated the necessary legal proceedings.

Police also recorded the written statement of the deceased woman’s brother as part of the initial investigation.

Post-Mortem to Determine Cause of Death

Police have requested a post-mortem examination of Atiya Bibi’s body and preparation of the relevant legal documents.

According to police officials, the actual cause and circumstances of death cannot be conclusively determined at this stage. A final determination is expected to depend on the post-mortem examination and subsequent reports concerning possible poisoning and other forensic findings.

Police are expected to proceed further in accordance with law after receiving the relevant medical and forensic reports.

The investigation remains ongoing, and the allegations made by the deceased woman’s brother will be subject to verification through medical, forensic and other investigative evidence.

تھانہ مندرہ پولیس کی کارروائی، بیوہ خاتون کے گھر چوری کا معمہ حل، قریبی رشتہ دار خاتون دو ساتھیوں سمیت گرفتار

Mandra Police Solve Theft Case at Widow’s House, Arrest Woman Relative Along with Two Accomplices

گوجرخان (پوٹھوار ڈاٹ کام، 28 ستمبر 2026):تھانہ مندرہ پولیس نے پولیس چوکی سکھوں موڑ کی حدود میں بیوہ خاتون کے گھر ہونے والی چوری کی واردات کا سراغ لگا لیا۔ پولیس کے مطابق چوری کی واردات میں مبینہ طور پر گھر کی خاتون کی ایک رشتہ دار ملوث نکلی، جسے دو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ساڑھے 4 تولے مسروقہ طلائی زیورات، 7 لاکھ 50 ہزار روپے نقدی اور ایک موبائل فون برآمد کرلیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بیوہ خاتون کے گھر میں چوری کی واردات کی اور بعد ازاں وہاں سے فرار ہوگئی۔

پولیس کے مطابق واردات کی اطلاع ملنے پر تھانہ مندرہ میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کیا گیا۔ پولیس ٹیم نے ملزمان تک پہنچنے کے لیے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس ذرائع بروئے کار لائے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر واردات میں ملوث خاتون اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمان سے برآمد ہونے والے طلائی زیورات، نقد رقم اور موبائل فون کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے جبکہ واردات کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایس پی صدر انعم شیر کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف تحقیقات مکمل کرکے انہیں ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چوری کی واردات میں ملوث دیگر ممکنہ افراد یا سہولت کاروں کے کردار کا تعین بھی تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ گرفتار ملزمان کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button