DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

London: Arshad Afsar Of Dhok Rakh, Sehar, Appointed Deputy Mayor of East Staffordshire Borough Council

ڈھوک رکھ، سہر کےارشد آفسر ایسٹ اسٹافورڈشائر بورو کونسل کے ڈپٹی میئر مقرر

لندن ( پوٹھوار ڈاٹ کام، محمد نصیر راجہ، 18 مئی 2026) — برطانیہ کے شہر برٹن اپن ٹرینٹ میں مقیم برطانوی نژاد پاکستانی کمیونٹی کے لیے یہ ایک قابلِ فخر خبر ہے کہ ارشد آفسر، جو پاکستان کے علاقے ڈھوک رکھ، سہر سے تعلق رکھتے ہیں، کو ایسٹ اسٹافورڈشائر بورو کونسل کا ڈپٹی میئر مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری ان کی سماجی اور عوامی خدمات کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

ارشد آفسر، مرحوم حاجی محمد آفسر کے فرزند ہیں، جن کا تعلق ڈھوک رکھ سے تھا اور وہ اپنے علاقے میں دیانت داری، سادگی اور عزت و احترام کی وجہ سے ایک نمایاں اور معتبر شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی یہ نئی ذمہ داری نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کے لیے باعثِ فخر سمجھی جا رہی ہے۔

یہ اعلان برٹن اپن ٹرینٹ میں کیا گیا، جہاں کونسل نے باضابطہ طور پر ان کی تقرری کی تصدیق کی۔ ڈپٹی میئر کے طور پر ارشد آفسر مختلف سرکاری تقریبات، عوامی اجتماعات اور کمیونٹی سرگرمیوں میں کونسل کی نمائندگی کریں گے۔

مرحوم حاجی محمد آفسر کو پوٹھوار کے علاقے میں آج بھی احترام اور قدر کی نگاہ سے یاد کیا جاتا ہے، اور ان کی خدمات کو مقامی سطح پر ایک مثبت وراثت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خاندان اور کمیونٹی نمائندوں کے مطابق ارشد آفسر کی یہ کامیابی ان کے والد کی سماجی خدمات اور عزت و وقار کا تسلسل ہے۔

برطانیہ میں مقیم پوٹھواری کمیونٹی نے اس تقرری کو نہایت خوش آئند قرار دیا ہے اور اسے برطانوی مقامی حکومت میں پاکستانی نژاد افراد کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

کونسل کی جانب سے ان کی آئندہ ذمہ داریوں اور مدتِ کار سے متعلق مزید تفصیلات جلد جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

London (Pothwar.com, Mohammad Naseer Raja, May 18, 2026):  Arshad Afsar, originally from Dhok Rakh, Sehr, Pakistan, has recently been appointed as Deputy Mayor of East Staffordshire Borough Council, marking a significant milestone in his civic and public service career in the United Kingdom.

Mr Afsar, the son of the late Haji Mohammed Afsar of Dhok Rakh, brings with him strong community roots and a background shaped by his family’s longstanding respect and standing in his hometown. His appointment has been warmly received by supporters and members of the wider community.

The announcement was made in Burton upon Trent, where the Borough Council confirmed his new civic role. As Deputy Mayor, Mr Afsar is expected to assist in representing the council at official engagements, community events, and ceremonial duties throughout the borough.

Tributes have also been paid to his late father, Haji Mohammed Afsar, a well-regarded figure in Pothwar, remembered for his integrity and contribution to his local community. Family members and community representatives have described the appointment as a continuation of his legacy of service and respect.

The elevation of Mr Afsar to this civic position has been described as a proud moment not only for his family but also for members of the Pothwar diaspora living in the United Kingdom, many of whom see his achievement as a reflection of growing representation and participation in British local government.

Further details regarding his term and responsibilities are expected to be shared by the council in due course.

Show More

Related Articles

7 Comments

  1. کوینٹری کےسابق میئر محمد شبیر کا تعلق بھی اسی ڈھوک اور گاؤں سے ھےاور محمد ارشد افسر کے ھم زلف بھی ھیں۔۔ محمد ارشد کے بھائ محمد ھارون اعلی سول سرونٹ رھے ھیں اور ایک بھائ معروف وکیل رھے ھیں۔۔ سہر گاؤں تحصیل کہوٹہ کا ایک دور افتادہ اور پسماندہ گاؤں ھے اور انتظامی طور پر کلر سیداں اور کہوٹہ دونوں تحصیلوں میں ھونے کی وجہ سے ابھی پچھلی صدی میں ھی ھے۔ اور یہاں سےتعلیمی، دینی اور سماجی شعور کا گزر ھونا باقی ھے۔۔ٹوٹی پھوٹ نا مکمل اور لاپرواھی سےبنائ گئ گلی نما کچی پکی سڑک عوام کے لیۓ درد سر ھی ھے۔ عوام خلق خدا کے لیۓ سہولت پیدا کرنا پسند نہیں کرتے بلکہ ایک انچ زمین بھی سڑک کے لئیے دینے کو تیار نہیں ھوتے۔اس لیے سڑک کہیں کچی اور کہیں پکی ھے۔لوگ گھر اور گٹروں کا گندہ پانی سڑک پر چھوڑ دیتے ھیں اور رھائشی علاقوں میں مال مویشی رکتھتے ھیں، کوئ شریف آدمی ان محلوں سے گزرنا پسند نہیں کرتا کہ گوبر اور پیشاب کی بو سے بے ھوش ھی نہ ھو جاۓ۔ ایک نہ ایک دن کانگو وائرس کی وبا بھی ضرور پھیلے گی اس لیے کہ ان چانوروں میں پسو اور چیچڑ ھوتے ھیں۔۔

  2. گرلز سکول کے مساۂل ھیں لیکن دبا دیے جاتے ھیں کہ کہیں استانیاں تبادلہ ھی نہ کروا لیں اور سکول فیل ھو جاۓ۔بوائز۔ سکول بھی دگرگوں ھے۔ اردو میڈیم پڑھے اساتذہ اب انگریزی نصاب کیسے پڑھائیں؟ لہذا بہت ساروں نے ریٹائرمنٹ لے لی ھے اور اساتذہ کا بحران چل رھا ھے۔اس دور افتادہ گاؤں میں استاد اور استانیاں کہوٹہ تک سے روزانہ آتے ھیں۔سارا دن سفر میں گزرے تو کتنا ایک پڑھا لیں گے؟ مقامی استاد ریٹائر ھو گۓ ھیں۔اب استاد پیدا ھی نہیں ھو رھے۔اس میں بھی مقامی اساتذہ کا قصور ھے جن کی کوشش رھی ھے کہ ان کے بچوں کے علاوہ کوئ نہ پڑھ سکے اور مخصوص برادریوں کے اساتذہ کا قبضہ رھا ھے۔ان کی کوشش رھی ھے کہ اپنے بچوں کو پڑھاؤ اور دوسروں کو بگھاؤ۔ ٹیلنٹ کی کمی نہیں ھے۔کئ بچوں نے بورڈ میں پوزیشنیں لی ھیں ماضی میں۔ایک بچہ بہت لائق تو تھا لیکن اہنی برادری کے اساتذہ کا شکار رھا تاکہ ان کے بچوں سے آگے نہ نکل جاۓ۔ یہاں تک کہ اس کا بورڈ کا داخلہ حاضری پوری نہ ھونے کے بہانے روک دیا گیا جو کہ جھوٹ تھا۔ایک بزرگ کی نصیحت پر عمل کرتے ھوۓ اس نے پرائیویٹ داخلہ بجھوایا اور بورڈ ٹاپ کر گیا۔ ہھر کیا تھا سارے استاد میڈلز کی تقصیم کی تقریب میں دوڑ کر پہنچے کہ ان کے سکول کا بچہ اول آیا ھے۔ حالانکہ وہ پرائیویٹ طور پر اول آیا تھا۔ راجہ بشارت صاحب نے اس تقریب میں اس خاص برادری کے اساتذہ کےاس قابل مذمت رویے کا خصوصی ذکر کیا تھا۔

  3. اوپر دونوں کامٹ دیکھے اورمجھ سے رھا نہ گیا اور اپنی اظہار رائے دینے پر مجبور ہوگیامیرا اس گائوں سےتعلق نہیں ہے لیکن ایک خاص رشتہ ضرور ہے یہ دونوں حضرات بااکل صحیح فرما رھے ہیں زیادہ تر اساتزہ کا تعلق ایک ہی برادری سے ہے جن کے بزرگان بی اسی سکول سے وابستہ رہے ہین جنہوں نے اپنے اور دوسروں کے بچوں میں کوئی تفریق نہیں کی اور بچوں کو بلا معاوضہ گرمیوں کی چھٹیوں میں پڑھایا کرتے تھے بدقسمتی سے ان بزرگان کی ریٹارمنٹ کے بعد سن دو ہزار میں ایک مخصوص اساتزہ کا ٹولا سکول پر ہاوی ہو گیا جو انتھائ نالائق نااہل تھے انہی میں سے ایک جاہل اور نا اہل کوہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا جب محکمہ تعلیم رنےان کے گرد گھیرا ڈالا تو ان سب نے ریٹائرمنٹ لے لی جس بچے کا انہوں نے میٹرک کے امتحان کا داخلہ روکا تھا اس نے راولپنڈی بورڈ ٹاپ کیا اور ایک خلیجی ملک میں بینک میں اعلی عہدے پر فائز ہے اور ان اساتزہ کے بچے ڈگریاں ہونے کے باوجود نکمے گھر بیٹھے ہیں کیونکہ ان کی اتنی قابلیت ہی نہیں ہے کہ ان کو اچھی نوکری مل سکے

  4. بد قسمتی یہ ھے اس گاؤں کی کہ اب اساتذہ کی نئ کھیپ میں میں بھی کوئ علامے نہیں ھیں۔ دیگر برادریوں کے اساتذہ بھی باقی سب جیسے ھی ھیں ۔ پرانے اساتذہ بلا تمیز برادری بہت پڑھے لکھے نہ سہی مگر اعلی ظرف ضرور تھےاور آج بھی مقبول ھیں۔ اوراب باھر سے آنے والوں کو تنخواہ سے غرض ھے اس گاؤں کے بچوں کی تعلیم سے نہیں۔یہاں کے مقامی باشعور اور لائق اساتذہ کی اشد ضرورت ھے لیکن قابل لڑکے گاؤں ھی چھوڑ جاتے ھیں ۔ ایک بات خوش آئند ضرور ھے کہ لوگوں میں بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کا شعور بیدار ھو رھا ھے۔ باقی دعا ھے کہ اللہ تعالی لوگوں کوبالعموم اور اساتذہ کو بالخصوص وسیع القلبی عطا فرمائے اور بے لوث خدمات دینے اور ھر بچے کو اپنا بچہ سمجھنے کی توفیق دے۔

  5. بحیثیت لارڈ میئر، میں یہ سمجھتا ہوں کہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے، نہ کہ ذاتی حسد یا علاقے کی تضحیک کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ وادیٔ سہر نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بے شمار قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد پیدا کیے ہیں جنہوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ محمد شبیر احمد لارڈ میئر جیسے اعزاز تک پہنچے اور دیگر کئی شخصیات نے بھی ملک و قوم کا نام روشن کیا۔

    سہر ویلی تعلیمی شعور، سماجی اقدار اور صفائی کے اعتبار سے تحصیل کہوٹہ اور کلر سیداں کے کئی دیہات سے زیادہ ترقی یافتہ اور باشعور علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ محنت، تعلیم اور خدمت کو ترجیح دی ہے۔ یقیناً ہر علاقے میں کچھ مسائل ہوتے ہیں، مگر انفرادی واقعات یا ذاتی اختلافات کی بنیاد پر پورے گاؤں یا برادری کو بدنام کرنا مناسب نہیں۔

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو مثبت سوچ، تعلیم، اتحاد اور ترقی کا پیغام دیں، تاکہ سہر ویلی کا روشن تشخص مزید مضبوط ہو۔

  6. I am proud to be from Sehr Valley — a land that has produced educated, talented, and successful individuals serving both Pakistan and communities internationally. From public service to education and professional achievements, our people have always represented the area with dignity and honour.

    As Lord Mayor, I proudly acknowledge the positive values, strong community spirit, and educational progress of Sehr Valley, which stands among the more developed and cleaner areas of Tehsil Kahuta and Kallar Syedan. No community is without challenges, but it is unfair to ignore the achievements of countless respectable families and focus only on negativity driven by personal bias or jealousy.

    Our identity should be built on unity, progress, and encouragement for future generations. I remain proud of my roots and the people of Sehr Valley.

  7. جاکوت ھی نلیق ھوون تے ماشٹر کی کرن؟ ویسے وی ھیڈ ماشٹر کا کام سکول کی ایڈمنسٹریشن ھے۔پڑھاۓ بھی تو بڑی مہربانی ھے اس کی۔ ھر الزام ھیڈماشٹر نوں نہیں دئ دا۔ اکا دکا ماسٹر گلت ھوسکدا ھۓ اوہ لاہدی گل آ۔ ھر جائ ھونے۔۔۔۔ھاں استاداں استانیاں وچ تعلیمی قابلیت ھونی چاھی دی۔۔۔ استانیاں نوں تے شکایت کرو تے بچیاں تے پچھے پے جاندیاں نے۔ ماپے ڈردے شکایت وی نی کردے۔ھیک ھیک صفحے تے بچیاں وی وی گلتیاں کردیاں تے ماشٹریانیاں وڈے وڈے شٹار دیندیاں۔ دل تک کے خوش ھوئ وینا۔

Back to top button