21 July 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

Luton Schoolgirls Publish Novels While Studying for GCSEs

لُوٹن کی طالبات نے تعلیم کے ساتھ اپنے ناول بھی شائع کر دیے

لندن ( پوٹھوار ڈاٹ کام – محمد نصیر راجہ، 21 جولائی 2026) – برطانیہ کے شہر لُوٹن کے ایک ثانوی اسکول کی دسویں جماعت کی تین طالبات نے تعلیم، امتحانات اور روزمرہ تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنے تحریر کردہ ناول بھی کامیابی سے شائع کر دیے، جس پر اسکول انتظامیہ نے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

چودہ سالہ حمیدہ اودونوگا، چودہ سالہ غانیہ کشاف اور پندرہ سالہ اقراء ایمان عمران نے مختلف موضوعات پر مبنی ناول خود شائع کیے ہیں، جن میں تخیلاتی ادب، نوجوانی کی زندگی پر مبنی کہانی اور نفسیاتی معمہ شامل ہیں۔

اسکول کی سربراہ شیبا جارج نے طالبات کی اس کامیابی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی طالبات پر بے حد فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کا مقصد مستقبل کی بااثر خواتین تیار کرنا ہے اور یہ تینوں طالبات اس مقصد کی عملی مثال ہیں۔

حمیدہ اودونوگا کے ناول کی کہانی ایک فرضی سلطنت میں پیش آنے والے واقعات پر مشتمل ہے، جس میں مرکزی کردار اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کے لیے ایک خطرناک منصوبہ بناتی ہے، لیکن حالات اس وقت بدل جاتے ہیں جب سلطنت کا ولی عہد اس کا راز جان لیتا ہے اور اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔

غانیہ کشاف نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے لکھنے کا شوق تھا، تاہم ایک کم عمر مصنف کی کامیابی دیکھنے کے بعد انہیں بھی اپنی کتاب خود شائع کرنے کا حوصلہ ملا۔ ان کا ناول ایک مجوزہ تین کتابوں پر مشتمل سلسلے کا پہلا حصہ ہے۔

اقراء ایمان عمران کے ناول میں یادداشت، شناخت اور حقیقت کی غیر یقینی کیفیت کو ایک برطانوی مسلمان لڑکی کی کہانی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے، جو پراسرار دستاویزات کے ذریعے ایک دوسری لڑکی کی زندگی سے جڑ جاتی ہے۔

تینوں طالبات کی کتابیں آن لائن خریداری کے لیے دستیاب ہیں۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی دیگر نوجوان طلبہ و طالبات کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے، جو تعلیم کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

London (Pothwar.com – Mohammad Naseer Raja, July 21, 2026) –Three Year 10 students at a secondary school in Luton have written and published their own novels — while juggling schoolwork and exams.

Hamidah Odunuga, 14, Ghania Kashaff, 14, and Iqrah Imaan Imran, 15, students at Challney High School for Girls, have self-published books in the fantasy, coming-of-age fiction and psychological mystery genres.

Headteacher Sheba George described the achievement as “remarkable” and said that the school was “incredibly proud”. “Our mission is to develop influential women of the future,” she said. “Ghania, Iqrah and Hamidah are examples of girls who show that they’re already there.”

Odunuga’s fantasy, The Soulless Art, is set in the fictional kingdom of Seorya. It follows Mireya, a forbidden soulshifter seeking revenge after infiltrating her enemies’ fortress, before her plans are complicated when the kingdom’s heir discovers her secret and falls in love with her.

Kashaff, who wrote The Something of My Life — the first book in her Syzygy Saga trilogy — said she had always enjoyed writing but only realised self-publishing was something she could do after seeing another teenage author share their experience online.

Imran’s The Price of Yaqeen is a psychological literary novel exploring memory, identity and the instability of truth through the story of a British Muslim girl who discovers a series of mysterious files linked to another girl.
All three books are available on Amazon.

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button