DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

Libya/Kallar Syedan: Boat Tragedy off Libya Coast: 79 Dead, 28 Survivors Rescued

لیبیا سے اٹلی جانے والی کشتی حادثہ، 79 افراد جاں بحق، 28 معجزانہ طور پر بچ گئے

لیبیا /کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی | 10 اپریل 2026)—لیبیا سے اٹلی غیر قانونی جاتے ہوئے کشتی سمندر میں ڈوب جانے سے 79 افراد جاں بحق 28 کق بچا لیا گیا جاں بحق ہونے والوں میں درجنوں افراد کا تعلق مندی بہاوالدین گجرات حافظ آباد سے ہے کلرسیداں کے دو غیر شادی شدہ نوجوان اسامہ بھٹی اور منصور بھٹی بھی یورپ جانے کے ارمان لیے سمندر میں ڈوب گئے دونوں غیر شادی شدہ تھے جبکہ کلرسیداں میں پی ٹی آئی رہنما چوہدری محمد حنیف کا فرزند زین لطیف عمر 27 سالہ معجزانہ طور پر بچ کر اٹلی کے جزیرے میں سلامت پہنچ گیا تفصیلات کے مطابق مختلف ایجنٹوں نے نوجوانوں کو مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر چالیس سے پینتالیس لاکھ روپے ہے عوض انہیں موت کی وادی میں دھکیل دیا ایف آئی اے کی جانب سے سختی کے باعث ایجنٹوں نے روٹ تبدیل کردیا مختلف ایجنٹوں نے پاکستان سے کثیر تعداد میں نوجوانوں کو یورپ کے سہانے خواب دکھائے جس پر نوجوانوں نے زمینیں اور مختلف اشیا فروخت کرکے انہیں چالیس سے پینتالیس لاکھ روپے فی کس دیئے جس کے بعد وہ انہیں گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان سے عمرے کے لیئے سعودی عرب لے گئے جہاں سے انہیں پاکستان واپس لانے کی بجائے طے شدہ پروگرام کے تحت لیبیا منتقل کیا گیا جہاں وہ چند ماہ مقیم رہے جمعہ کی رات لیبیا سے اٹلی کے لیئے کشتی میں ایک سو پانچ نوجوانوں کو سوار کیا گیا کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد کشتی سمندر کی بے رحم موجوں میں الٹ گئی جس سے 79 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں کلرسیداں کے گاؤں گف کے 28 سالہ منصور بھٹی ولد منظور حسین اور 25 سالہ اسامہ بھٹی ولد سعید بھٹی بھی شامل ہیں دونوں غیر شادی شدہ تھے جبکہ 28 نوجوانوں کو کسی دوسرے ملک کی کشتی نے ریسکیو کرکے اٹلی کے امیگریشن حکام کو اطلاع دی جنہوں نے زندہ بچ جانے والے تمام نوجوانوں کو طبی امداد کے لیے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا جن میں پی ٹی آئی لونی سلیال کلرسیداں کے رہنما چوہدری محمد حنیف کا 27 سالہ بیٹا مرزا زین لطیف بھی شامل ہے محمد حنیف کے مطابق بچ جانے والے مسافر گھنٹوں سمندر میں ہاتھ پاؤں مارتے رہے اور انہیں کسی دوسری کشتی نے ریسکیو کیا اس بڑے حادثے میں اب تک صرف دو نوجوانوں کی نعشیں ہی بازیاب ہو سکی ہیں۔

Kallar Syedan / Libya (Potohar.com — Ikram-ul-Haq Qureshi | 10 April 2026) — At least 79 peole lost their lives after a boat carrying migrants capsized in the Mediterranean Sea while attempting to travel illegally from Libya to Italy. A total of 28 افراد were rescued in what survivors described as a miraculous escape.

According to reports, dozens of the deceased belonged to Pakistani districts, including Mandi Bahauddin, Gujrat, and Hafizabad. Among the victims were two unmarried men from Kallar Syedan — Usama Bhatti, 25, and Mansoor Bhatti, 28 — who had embarked on the perilous journey hoping to reach Europe for a better future.

In a rare stroke of luck, 27-year-old Mirza Zain Latif, son of local political figure Chaudhry Muhammad Hanif, survived the حادثہ and safely reached an Italian island after being rescued.

Details reveal that human traffickers lured young men with promises of a better future in Europe, charging each individual between PKR 4 and 4.5 million. Due to increased crackdowns by authorities, agents reportedly altered routes. Victims were initially taken to Saudi Arabia under the pretence of performing Umrah in October last year, but instead of returning to Pakistan, they were transported onward to Libya, where they remained for several months.

On Friday night, around 105 migrants were packed into a boat departing from Libya towards Italy. After several hours at sea, the vessel overturned amid rough waves, leading to the tragic loss of 79 lives.

Rescue sources confirmed that survivors struggled in the sea for hours before being picked up by another vessel, which later informed Italian immigration authorities. The rescued individuals were shifted to hospitals for medical treatment.

So far, only two bodies have been recovered from the incident, while search operations continue. The tragedy highlights the ongoing dangers of illegal migration and the ruthless exploitation by human smuggling networks.

Show More

Related Articles

One Comment

  1. نہ جانے اس ملک پہ کیا افتاد پڑی ھے کہ نوجوان عمرہ کے سفر پر بھی غلط نیت سے جانے لگے ھیں؟ کشتیوں کے بھیانک انجام کی مٹالیں موجود ھیں۔ لڑکے بھر بھی خطرہ مول لیتے ھیں۔ قصور کس کا۔ ایجینٹوں کا؟ لڑکوں کا؟ والدین کا؟ یا حکومت کا؟

Back to top button