DailyNewsHeadlinePothwar.comRawat

Rawat; A Imam masjid is arrested dressed as transgender

روات چک بیلی خان روڈ پر ڈیڑھ برس تک امام مسجد بن کر نمازیں،نکاح اور جنازے پڑھانے والا مولوی خواجہ سراؤں کے روپ میں گرفتار

روات(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، اکرام الحق قریشی,04،مارچ,2023)—ڈیڑھ برس تک مسجد میں امامت کروانے نکاح اور جنازے پڑھانے والا امام خواجہ سرا کے روپ میں،مقتدیوں نے پکڑ کر روات پولیس کے حوالے کردیا،مقدمہ درج تفتیش شروع۔راجہ محمد شفیق ولد مولا داد سکنہ ڈھکی نے روات پولیس کو درخواست دی کہ ہم نے محمد خان ولد گل جہاں سکنہ جمٹانوالہ تحصیل پپلاں ضلع میانوالی کو اپنی مسجد میں امام مقرر کیا اس کی بہت عزت و توقیر کی یہ ڈیڑھ برس تک ہماری مساجد میں امامت کے ساتھ ساتھ نکاح اور جنازے بھی پڑھاتا رھا پھر اس نے چند ایام قبل یہ کہہ کر اجازت چاہی کہ مجھے سعودی عرب جانا ہے آپ مجھے امامت سے فارغ کردیں ہم نے اسے بڑے احترام سے الوداع کہا اب اس نے خواجہ سرا کا روپ دھار کر بھیک مانگنا شروع کردیا۔اس نے اپنی جنس چھپا کر ہماری مسجد میں امامت کرا کے ہم سے بڑی ذیادتی کی ہے روات پولیس نے ملزم محمد خان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے اور کھوج لگایا جا رھا ہے کہ امام مسجد نے خواجہ سرا کا صرف روپ ہی سدھارا ہے یا یہ سچ مچ خواجہ سرا ہیں۔پولیس تفتیش میں ہی حتمی بات سامنے آئے گی مگر واقعہ سے لوگ چوکنا ہو گئے ہیں۔

Rawat (Pothwar.com, Ikram-ul-Haq Qureshi, 04, March 2023) – A man named Mohammad Hussain, who was an imam at a Masjid in village Dhaki on Rawat Chak Beli Khan Road, was arrested by Rawat police dresses as transgender.

Hussain, who hails from Mianwali, had been performing his duties as an imam at the Masjid in Dhaki for one and a half years.

He had been leading prayers, performing marriages, and funerals, and pretending to be Khwaja Saraoon.

When the people of the village became suspicious of his identity, they caught him and handed him over to the police for further investigation.

Show More

Related Articles

Back to top button