DailyNews

چور ، انسان اور چوہا ,تحریر عبدالجبار خان دریشک

پیسے کی چمک بڑے بڑوں کا دماغ خراب کردیتی ہے یہی پیسہ جرائم پر بھی مجبور کرتا ہے اور کرپشن کرنے پر بھی ، چوری اور ڈاکے پر بھی ، یہ تو ہر کوئی جانتا ہے جس کے پاس پیسہ ہے وہی طاقت ور کہلاتا ہے اور طاقت کا نشہ پیسہ ہی پورا کرتا ہے ں
پیسے کی خواہش اور اس کے بل پر ملنے والی طاقت کو دیکھ کر ہر انسان چاہتا ہے میں بھی پیسے والا بن جاو 191 ، یہ معاملہ تو اب انسانوں تک تھا لیکن انسانوں کے علاوہ دیگر جانوروں کو بھی پیسے کی طاقت کا اندازا ہو گیا ہے کہ دنیا میں طاقت ور بننا ہے تو انسان کی طرح پیسے کی حواس کو دل میں بڑھانا ہوگا 
جانوروں میں سب سے پہلے پیسے کو خواہش کا اظہار چوہے نے کیا ہے ، ایسی کیا وجہ ہے چوہا پیسے والا بننا چاہتا ہے جہاں تک مجھے لگتا ہے چوہا انسان کا بچہ، کچا کھانا کھاتا ہے جس کو انسان کا منہ لگا ہوتا ہے اسی بنا پر انسانی پیسے کی حواس چوہے میں منتقل ہو گئی 
چوہا اور چور دونوں میں ایک بات مشترکہ ہے دونوں میں “چو” ہے جس وجہ سے دونوں کی عادات بھی ایک جیسی ہیں یعنی چوری کرنے کی، دونوں ہمیشہ چپ کر کے کسی کی غیر موجودگی میں مال ہڑپ کرتے ہیں یہ دونوں ، چوہے اور چور کہیں کے 
بات چوہوں کی حواس اور پیسے کی ہورہی تھی گزشتہ ماہ سعودی عرب ریاض میں چوہے ایک اے ٹی ایم مشین میں گھس گئے اور وہاں پر رکھے ریال کھا کر اپنی دولت کی حواس پوری کرتے رہے خیر سعودی نظام اور ان کی پولیس واردات کے کچھ دیر بعد ہی چوروں کو پکڑ لیتی ہے ایسے ہی یہ چوہے گرفت میں آگے جیسے سعودی عرب میں کچھ بڑے چوہے گرفت میں آئے تھے جن سے 130 ارب ڈالر وصول کیے گئے لیکن بڑے چوہوں کو وصولی کے بعد چھوڑ دیا گیا پر چھوٹے چوہے تختہ دار پر لٹکا دیے گئے کیونکہ چوری کا مال ان کے پیٹ سے نکالنا نامکمن تھا اور ہونا بھی ایسا چاہیے جو وصولی نہ دے اسے لٹکا دینا چاہیے ، نہیں تو احتساب کا عمل طول پکڑ لیتا ہے اور چوہوں کو فرار کا موقع مل جاتا ہے 
ایسے ہی چور چوہوں نے کچھ دن قبل بھارتی ریاست آسام میں واردات کی ، چوہے شہر کی ایک اے ٹی ایم میں گھس گئے اور 12 لاکھ کے کرنسی نوٹ ہڑپ کر گئے ، چوہوں نے کرنسی نوٹوں کا کچرا بنا دیا ، پولیس نے تحقیق کی ہے اور کہا جاتا ہے چوہوں نے نوٹ کھائے ہیں لیکن بارہ لاکھ کے نہیں ہو سکتے ، یہ بھی وہی صورت حال ہے جب بنک میں ڈاکا پڑتا ہے تو 50 لاکھ کا ڈاکا بنک منیجر ایک کروڑ بتاتا ہے ڈاکو کی محنت کا فائد اصل میں بنک والوں کو ہوتا ہے جو مفت میں محنت کے بغیر ان جتنا مال بنا لیتے ہیں ،آسام میں ہونے والی واردات میں ہو سکتا ہے کہ چوہے بھی بنک عملے کے بھیجے گئے ہوں ، تھوڑی رقم کا کو بڑا بنا کر بچارے چوہوں کو بدنام کیا جارہا ہو ، دیکھنااس کالم کے بعد چوہے سوشل میڈیا پر احتجاج کریں گے۔
میں نے پہلے کہا ہے چوہے اور چور میں ایک چیز مشترکہ ہے وہ “چو” ہے پاکستان میں چور اور چوہے دونوں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اربوں روپے کھانے والے چور چوہے جو اے ٹی ایم سے پیسے کھانے کی بجائے ملکی خزانے پر جا پہنچتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ خزانے میں بڑا مال ہاتھ آئے گا ، اور ان کو خزانے کا راستہ عام اور غریب شہری ہی دیکھاتے ہیں جو “چو” سے نہیں “چی ” سے دیکھاتے ہیں یعنی ووٹ کی پرچی سے ، تب جب یہ چوہے ملک و قوم کی دولت لوٹ کھاتے ہیں خزانے خالی کرتے ہیں تو پھر قوم کی چی ، چی بھی نکل جاتی ہے اور قوم دل میں وعدہ کرتی ہے اب اس “چو” کو ووٹ نہیں دینا ، لیکن چو بھی بڑا” چ” ہے یعنی چالاک وہ اپنے جیسے سب “چو ” ساتھ ملا لیتا اور عوام کو ایک مرتبہ پھر “چو” بنا جاتا ہے واضع رہے اس “چو ” کے آگے “ر” یا ” ہ” نہیں آتا یہ عوام کے اختیار میں ہے “چو” کے آگے جو لگائے 
پر ایک بات ضرور یاد رکھیں اور احتیاط سے کام لیتے ہوئے “چی ” کا استعمال صیح اور ضمیر کی آواز پر کریں اور “چو” کو ووٹ نہ دیں نہیں تو مزید پانچ سال چی چی کرتے رہیں گے

Show More

Related Articles

Back to top button