DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com
Kallar Syedan: Two Accused Declared Innocent in Phalina Murder Case
کلر سیداں: پھلینہ قتل کیس میں نامزد دو ملزمان کو پولیس نے بے گناہ قرار دے دیا

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی |22, اکتوبر، 2025)–گاؤں پھلینہ کے فردوس قتل میں نامزد دو افراد عمران اور اکرام سکنہ پھلینہ کو کلر سیداں پولیس نے عدم شواہد کی بنا پر بے گناہ کر دیا۔ ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرائی تھی جبکہ بعد میں ایک گواہ نے بیان دیا کہ اس نے مقتول کو قتل ہوئے دیکھا اور مقتول اس کا کزن ہے۔گواہ نے مزید کہا کہ اس نے ڈر کی وجہ سے ایف آئی آر کے اندراج کے وقت ملزمان کے نام نہ بتائے تھے۔جبکہ پولیس کے مطابق لاش 3 دن پرانی ہے قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس نے وقوعہ کے بارے میں کسی کو نہ بتایا جو کہ مشکوک ہے۔مدعی نے ذاتی دشمنی کی وجہ سے ملزمان کو غلط طور پر نامزد کیا ہے۔ملزمان کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور انہیں ذاتی دشمنی کی وجہ سے جھوٹا ملوث کیا جا رہا ہے جس کی بابت وہ حلف دینے کے لیے تیار ہیں۔ملزمان نے اپنے کونسل محمد وقاص کیانی ایڈووکیٹ کے ذریعے عبوری ضمانت کرا رکھی تھی جس پر عدالت نے کلر سیداں پولیس کو آئندہ تاریخ پیشی تک ملزمان کی گرفتاری سے روک رکھا تھا۔ جو بوجہ بے گناہی واپس لے لی گئی ہے۔
Kallar Syedan (Pothwar.com – Ikram ul Haq Qureshi | October 22, 2025) – The Kallar Syedan Police have declared two individuals, Imran and Ikram, residents of Phalina village, innocent in the murder case of Firdous, citing a lack of evidence.
Initially, an FIR had been registered against unknown suspects. Later, a witness came forward claiming to have seen the murder and stated that the victim was his cousin. The witness added that he had not named the suspects at the time of the FIR due to fear.
However, according to the police, the body was three days old, and despite being a close relative, the witness had not informed anyone about the incident, which raised suspicions. The police investigation further revealed that the complainant had falsely implicated the accused due to personal enmity.
The accused maintained their innocence, stating that they were being falsely involved in the case due to personal grudges and were ready to swear an oath to prove it. They had obtained interim bail through their counsel, Advocate Muhammad Waqas Kayani. The court had barred the Kallar Syedan Police from arresting them until the next hearing date. The bail has now been withdrawn following the police’s declaration of their innocence.
کلر سیداں پولیس کی منشیات اور اسلحہ کے خلاف کارروائیاں، تین ملزمان گرفتار
Kallar Syedan Police Seize Drugs and Weapons in Separate Operations, Three Arrested
کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی |22, اکتوبر، 2025)– کلر سیداں پولیس نے مردان کے شہری خالد خان کے قبضے سے ایک کلو 700 گرام چرس برآمد کر لی ۔ملزم نیلے رنگ کا شاپنگ بیگ اٹھا کر لونی بازداراں گائوں کی جانب سے پیدل آ رہا تھا جس نے پولیس کو دیکھ کر واپس مڑنے کی کوشش کی جسے بعد ازاں تعاقب کر کے قابو کر لیا گیا۔ دریں اثنا پولیس نے محمد خلیل سکنہ ڈھوک من مور نلہ مسلماناں کے قبضے سے دس لیٹر دیسی شراب برآمد کر لے الگ مقدمہ درج کر لیا ۔پولیس نے ایک اور کارروائی میں ملزم ذوالقرنین ذوالفقار عرف شیری سکنہ مٹور کے قبضے سے پسٹل 30 بور بمعہ 3 ضرب زندہ روند برآمد کر لئے۔
Sehal Incident: MNA Engineer Qamar Islam Raja Expresses Deep Regret, Refuses to Politicize and Promises Transparent Investigation
سہال واقعہ: ایم این اے انجینئر قمراسلام راجہ نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے انکار اور شفاف تحقیقات کا اعلان

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی |22, اکتوبر، 2025)–مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی انجینئر قمراسلام راجہ نے سہال میں قیمتی انسانی جان کے ضیاع پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس واقعہ پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنا چاہتا اگلا الیکشن جیتوں یا ہاروں کسی سیاسی سماجی یا معاشی مصلحت کو اصولوں پر آڑے نہیں آنے دوں گا انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ بدترین مخالف بھی اس بات کی گواہی دے گا کہ پچھلے پچیس برس سے سیاسی اختیار رکھنے کے باوجود ایک مرلہ زمین کے معاملات میں نہیں پڑا اور نہ کسی بھائی بھتیجے کو پڑنے دیا ہے۔ سہال کے معاملات سے دوری اس لئے تھی کہ یہ میرے ایم پی اے کا اپنا گاوں ہے
میرے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے مگر اپنی محدود معلومات کی بنا پر صرف اتنا عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ یہ گرد بہت جلد بیٹھ جائے گی اور اس میں سے سچ اور صرف سچ ضرور نکلے گا۔ یقین دلانا ہوں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں قانون پر بلا تفریق عمل درآمد میں پوری طرح سنجیدہ ہیں اور اس واقعہ کی بھی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات بھرپور طریقے سے جاری یے اور اگلے چند ایام میں گناہگار اور بے گناہ کا تعین ہو جائے گا۔
Kallar Syedan: Stray Cattle Causing Road Accidents Amid Administrative Negligence
کلر سیداں: انتظامیہ کی غفلت، آوارہ مویشی سڑکوں پر حادثات کا سبب بننے لگے

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی |22, اکتوبر، 2025)–شدید عوامی احتجاج اور آئے روز کے حادثات کے باوجود تحصیل انتظامیہ شاہراؤں سے آوارہ مویشیوں کا ہٹانے اور ان کے مالکان کے خلاف کروائی سے گریزاں ہے ہر روز سڑیات پر مٹرگشت کرنے یہ آوارہ مویشی حادثات کا سبب بن رہے ہیں مگر انتظامیہ ان مویشی مالکان کت خلاف کسی بھی سنجیدہ کاروائی کو تیار نہیں جس کے باعث روزانہ حادثات میں لوگ زخمی ہو رہے ہیں منگل کے روز بھی روات کلر روڈ پر مہیری سنگال میں بچھڑی سڑک سے گزرتی خیبر کار سے ٹکرا گئی جس سے بچھڑی جو ذبحہ کردیا گیا جبکہ کار کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
Kallar Syedan: Advocate Javed Chishti Terms Punjab Government’s Joint Land Division Program as Anti-People and Illegal Move
کلر سیداں: ایڈووکیٹ جاوید چشتی کا پنجاب حکومت کے مشترکہ اراضی تقسیم پروگرام کو عوام دشمن اور قانون شکن اقدام قرار
کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی |22, اکتوبر، 2025)–نوجوان قانون دان جاوید چشتی ایڈووکیٹ نے پنجاب حکومت کے مشترکہ اراضی کی جبری تقسیم کے پروگرام کو ’’عوام دشمن اور قانون شکن اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ دیہی امن و سکون کو تباہ کر دے گا اور اس کے نتیجے میں جھگڑے، مقدمہ بازی، اور قتل و غارت میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ
کسی شریکِ ملکیت کو بغیر نوٹس یا مرضی کے بے دخل کرنا قانوناً باطل اور اخلاقی طور پر ظلم ہے۔ زمین کی دفعہ 147 کے تحت صرف وہی تقسیم قانونی کہلائے گی جو تمام شریکوں کی باہمی رضامندی سے عمل میں آئے۔ اگر ایک بھی شریک اعتراض کرے تو جبری کارروائی کالعدم اور غیر مؤثر قرار پائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو بیورو کریسی کی طرف سے گمراہ کن مشورے دیے گئے ہیں کہ اس پروگرام سے عوامی پذیرائی حاصل ہوگی،حالانکہ عملی طور پر اس کے اثرات انتہائی خطرناک ہوں گے۔ ’’یہ اقدام بیوروکریسی کی ایڈوائس پر ایک تجربہ ہے جو کہ قانون معاملہ زمین 1967 کے صریحا خلاف ھے
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی بہتری چاہتی ہے تو اسے قانون معاملہ زمین 1967 کی ابھی شامل دفعہ کے تحت قانونی تقسیم کی مدت چھ ماہ میں مکمل کرنے کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہیے، کیونکہ آج بھی متعدد درخواستیں سالہا سال سے زیرِ التوا ہیں جو حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسی کسی بھی جبری تقسیم سے متاثرہ فریق ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن، صوبائی محتسب یا اینٹی کرپشن حکام سے انصاف کے لیے رجوع کر سکتا ہے اور متعلقہ ریونیو حکام کے خلاف مقدمات کا اندراج کرا سکتا ھے۔انہوں نے پٹواریوں کو خبردار کیا کہ وہ انتظامی افسران کی جانب سے غیر ضروری غیر ضروری دباؤ مسترد کرکے خلاف قانون کوئی بھی تقسیم نہ کریں بصورت دیگر انہیں جیل کی ہوا کھانا پڑے گی بیوروکریسی خود دفاتر سے نکلنے کو تیار نہیں سارا بوجھ پٹواریوں پر ڈال رکھا ہے یہ خود ارکان اسمبلی کے ہمراہ یوسیز میں جائیں اور لوگوں کو تقسیم کے لیئے قائل کریں
انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو عوامی بھلائی کے نام پر ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو قانون کے خلاف ہوں اور جن پر جبری عمل سے عام شہری مزید مشکلات میں پھنس جائیں۔ بیوروکریسی شاہی فرمان جاری کرتی ہے، مگر رگڑا ہمیشہ عام آدمی کو لگتا ہے۔
Choa Khalsa: Haji Shabbir Hussain, father of Abdul Jabbar Saifi and Waqar Hussain, passes away
چوآ خالصہ: عبدالجبار سیفی اور وقار حسین کے والدِ محترم حاجی شبیر حسین انتقال کر گئے




