DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com
Kallar Syedan: Grand Inauguration of Al-Qasim University in Pindora Marks New Era in Regional Education
کلرسیداں دھانگلی روڈ پر واقع گاؤں پنڈورہ میں القاسم یونیورسٹی کا قیام

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم، اکرام الحق قریشی –22 , اپریل، 2025) —کلرسیداں دھانگلی روڈ پر واقع گاؤں پنڈورہ میں القاسم یونیورسٹی کا قیام، اسلامک کیمونیٹی ہانگ کانگ کے سربراہ قمر زمان منہاس نے کروڑوں کی لاگت سے تین منزلہ پرشکوہ عمارت کو اپنی والدہ مختار بیگم ایجوکیشنل کمپلیکس کے نام سے منسوب کردیا اسلامک ٹرسٹ جاپان کے ڈائریکٹر چوہدری غالب حسین نے اپنی والدین کے ایصال ثواب کی نیت سے یونیورسٹی کے لیئے پانچ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔
سابق وفاقی وزیر مذہبی امور اور چانسلر بھیرہ یونیورسٹی پیر سید امین الحسنات نے یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام عالم میں مقام کے حصول کا واحد ذریعہ جدید علوم میں مہارت اور دیانتداری ہے اسلام نے سب سے ذیادہ تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا مگر ہم نے اسلامی تعلیمات کو ترک کرکے ایسی تعلیم کے حصول پر اپنی توجہ مرکوز رکھی جس سے ہمیں صرف نوکری مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیرانہ سالی کے باوجود دو افراد کے سہارے پر کلرسیداں آئے ہیں میں صرف یہ بتابا چاہتا ہے کہ ملک گرداب کی لپیٹ میں ہے کہیں سے خیر اور اطمینان کی خبر نہیں ملتی کہیں دھماکہ تو کہیں پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ٹرین کو یرغمال بنا کر مسافروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ہر وقت تکلیف دہ خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ اس ناامیدی میں بھی امید بڑھاؤں کیونکہ مایوس شخص کی امید بڑھانا بھی نیک عمل ہے اللہ ہماری بستیوں کو اجڑنے سے بچائے انہوں نے القاسم ہونیورسٹی کی کامیابی کے لیئے خصوصی دعا کی۔دربار عالیہ موہڑہ شریف کے سجادہ نشین پیر سید عمر فاروق گل بادشاہ نے کہا کہ فلاحی کاموں کے لیئے افراد کا انتخاب اللہ خود کرتا ہے اب جدید میعاری تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت اور کردار سازی بھی اشد ضروری ہے انہوں نے کہا کہ برصغیر میں اسلام کی اشاعت و ترویج میں صوفیا کا بڑا کلیدی کردار ہے جنہوں نے اپنی حکمت محبت اخلاق اور کردار سے اسلام کو پھیلایا،کرنل وسیم جنجوعہ نے کہا کہ کلرسیداں میں نجی شعبہ میں یونیورسٹی کا قیام تاریخی واقعہ ہے،
جاپان اسلامک ٹرسٹ کے ڈائریکٹر چوہدری غالب حسین نے کہا کہ وہ دیاغیر میں رہ کر بھی اپنے علاقوں کی تعمیر و ترقی اور محروم لوگوں کی بحالی کے لیئے کوشاں رہتے ہیں معاشرے کے بگاڑ اور خرابیوں کے خاتمے کے لیئے ایک تعلیم یافتہ ماں ہی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ فلاحی کاموں میں خرچ کرنے سے رزق اور امدنی میں کمی نہیں بلک ہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اپ اس کا ایک بار تجربہ کرکے دیکھ لیں انہوں نے اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیئے القاسم یونیورسٹی کے لیئے پانچ لاکھ کی نقد امداد کا اعلان بھی کیا۔ریٹائرڈ جسٹس چوہدری محمد طارق نے کہا کہ سرکاری مدارس کے نتائج متاثر کن نہیں تعلیم اور صحت پر ہمارے ہاں توجہ دینے کی بجائے انہیں بوجھ سمجھا جاتا ہے حکمران مسائل کم کرنے کی بجائے تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں ہمارے علاقے میں لوگوں نے اپنی مدد اپ کے تحت ساڑھے تین کروڑ کی لاگت سے سموٹ سے بیول سڑک تعمیر کی ہے یہ کام حکومت کو کرنا چاہیئے تھا انہوں نے کہا کہ جدید علوم کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا انہوں نے فلاحی کاموں میں زمرد خان اور قمر زمان منہاس کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے دوسروں کے لیئے قابل تقلید قرار دیا۔سابق صوبائی وزیر چوہدری محمد ریاض نے کہا کہ ہمارے منتشر اور شتر بے مہار معاشرے کو اس وقت اصلاح اور اسلامی تعلیمات کی اشد ضرورت ہے انہوں نے زور دیا کہ لوگ اسلام کے نعروں کے ساتھ ساتھ اس کی روح کے مطابق اپنی زندگیوں کو بھی ڈھالیں تاکہ ہم بھی اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں۔
پاکستان فلمز سنسر بورڈ کے رکن محمد ظریف راجا نے کہا کہ کوئی شخص اللہ کی دی ہوئی توفیق کے بغیر فلاحی کام نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ دور جدید میں بچوں کو صرف حافظ بنانا کافی نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کی جدید خطوط پر تربیت دی جائے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرسکیں، زمرد خان نے کہا کہ بھیرہ یونیورسٹی تعلیم و تربیت کا بڑا مرکز ہے ریٹائرڈ جسٹس چوہدری محمد طارق گارڈن کالج میں میرے استاد رہے ان سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع ملے ہیں جبکہ قمر زمان منہاس خدمت خلق کا استعارہ ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان سویٹ ہوم میری وجہ سے نہیں اللہ کے فضل و کرم سے چل رھا یے میں نے کئی بار موت کو اپنے قریب پایا بینظیر بھٹو کی شہادت کے وقت بھی وہاں موجود تھا اللہ نے کئی بار مجھے نئی زندگی دی میں نے سیاست ترک کرکے خود کو یتامی بچوں کی خدمت کے لیئے وقف کر رکھا ہے نبی صلعم کی نسبت جیسے بچوں سے پیار میری سب سے بڑی دولت ہے میں جو کچھ ان بچوں کے لیئے سوچتا ہوں اللہ وہ کردیتا ہے یتیم بچوں کی خدمت سے بڑا دنیا میں کوئی اعزاز نہیں ہے سویٹ ہوم کیبچے اج ملک کی ہر بڑی یونیورسٹی اور نامور تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر ریے ہیں مجھے فخر یے کہ ہمارے دو درجن بچے آج قائداعظم ہونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
دربار عالیہ نیاریاں شریف کے سجادہ نشین پیر شمس العارفین صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اج کے پرفتن دور میں تمام اطراف سے اسلام پر یلغار جاری ہے وقت دعا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نئی نسل کو بھی جدید علوم سے آراستہ کرنا ہو گا عشق مصطفی سے خالی دل تن من دھن قربان کر ہی نہیں سکتا اج مسلم امہ تقسم ہے فلطسین اور کشمیر میں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ہمیں اج درہیش صورتحال سے نکلنے کے لیئے اللہ نبی صلعم اور صحابہ کی زندگیوں سے روشنی لینی ہو گی انہی کی زندگیوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں تلوار کے ساتھ ساتھ کردار سے بھی دل فتح کر لیے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ شیشے توڑنے سے نہیں کردار سے کامیابی قدم چومتی ہے۔اسلامک ٹرسٹ ہانگ کانگ کے سربراہ حاجی قمر زمان منہاس نے کہا کہ القاسم یونیورسٹی کے قیام کا مقصد پوٹھوہار اور آزادکشمیر کے ہونہار بچوں کو اپنے گھروں کے قریب جدید علوم سے اراستہ معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی ہے
اس ادارے میں مصر سے قرآ اتے ہیں طالبات کے لیئے الگ عمارت ہے ہمارے اس ادارے کی طالبات پی ایچ ڈی کر رہی ہیں یہی طالبات ہمارے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لائیں گی میں نے اپنی والدہ سے منسوب تین منزلہ پرشکوہ عمارت میں 130 کمرے تعمیر کیئے ہیں مذید دوسو کنال رقبہ حاصل کر لیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ زمرد خان اور حاجی محمد شریف جیسے لوگ صدیوں بعد جنم لیتے ہیں یونیورسٹی کے سرپرست اعلی حاجی محمد شریف نے کہا کہ حکومت نے تحصیل کلرسیداں کی اڑھائی لاکھ کی ابادی کے لیئے کوئی تعلیمی ادارہ قائم نہ کیا اج ہم نے معززین علاقہ کے تعاون سے یہاں ہونیورسٹی قائم کی ہے یہ کلرسیداں میں ہی نہیں بلکہ چند کلومیٹر کی دوری پر ازادکشمیر کے لوگوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرے گی ہم کوشش کریں گے کہ کوئی بچہ بچی جدید معیاری علوم سے محروم نہ رہ جائے اس موقع پر ملک محمد شاکر،حاجی محمد عرفان،محمد اعجاز بٹ،توقیراعوان،چوہدری ابرار حسین،بیرسٹر چوہدری شہریار،بیرسٹر احمد صغیر راجہ،پیپلز پارٹی ضلع راولپنڈی کے صدر چوہدری ظہیر محمود،چوہدری اسد الرحمان،شیخ محمد حنیف،مولنا عبدالشکور نقشبندی،خلیفہ محمود اختر نقشبندی و دیگر بھی موجود تھے









