EUROPEDailyNews

Norway; Peaceful Public rally held in Drammen to protest growing extremism against the Muslim

ناروے۔درامن شہر میں بسنے والے مسلمانوں نے گذشتہ دنوں اس واقعہ کے خلاف ایک پرامن ریلی کا انعقاد کیا

اوسلو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم,عقیل قادر)– چند ہفتے قبل ناروے کے شہر درامن میں رات بارہ بجے کے قریب ایک شر پسند شخص نے قرآن پاک کو جلاکر اس کی بے حرمتی کی، جس کی وجہ سے ناروے بھر میں مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ناروے میں مقیم مسلمانوں کو چند شر پسند لوگوں اور بہت ہی چھوٹی انتہا پسند جماعتوں کی طرف سے اکثر ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ درامن شہر میں بسنے والے مسلمانوں نے گذشتہ دنوں اس واقعہ کے خلاف ایک پرامن ریلی کا انعقاد کیا جس میں کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ ریلی سے درامن سٹی کے سابق ڈپٹی مئیر یوسف گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے اخوت، بھائی چارے اور احترام کے رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ نوجوان سوشل ایکٹیوسٹ وہاب قادر نے کہا کہ ایک دوسرے سے رنگ و نسل کی وجہ سے نفرت نہیں کرنی چاہیے اور ایسی آزادی بھی نہیں ہونی چاہیے جو نفرت اورانتہا پسندی پھیلانے کا باعث بنے۔ درامن جامعہ مسجد کے امام و خطیب مفتی محمد اویس نعیمی نے کہا کہ باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں نفرتوں کا خاتمہ کیا جائے، انہوں نے مزید کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا علم بردار اور محبت و خیر سگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے جس میں ظلم و تشدد، انتہا پسندی اور خو ف و دہشت کا کوئی تصور نہیں۔ انہوں نے آخر میں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آزادی رائے کی آڑ میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح نہ کیا جائے اور قرآن جلائے جانے والے واقعات کو روکا جائے۔ ترکش نثراد خدیجہ لک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتیں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اورہمارے بچوں کا مستقبل بھی اسی طرح تابناک ہونا چاہیے جس طرح مقامی بچوں کا ہے۔ ریلی میں نقابت کے فرائض درامن مسجد کے صدر ساجد مختار نے احسن انداز میں سر انجام دیئے۔

Norway; A Public rally was held under the supervision of Mufti Malik Awasi Naheemi to protest against growing far extremism, Large number of Pakistani community living in Norway participated in the rally.

Show More

Related Articles

Back to top button
Close