Kallar SyedanDailyNews

Kallar Syedan; Ch Shafqat Mahmood holds reception for Press club Kallar Syedan elected members

پریس کلب کلر سیداں کے نو منتخب ارکان کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ

کلر سیداں (اکرام الحق قریشی)چیئر مین یونین کونسل نلہ مسلماناں چوہدری شفقت محمود نے کہا ہے کہ کسی بھی علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے با مقصد صحافت نا گزیر ہے کلر سیداں کے صحافیوں نے ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے جدو جہد کی ہے ان کا یہ کردار دیگر کے لیے بھی مشعل راہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنی جانب سے پریس کلب کلر سیداں کے نو منتخب ارکان کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی علاقے میں ہونے والی ترقی میں مقامی صحافیوں کا بڑا نمایاں کردار رہا ہے لوگ آج بھی ان سے ایسی ہی توقع رکھتے ہیں حکومت کو ئی بھی ہو صحافیوں کا نقطہ نظر علاقائی تعمیر و ترقی ہی رہتا ہے۔جاوید اقبال،شیخ شبیر ثانی،قیصر اقبال ادریسی،چوہدری عامر کمبوہ نے کہا کہ علاقائی مفادات کا تحفظ ہمیشہ سے ہماری اولین ترجیح رہی ہے،اکرام الحق قریشی،عابد زاہدی،راجہ محمد سعید نے بھی خطاب کیاتقریب میں تمام عہدے داران نے شرکت کی۔


وزیراعظم نے دنیا کا نقشہ بھی تبدیل کر دیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب یہ نئی بونگی نہ ماریں۔,اظہر محمود بھٹی

Azhar Mahmood Bhatti deplores language used by PM

 کلر سیداں (اکرام الحق قریشی) بازاری زبان کا استعمال بازاری لوگ کرتے ہیں عمران خان اس ملک کا سلیکٹڈ وزیراعظم ہے اگر اسے اپنی عزت کا خیال نہیں تو ان لوگوں کی عزت ہی کا خیال کر لے جنہوں نے اسے سلیکٹ کیا اور وزیراعظم کی کرسی پر بٹھایا۔ یہ سلیکٹ ٹولہ اپنی حرکتوں اور زبان درازیوں کی وجہ سے ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ جو حالات چل رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تبدیلی کے دلدادہ لوگ بھی اب تبدیلی کے بخار سے باہر آ رہے ہیں۔ وہ بھی اس ٹولے کی حرکات کو دیکھ کر شرما رہے ہیں۔ سلیکٹڈ وزیراعظم نے ایران میں اپنے ملک کے بارے میں جو ہرزہ سرائی کی وہ قابل مزحمت ہے۔ یہ باتیں پی پی پی تحصیل کلر سیداں کے سیکرٹری انفارمیشن اظہر محمود بھٹی نے اپنے ایک بیان میں کہی انہوں نے کہا تبدیلی کے مارے ہوئے وزیراعظم نے دنیا کا نقشہ بھی تبدیل کر دیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب یہ نئی بونگی نہ ماریں۔


جمعرات کی شام بھی کلر سیداں اور گردونواح میں بدترین طوفان بجلی کا نظام ایک بار پھر درہم برہم

Electricity loss due to heavy rainfall and severe weather

 کلر سیداں (اکرام الحق قریشی) جمعرات کی شام بھی کلر سیداں اور گردونواح میں بدترین طوفان بجلی کا نظام ایک بار پھر درہم برہم ہو گیا کھیت کھلیانوں میں پڑی گندی کی فصل بھی ہوا میں اڑتی نظر آئی تفصیلات کے مطابق جمعرات کی شام ساڑھے چھ بجے شدید طوفان آیا جس کے آتے ہی بجلی کلر سیداں شہر اور مضافات میں بند ہو گئی شدید طوفان سے کھیت کھلیانو ں میں موجود گندم کی فصل بھی ہوا میں اڑتی نظر آئی مختلف باغات بھی بری طرح سے متاثر ہوئے قانون گو حلقہ چوآخالصہ میں آم کی فصل اس بار معمول سے خاصی کم تھی مگر شدید طوفان سے اس علاقے میں آموں کی فصل بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔کئی مقامات پر درختوں کی شاخیں سڑکوں پر گرنے سے آمدورفت میں بھی مشکلات پیش آئیں۔


ضلع کونسل کے زیر انتظام چلنی والی رورل ہیلتھ ڈسپنسریاں مسلسل نظر انداز ہونے کے باعث زبوں حالی کا شکار ہو گئ

Health dispensaries run under Distt council left disserted and in ruins

 کلر سیداں (اکرام الحق قریشی) ضلع کونسل کے زیر انتظام چلنی والی رورل ہیلتھ ڈسپنسریاں مسلسل نظر انداز ہونے کے باعث زبوں حالی کا شکار ہو گئیں۔ادویات سمیت پانی و بجلی کی سہولیات کا تصور نہیں،اکثر ڈسپنسریاں پرائیویٹ رہائشی کمروں میں اپنا کام چلا رہی ہیں۔عوامی حلقوں کا شدید احتجاج،وزیر اعلی پنجاب سے دیہی ڈسپنسریوں کو بنیادی مراکز صحت کے برابر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ۔تحصیل کلر سیداں میں ڈیرہ خالصہ،کنوہا،سکرانہ،کھڈ،بناہل اور کاہلیاں سہالیاں میں دیہی ڈسپنسریاں قائم ہیں جو حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہیں،دیہی ڈسپنسری کھڈ اور بناہل میں علاج معالجہ کے معاملات واٹر کیرئیر اور ایک عدد چوکیدار جبکہ کنوہا میں ایک عدد دائی کے سپرد ہیں۔سکرانہ میں ایک عدد ڈسپنسر،چوکیدار اور دائی،کالیاں میں میڈیکل آفیسر سمیت دائی اور چوکیدار جبکہ ڈیرہ خالصہ تالا بندی کا شکار ہے۔ڈیر ہ خالصہ اور کالیاں سہالیاں کے علاوہ باقی تمام دیہی ڈسپنسریاں پرائیویٹ کمروں میں اپنے معاملات چلا رہی ہیں۔ڈسپنسریوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے جہاں بجلی اور پانی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں گزشتہ حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت بھی ان ڈسپنسریوں کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتے ہوئے انہیں مسلسل نظر انداز کر رہی ہے جبکہ 2016 کے بعد اب تک ڈسپنسریوں کو ادویات فراہم نہ ہو سکیں جس کی وجہ سے عوام کو علاج معالجہ میں بے پناہ مشکلات درپیش ہیں۔

Show More

Related Articles