articles

Highlights of the lives of famous writers

کہانی کار
دنیا کے چند نامور لکھاریوں کی زندگیوں کی جھلکیاں
عبدالوارث ساجد
نجیب محفوظ،

نجیب محفوظ، افسانہ نگار، ناول نگار، فلم نگار کالم نگار، بیورو کریٹ، نوبل انعام یافتہ تھے ۔ بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جن میں اتنی زیادہ خوبیاں اور صلاحتیں موجود ہوں ان کی پیدائش1911ء میں مصافات قاہرہ، مصرمیں ہوئی اور انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی قاہرہ میں حاصل کی ۔قاہرہ یونیورسٹی سے فلسفے میں گریجویشن کیاانہیں بچپن ہی سے کہانی سے دل چسپی تھی اسکول میں کہانیاں پڑھتے ہوئے پائے جاتے۔1938ء میں پہلی کہانی ’عبث القدر‘ کی اشاعت ہوئی، پھر 1939ء میں کہانیوں کے پہلے مجموعے کی اشاعت ہوئی۔ کہانیوں کا تادم مرگ سلسلہ آب رواں۔ 77 برس وہ مسلسل لکھتے رہے؛ کم و بیش تیس ناولوں کی تخلیق کی۔ کہانیوں کے کئی مجموعے، کالم، تحقیقی مضامین، فلمیں اور ڈرامے نشر ہوتے رہے۔1945ء میں ناول ’خان الخلیل‘۔ 1947ء میں ناول ’کوچہ مداق‘ نے اُنہیں مصر کے صف اول کے ادباء میں لاکھڑا کیا۔ وہ ہر سال متواتر ناول لکھتے رہے یہاں تک کہ 1959ء میں ان کے ناول ’اطفال گبلاوی‘ کی مصر میں اشاعت پر پابندی لگ گئی اور عالمی ناقدین ادب کی توجہ اُن کی جانب مبذول ہو گئی۔ اسی ناول پر میکسیکن اداکار سلما ہائیک نے ایک کام یاب فلم بنائی، پھر نجیب پر عالمی شہرت کے دروا ہو گئے۔ انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ چیدہ چیدہ ناولوں اور کہانیوں کے مجموعوں میں نام:1961ء چور اور کتا، 1962ء خدا کی دنیا، 1963ء’زابالاوی‘ 1965ء فقیر 1972ء،’شیشہ‘ 1975ء ’جناب محترم‘، 1981: ’عربی دن رات‘ 1988ء: ’فوارہ و مقبرہ، شامل ہیں یوں لگتا تھا جیسے وہ پیدا ہی لکھنے کے لیے ہوئے ہیں تو وہ لکھتے رہے، سراہے گئے ، ستائے گئے ( 1984ء : فتواے ارتدد، 1994ء : قاتلانہ حملہ)؛ اس فسوں کاری کے ساتھ ساتھ وہ ایک کام یاب بیورو کریٹ بھی رہے: طویل عرصے محکمہ اوقاف سے وابستگی ، ڈائریکٹرآف سنسربورڈ، ڈائریکٹر آف سنیما سپورٹ، بہ طور مشیروزرات ثقافت رہے ۔ 1988ء : نوبل انعام برائے ادب۔ ’بالزاک مصر‘ کا خطاب پایا۔ 29 اگست، 2006ء میں94 برس کی عمر میں اس نادر روزگار تخلیق کار کی السرکے عارضے سے وفات ہوئی نجیب مسلمان دنیا کے زوال کا سبب مسلمان ہی کو گردانتے تھے، اس پر معتوب بھی رہے۔

محی الدین نواب
کہتے ہیں کہ محی الدین نواب کو پڑھنے کے لیے قاری کے پاس عمر خضر اور قارون کا خزانہ ہونا چاہیے کہ ان کی کتب خریدتارہے اور بیٹھا پڑھتا رہے۔ جب باقی لکھاری لکھتے لکھتے تھک جاتے ہیں تو صرف اور صرف محی الدین نواب کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ نت نئے الفاظ اور منفرد ترین خیالات جو نواب کا مقدر ہیں، ان کے عالی درجہ دماغ پر یوں وارد ہوتے ہیں کہ قاری چاہے بھی تو کہانی کی بازگشت سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔کیوں کہ یہ کہانی ایک جیتی جاگتی زندگی بن جاتی ہے، افسانے کا خول توڑ کر باہر نکل آتی ہے۔
محی الدین نواب6ستمبر1930ء کو بنگال میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ دادا مصور تھے۔ ان کی تعلیم کا آغاز ہندی زبان میں ہوا۔ پھر ایک کرسچن مشنری سکول میں داخل ہوئے تو انگریزی میں بھی انہیں مہارت حاصل ہو گی۔ اُردو انہیں اپنے گھر سے ملی تھی اور بنگلا زبان باہر سے۔ فارسی اور عربی انہوں نے دوران تعلیم سیکھی۔ وقت نے انہیں موقع نہ دیا کہ وہ کسی استاد قلم کار سے اصلاح لیتے لیکن مطالعہ شروع سے ہی ان کی گھٹی میں پڑا ہوا تھا۔ وہ اوائل عمر سے ہی لکھنے لگے۔ 23 سال کی عمر میں ان کی پہلی کہانی ’’ایک دیوار، ایک شگاف‘‘ کراچی کے ایک نام وررسالے ’’رومان‘‘ میں شائع ہوئی اور انہیں اس کا معقول معاوضہ ملا جس سے انہوں نے اپنے دوستوں کو دعوت عام دی۔ اپریل 1970ء میں وہ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان آئے اور لاہور میں ٹھہرے۔ لاہور میں جلد ہی انہوں نے اپنا زور قلم منوا لیا اور اس ہیرے کا انتخاب ایک بہت بڑے اشاعتی ادارے نے کر لیا وہ کراچی منتقل ہو گئے۔ تب دولت ان کے گھر کی باندی بن گئی اور ان کی شہرت کا ڈنکاہر سو بجنے لگا۔ لاریب نواب صاحب اُردو میں سب سے مہنگے رائٹر تھے۔ انہوں نے ایک طویل سلسلہ وار کہانی ’’دیوتا‘‘ لکھتے ہوئے انٹرنیشنل ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس سے پہلے طویل ترین کہانی کا ریکارڈ ہولڈر ایک جاپانی رائٹر تھا جو زیادہ دیر نواب صاحب کے طوفانی قلم کے سامنے جم نہ سکا۔ ان کی یہ داستان عصر حاضر کی داستان الف لیلہ ولیلہ ہے۔
اب تک اُن کی ایک سو سے زائد کتب سامنے آچکی ہیں۔ ان کے بہت سے ناول بہت مشہور ہوئے مثلاً پتھر، جرم وفا، اندھیر نگری، حیا کی سولی پر، آدھا چہرہ ، قصہ نصف صدی کا، شارٹ کٹ ، پل صراط ، ناگزیر وغیرہ۔ ان کی کہانیوں پر مبنی بہت سی کتابیں بھی ریکارڈ سیل کر چکی ہیں مثلاً ایمان کا سفر، کچرا گھر، ایمان والے، کمبل، شعلوں کی سیج ، بدل الجمع ، طاعون، راہِ خارزار وغیرہ۔ نواب صاحب نے بنگال، انڈیا اور پاکستان کے بڑے بڑے فلم ڈائریکٹرز کے لیے فلمیں بھی لکھیں۔ ان کے ناول ’’آدھا چہرہ‘‘ کی ڈرامائی تشکیل بھی کی گئی۔ اُن کی کہانیوں کو توڑ موڑ کر بھی فلمیں بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس کوشش میں اصل کہانی خراب ہو جاتی ہے، اس لیے وہ اس بات اور چوری کو پسند نہیں کرتے مگر اپنے اعلیٰ ظرف کی بدولت خاموش رہتے رہے۔
نواب صاحب قلم کا گھوڑا بھگانے میں شہ سوارتھے۔ ان کی ایک مٹھی میں الفاظ بند ہوتے تھے تو دوسری میں خیالات ۔ الفاظ سانس لینے کو رکتے تو خیالات برسنے لگتے تھے اور ابھی خیالات تھمنے کا نام نہیں لیتے کہ الفاظ پھر اپنا رنگ جمادیتے ۔ ان کی مٹھیاں کھلتی اور بند ہوتی جاتی تھیں، قاری کہانی میں دوبتا چلا جاتا تھا۔ کہانی نواب صاحب پر وارد نہیں نازل ہوتی تھی، آسمان سے اللہ مالک کا خاص انعام ان پر اترتا تھا۔ نواب صاحب انسانی نفسیات پر بہت غور و فکر کرتے ہوئے کہانی لکھتے ۔ پھر انہیں بنگلا، ہندی اردو، انگریزی، عربی فارسی، پنجابی اور سندھی زبانوں پر دسترس حاصل تھی، لہٰذا کئی زبانوں کا ادب پڑھتے رہتے ۔ وہ بہت مقامات پر رہ چکے تھے۔ اور ان میں تحقیق کا مادہ بہ درجہ کمال موجود تھا۔ وہ مکمل تحقیق و تدبر کے بعد ہی کچھ لکھتے تھے۔ ان تمام عوامل سے ہی وہ اتنے بڑے لکھاڑی بنے ۔ محی الدین نواب کی والدہ انہیں ’’نواب‘‘ نہیں بلکہ ’’نواب صاحب‘‘ کہلوانا پسند کرتی تھیں۔۔۔ اور پھر نواب صاحب نے واقعی ا ن کا ارمان پورا کر دکھایا۔ نواب صاحب نئی نسل کا انٹرنیٹ اور موبائل فون پر وقت گنوانا، بہت برا خیال کرتے تھے کہ جدید دور کی یہ دو نعمتیں وقت گنوانے کے لیے نہیں، صرف زندگی سنوارنے کے لئے استعمال کرنی چاہیے۔ہم آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ اس عظیم الشان فن کارنے تنگی ترشی کازمانہ بھی دیکھا مگر یہ حالات سے نبرد آزما رہے اور آج ان کا نام ہی ان کا تعارف ہے۔ نواب صاحب نے بچوں کے لئے بھی بہت سی کہانیاں لکھیں جو تعلیم و تربیت سمیت بچوں کے مختلف رسالوں میں چھپتی رہیں۔

سرآرتھر کانن ڈائل
شاہ جاسوساں، شہرۂ آفاق کردار، ’شرلاک ہومز‘ کے خالق: سرآرتھر کانن ڈائل ، مشہور شاعر ہی نہ تھے بلکہ افسانہ نگار، ناول نگار، ڈاکٹربھی تھے برسوں کا ایک سیکڑا بیت چکا، اور دوسرابھی بیتا سمجھیں، مگر کانن ڈائل اور شرلاک ہومز ہنوز تازہ بہ تازہ ہیں ۔ سر آرتھر کانن ڈائل کی پیدائش: 1859ء میں ایڈنبرگ (اسکاٹ لینڈ) میں ہوئی ان کے والد سرچارلس ڈائل فن مصوری کے دل دادہ او رموز آشنا تھے ان کی کٹرکیتھولک ماحول میں پرورش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم رومن کیتھولک اسکول سے حاصل کی خلاق ذہن کی پہلی فتنہ گری؛ 1875ء: کیتھولک اسکول سے گلوخلاصی، مذہب سے بیزاری کا اعلان کہ اُن کا فہم وادراک خدا کا مادی وجود دیکھنے کا خواہاں تھا۔ 1876ء میں میڈیکل یونیورسٹی آف ایڈنبرگ میں داخلہ لیاکہاں طب اور کہاں ذہن فتنہ سازو فسوں کار۔ بیس سال کی عمر، دوران تعلیم پہلی کہانی کی اشاعت جسے سراہانہ گیا۔ 1881ء: میں طب کی سندپائی 1885ء سوکھے کے مرض پرڈاکٹریٹ، اوراس دوران جزائر مغربی افریقہ کے طویل سمندری سفر؛ بحری جہاز پربہ طور معالج خدمات کی انجام دہی، نتیجہ: ڈاکٹر کی اوٹ چھپاشرلاک ہومز باہر آگیا۔ ہمپشائر میں مطب کی داغ بیل ڈالی مگر کہاں صاحب! مطب میں بیٹھ کے ڈاکٹر لکھے کہانیاں تو مطب کیسے چلے! ناکام رہے۔ 1887ء شرلاک ہومز پر پہلی کہانی ’اسٹڈی ان اسکیئرلٹ‘ کی اشاعت اور مقبولیت ملی۔ 1870ء: ’اسٹرینڈ میگزین‘ میں کہانیوں کے مجموعے ’دی ایڈونچرز آف شرلاک ہومز‘ کی اشاعت ہوئی جس نے جاسوسی ادب کے قارئین پر سحرطاری کر دیا،جو آج تک قائم دائم ہے۔ پھر شرلاک ہومز پر کہانیوں کا ایک طویل سلسلہ جاری و ساری رہا اُن کی۔ کہانیوں کے مجموعے: 1894ء: میں ’دی میموریز آف شرلاک ہومز، ‘ 1904ء:’دی ہاؤنڈز آف دی باسکرز ولز ، 1914ء : ’دی ویل آف فیئر، 1917ء: ’ہزلاسٹ بو،‘ 1927ء: ’دی کیس بک آف شرلاک ہومز۔‘ چھپن سے زائد کہانیاں اور چار ناول شائع ہوئے یہی نہیںآٹھ طویل تاریخی ناول۔ پانچ طویل مہماتی کہانیاں، اور بھی کہانیاں، اور بھی کہانیاں کہ جن کا شمار سردست ممکن نہیں۔ کانن ڈائل ’ہومز‘ کی چھاپ سے کچھ بیزار ہوئے تو ’دی فائنل پرابلم‘ میں شرلاک ہومز کو عدم آباد روانہ کر دیا، مگر قارئین کے دلوں کا نقش کون مٹاتا؟ ہومز کے متوالوں نے طوفان اٹھایا کہ کانن ڈائل کو ’دی ایڈونچر آف ایمپٹی ہاؤس‘ میں ہومز کو پھر سے زندگی دینی پڑی۔کانن ڈائل فوج میں بھی بھرتی ہوئے، برطانوی جنگی معاملات پر بھی لکھا، دو مرتبہ اعزازی رکن پارلیمان بھی منتخب ہوئے کانگوکی آزادی میں اہم کردار،ادا ’کرائم آف کانگو‘ نامی کتابچہ تحریر کیا۔ دو شادیاں کیں پہلی بیوی تھیں لوئیس ہاکنس، اور تو اور خفیہ معاشقہ تھا جین لیکی سے۔ 1906ء لوئیس ہاکنس کی وفات ہوئی تو اُسی سال محبوبہ جین لیکی سے دوسری شادی کر لی۔ 7جولائی 1930ء : اختلاج قلب، محبوب بیوی کی آغوش میں دم توڑا، آخری جملہ تھا’’تم بہت شان دار ہو!‘‘ بہت کم کہانی کاروں کے حصے میں اتنی عوامی مقبولیت آتی ہے جتنی سرآرتھر کانن ڈائل کو ملی؛ انکاگھر جون کاتوں بہ طور یادگار سربہ مہر کر دیا گیا، ’کروبورو‘ کے وسط میں ان کے مجسمے کے ساتھ ہی شرلاک ہومز بھی بہ صورت مجسمہ ایستادہ ہے جی ہاں! سنجیدہ اور خشک چہرے، چونچ دار ناک ، سرپر مخصوص کلاہ اذن پوش، جادوئی عینک، ہمہ وقت ہاتھ میں موجود مخصوص پائپ، اور لمبی ٹانگوں والا شرلاک ہومز! شرلاک ہومز پر بے شمار ڈرامے، بے شمار فلمیں بنائی گئیں۔ کانن ڈائل کے بعد ہومز کا کردار بہت سوں نے لکھا، مگر جس چھاپ کو کانن ڈائل خودنہ مٹاسکے، اسے کوئی اور بھی نہ مٹاسکا۔ کانن ڈائل کی خواہش تھی کہ شرلاک ہومز کے علاوہ اُن کی دیگر تخلیقات کو بھی اسی طرح سراہا جائے۔ ہر آرزو کہاں پوری ہوتی ہے؛ سرآرتھر کانن ڈائل کی نمائندگی شرلاک ہومز اور ڈاکٹر واٹسن ہی کے ذمے رہی، جسے آج تک یہ دونوں بہ تمام وکمال نبھا رہے ہیں۔ 
حسن منظر
حسن منظرنام تھا اور معلم، پیشہ ان کی طبیب، کہانی کار رہے۔ پیدائش: 4 مارچ، 1934ء کوہاپڑ (اترپر دیش)۔ میں ہوئی اس کہانی نویس نے انٹرتک تعلیم مراد آباد سے حاصل کی برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور پھر کنگ ایڈورڈ کالج سے طب میں سند طب میں مزید تعلیم یونیورسٹی آف ایڈمبرا سے۔ درس وتدریس سے وابستگی ، بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں پڑھایا، یہ شوق ملازمت تھا کہ شوق سیاحت کہ نگری نگری گھومے؛ ایڈمبرا، اسکاٹ لینڈ، ملایا، نائیجیریا، لاگوس، ہالینڈ، سعودی عرب۔ کہانیاں کے چھ مجموعے: ’رہائی،‘ ’ندیدی، ’انسان کا دیش‘ ’سوئی بھوک، ’ایک اور آدمی‘ ’خاک کا رتبہ‘ شائع ہوئے اور بھی افسانے، بچوں کے لیے کہانیاں ، مختلف مضامین اور دوکتابوں کے ہندی سے ترجمے (’پریم چند گھر میں، ازسورانی اور ’منگل سوتر‘ ازپریم چند)۔ عرصہ دراز سے حیدر آباد ، سندھ میں بہ طور نفسیاتی معالج مصروف و معروف ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی
راجندر سنگھ بیدی؛ ڈراما نگار فلم نگار، ہدایت کار، اردو کے صاحب اسلوب ، سادہ کار نقش گر، افسانہ نگار ۔یہ سب خوبیاں اس ایک انسان کا خاصا تھیں ان کی پیدائش: یکم ستمبر 1915ء لاہور میں ہوں عسرت زدہ ماحول میں پرورش پائی تعلیم: ایف اے، ڈی اے وی کالج لاہور، والد: ہیرا سنگھ بیدی، فلموں کے رسیا، انتھاے شوق دیکھئے کہ بیوی کے مرنے پر راجندر کے ہم راہ ’امرت سر‘ پہنچے، جہاں فلم ’’سوہنی مہینوال دیکھ کر باپ بیٹے نے غم غلط کیا۔ 1930ء میں پندرہ برس کی عمر میں پہلا افسانہ ’بندے ماترم‘ شائع ہوا۔1933ء میں شادی سے انکارکیا کنویں میں کود گئے، مگر بچالیے گئے، اسی سال ترک تعلیم اور لاہور ڈاک خانے میں ملازمت کی پھر 1934ء سوما دیوی سے شادی ہوئی۔ 1939ء میں پہلے افسانوں کا مجموعے ’دانہ و دام‘ کی اشاعت 1943ء: ڈاک خانے سے استعفا اور آل انڈیا ریڈیو لاہور سے وابستگی، اور منزل تھی فلم نگری؛ حسینون، نازنینوں اور مے کشوں کی فلم نگری، اس دوران ریڈیو کے لیے کئی یادگار ڈرامے لکھے۔ 1949میں ریڈیو سے استعفا اور فلم نگری (بمبئی) آمد ہوئی جہاں ہزارروپے ماہ وار پر فلم نگاری میں ایسے بسے کہ یوں کہ پھر فلم نے ان کا دامن نہ چھوڑا؛ ’بڑی بہن‘، ’داغ‘، ’دیواداس‘ ، ’مسافر، اور ’ستیہ کام ، جیسی شاہ کار فلمیں لکھیں، ستر سے زائد فلمیں لکھیں؛ کام یاب ہدایت کار بھی رہے، ’گرم کوٹ‘ ، ’ دستک‘ ، ’ بھاگن‘ ، اور بھی کئی فلموں کی ہدایت کاری کی اس کے علاوہ ان کے افسانوں کی بیس سے زائد مجموعے، چند کے نام : 1942ء :’گرہن،‘،1949ء: ’کوکھ جلی‘، ’1965ء ’اپنے دکھ مجھے دے دو ، ’1974ء ہاتھ ہمارے قلم ہوئے، 1983ء ’مکتی بودھ۔‘ شائع ہوئے اعلااعزازات: میں ’پدم شری‘ ، ’ساہتیہ اکیڈمی‘ ، ’اردو ادب ‘ ، ’فلم فیئر، جیسے اہم اعزازات سے نوازا گیا ۔1977ء میں بیوی کا انتقال ہوا۔ 1978ء : نوخیز اداکارہ ’سمن‘ کو دل دے بیٹھے ۔ عشق پیری نے کہیں کا نہ رکھا، مبتلاے بارہ خواری ہوئے،اس مرتبہ ’سمن‘ کی محبت میں ساتویں منزل سے کود گئے ، پھر بچالیے گئے۔ اکلوتے بیٹے نریندرمودی سے ناچاقی رہی۔ نریندر ان کی زندگی ہی میں فوت ہوا آخری وقت پریشانی اور معذوری میں گزارا اس نابغہ روزگار خلاق کی تاریخ وفات: 11نومبر 1984ء ہے کرکوشن چندر، سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی جیسے قبول عام پانے والے ہم عصروں کے مقابلے میں ان کی فن کاری کا جادو ’سہج پکے سو میٹھا ہو‘کے مصداق اب سرچڑھ کر بول رہا ہے۔
الیکساندر سیرا فیمووچ
الیکساندر سیرا فیمووچ؛ روس کے نام ور، نیرنگ زماں خیال کار، نقشہ گرفسانہ نگارتھے پیدائش:19 جنوری 1863ء ہے نسلاقزاق تھے اور ان کے والد قزاق رجمنٹ میں افسرتھے انہوں نے فوجی ماحول میں پرورش پائی پنگھوڑے میں گولہ بارود کی گھن گرچ ایسی سنی کہ عمر بھر مزاج میں شامل رہی، جب بولے تو سامع گنگ ہوئے، لکھا تو قاری تابع ہوئے۔ ابتدائی تعلیم : اُست میدوے دتس کا یا سے حاصل کی پھر پیٹرز برگ یونیورسٹی میں شعبۃ ریاضی و طبیعیات میں داخلہ لیا۔ یہ وہ دور تھا جب زار کے خلاف لینن کی انقلای تحریک پینپ رہی تھی، سیرافیمووچ یونیورسٹی میں تحریک کے روح و رواں ٹھہرے۔ 1887 ء میں پکڑے گئے، معتوب ہوئے، زار حکومت نے بحر منجمد شمالی جلاوطن کر دیا، جہاں برف ہی برف تھی۔ 1889ء دور جلاوطنی میں پہلی کہانی ’برفانی موت‘، ’دوموتیں‘ اور متعدد بے مثال کہانیاں لکھیں۔ 1903ء میں میکسم گور کی نے ماسکوبلالیا، اور اپنے اشاعتی ادارے سے سیرا فیمورچ کی کہانیوں کے تین مجموعے شائع کیے۔1905ء: میں دامے درمے سخنے ، قدمے انقلاب ماسکو میں حصہ لیا ۔ 1910ء فن لینڈ گئے، وہاں بھی انقلابی مشغلہ ہم راہ رہا۔ 1915ء میں پہلی جنگ عظیم بسپا ہونے پر گلاشیا کے محاذ پر گئے جہاں لینن کی ہم شیرماریا الیانوواکے ہم راہ جنگی خدمات انجام دیں۔ 1918ء خانہ جنگی میں رہے اور جنگ کے خاتمے پر ’کیمونسٹ پارٹی‘ میں شامل ہوئے۔ اسی سال ماسکو سے ایک اخبار نکالا۔ 1925ء میں ایک جنگی واقعے پر مبنی ناول ’سیل آہن‘، جس نے سیرافیمورچ کو عالمی شہرت سے نوازا۔ حب الوطنی کی عظیم جنگ (دوسری جنگ عظیم) کے محاذ پر اسی سال کی عمر میں پہنچے، اور بہ طور جنگی نامہ نگار کام کیا، ولولہ انگیر کہانیاں اور مضامین لکھے۔1943ء میں انہیں عظیم روسی اعزاز ’اسٹالن‘ سے نوازا گیا ۔ 19 جنوری 1949ء اس بے مثل فسانہ کار کی تاریخ وفات ہے جسے سرکاری اعزاز کے ساتھ ماسکو میں دفن کیا گیا۔
محمد عاصم بٹ:
محمد عاصم بٹ: کالم نگار، صحافی، مترجم، مضمون نگار، تازہ کارا فسانہ نگار اپنی شہرت ہر سو پھیلادیئے ہیں ان کی پیدائش: 9دسمبر1966ء کولاہورمیں ہوئی اور انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور ہی میں 1990ء : گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے فلسفے میں ایم اے۔ کیا اور 1990ء ہی میں مصاحبوں پر مشتمل پہلی کتاب ’دوسرا آدمی‘ کی اشاعت ہوئی 1991ء میں صحافت سے وابستگی، بہ طور مترجم روزنامہ ’دی نیوز‘ میں ملازمت کی کافکا کہانیاں، کی اشاعت 1992ء میں ہوئی مائیکل ہارٹ کی کتاب کا ترجمہ، ’سوعظیم آدمی۔‘ خوب سے خوب کی تلاش میں آگئے سے اور آگے ؛1990-96ء جنگ پبلشرز سے وابستگی ہوگئی، اس دوران بے شمار کالم ، مضامین، تحقیقی کتب، ترجمے ، اور فسوں کاری کی پرورش ہوئی۔ 1998ء : کہانیوں کے پہلے مجموعے، اشتہار آدمی، کی اشاعت اور 2000ء میں ناول ’دائرہ‘ پھر کہانیوں کا دوسرا مجموعہ ’دستک‘ شائع ہوامحمد عاصم بٹ نے مختصر عرصے میں بہت کام کیا۔ آج ’ کل اکادمی ادبیات‘ سے وابستگی ، مدیرسہ ماہی ’ادبیات‘ ’مدیر ماہ نامہ ’صارف کی پسند‘ اخبارات کے لیے بھی لکھ رہے ہیں۔

Show More

Related Articles