DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com
Kahuta: Construction of the Kahuta Pindi road phase One project has slowed down
کہوٹہ پنڈی روڈ، سہالہ اوور ہیڈ برج اور کہوٹہ بائی پاس کے فیز ون کے منصوبے کی تعمیر کا کام سست روی کا شکار ہوگیا

کہوٹہ(نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کوم , عمران ضمیر،29,مارچ،2023) — 17ارب کے کہوٹہ پنڈی روڈ، سہالہ اوور ہیڈ برج اور کہوٹہ بائی پاس کےفیز ون کے منصوبے کی تعمیر کا کام سست روی کا شکار ہوگیا۔ متاثرین بائی پاس اور اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ کے مابین موجودہ سرکاری ریٹس 2023کے مطابق زمینوں کا تعین نہ کرنے پر نیا تنازعہ پیدا ہو گیا۔ متاثرین بائی پاس کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی کمرشل و زر عی زمین کی حیثیت بغیر خسرات نمبرات کا تعین کیئے متاثرین کی سینکڑوں کنال قیمتی اراضی پر بنائے گئے فش فارمز،سولر سسٹم، سپیل ویز،ٹیوب ویل، تالاب، باغات، حفاظتی دیواریں،پانی کے بور وغیرہ کھدائی کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹھکیدار نے بھاری مشینری کے ذریعے گرادیں۔ متاثرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ اور محکمہ مال کی لاپرواہی اور نا اہلی کی وجہ سے خسرات نمبرات کا تعین ابھی تک ہوسکا۔ جبکہ چار سال قبل کا معاوضہ لگانا بھی درست نہ ہے ا ور زیادتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2023کے موجودہ سرکاری ریٹس جوکہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے منظور شدہ ہیں اور مارکیٹ ویلیو کے مطابق متاثرین کو ادائیگی نہ کی گئی تو متاثرین بائی پاس احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ قیمتوں کا تعین موجودہ مارکیٹ ویلیواور سرکاری ریٹس کے مطابق متاثرین کا جائز حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے جبکہ محکمہ مال کہوٹہ اور اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ نہ صرف لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں بلکہ ان کارویہ قابل افسوس ہے۔ بطور ویزر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چار سال قبل یہ منصوبہ نہ صرف منظور کرایہ بلکہ کہوٹہ پنڈی روڈ اور کہوٹہ بائی پاس سمیت 17ارب گرانٹ کے میگا پراجیکٹ کا افتتاح بھی بطور وزیر اعظم کیا تھا۔ جوکہ بعدازاں تحریک انصاف کے دور حکومت میں یہ منصوبہ روک دیا گیا۔ اور اب اس منصوبے پر مسلسل تین سال فوکل پرسن کرنل (ر) مسعود عباسی اور بلال یامین ستی کی کاوش سے دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی بھاری مشینری کے ذریعے ٹھکیدار نے اس منصوبہ پر پانچ موضع جات نتھوٹ، سروٹ، سہالی، کہوٹہ اور دڑیوہامیں تیز رفتاری سے بائی پاس کا کچھ ٹریک کھدائی اور بھرائی کے بعد تقریباََ مکمل کر لیا ہے۔ متاثرین نے مزید کہا کہ ہم نے قومی شاہراہ کے منصوبہ کی خاطر اربوں روپے کا نقصان برداش کیا مگر اب قیمتوں کے تعین کے مرحلے کے موقع پر ایک نیا تنازعہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ متاثرین کا موقف ہے کہ ہمیں موجودہ سرکاری ریٹس اور موجو دہ مارکیٹ ویلیو کو سامنے رکھ کر معاوضہ ادا کیا جائے جو کہ ہمارا حق ہے۔کیونکہ خسرات نمبرات کا تعین اب کیا جار ہا ہے۔ لحاظہ تین سال قبل کے ریٹس کسی صورت قبول نہیں۔




