29 April 2026DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com

Kahuta: Cow Brutally Killed in Kahuta’s Mator Area, Police Launch Investigation

مٹور میں گائے کو بے دردی سے ہلاک کرنے کا واقعہ، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،29اپریل2026)
کہوٹہ کے علاقہ مٹور کے علاقہ میں گائے کو دم گھونٹ کر مارنے کا افسوس ناک واقعہ،پولیس تھانہ کہوٹہ نے مقدمہ درج کرکے نامعلوم ملزمان کی تلاش اور واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے،تفصیل کے مطابق مٹور کے رہائشی صائم علی اکبر نے تھانہ کہوٹہ کو درخواست دی کہ اپنے ذاتی شیڈ میں مویشی پال رکھتے ہیں۔ دن کے وقت تقریباً دو بجے وہ شیڈ سے اپنے گھر گیا اور جب شام چار بجے واپس آیا تو دیکھا کہ ایک گائے، جو بڑے شیڈ میں بندھی ہوئی تھی، وہاں موجود نہیں ہے۔ مدعی کے مطابق نامعلوم افراد نے گائے کو کھول کر دوسرے شیڈ میں منتقل کیا، جہاں اسے گرا کر ٹانگیں باندھی اور اس بعد گائے کی گردن مروڑ کر رسی سے باندھ کر سانس بند کر دی، جس سے گائے موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔ پولیس تھانہ کہوٹہ نے مقدمہ درج کر کے نامعلوم ملزمان کی تلاش اور واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

Mator (Pothwar.com — Kabir Ahmed Janjua | April 29, 2026) — A disturbing incident has been reported from the Mator area of Kahuta, where a cow was allegedly killed in a cruel manner. Police Station Kahuta has registered a case and initiated an investigation while searching for the unidentified suspects involved.

According to details, a local resident, Saim Ali Akbar, submitted a complaint stating that he keeps livestock in his private shed. At around 2:00 PM, he left the shed for his home, and upon returning at approximately 4:00 PM, he found that one of his cows, which had been tied in the main shed, was missing.

The complainant reported that unknown individuals untied the cow and moved it to another shed. There, they allegedly forced the animal to the ground, tied its legs, twisted its neck, and strangled it with a rope, causing its death on the spot.

Police have registered a case against unknown persons and stated that efforts are underway to trace the suspects and uncover the facts surrounding the incident.

راجہ تیمور اختر جنجوعہ کے خلاف سوشل میڈیا پر من گھڑت پروپیگنڈا مسترد

Fabricated Social Media Campaign Against Raja Taimoor Akhtar Janjua Rejected

مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،29اپریل2026)
راجہ تیمور اختر جنجوعہ کے خلاف سوشل میڈیا پر من گھڑت اور ہتک آمیز پروپیگنڈا مستردکرتے ہیں،تفصیل کے مطابق گذشتہ روز پنجاب ٹیچرز یونین تحصیل کہوٹہ کے دونوں حلقہ جات کا ہنگامی اجلاس حلقہ صدور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سوشل میڈیا پر پنجاب ٹیچرز یونین راولپنڈی کے سینئر رہنما راجہ تیمور اختر جنجوعہ کے خلاف من گھڑت اور ہتک آمیز پوسٹ شیئر کی گئی۔ جس کی وجہ سے اساتذہ برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ راجہ تیمور اختر پچھلے دس سال سے اساتذہ کے فتخب نمائندے کے طور پر اساتذہ کے مسلمین ضلع راولپنڈی کے مختلف دفاتر میں جا کر حل کر رہے ہیں۔ بطور ہیڈ ٹیچر راجہ تیمور اختر نے پرائمری سکول کینتھل میں نہ صرف کمروں کی تعمیر کرائی بلکہ ان کے دور میں طلباء کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ جس کے گواہ گاؤں کے لوگ اور محکمہ کے آفیسر ہیں۔ موجودہ سکول میں بھی ان کے آنے سے خاصی بہتری آئی ہے۔ ایسے اساتذہ رہنما کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے والوں کی پر زور مذمت کی جاتی ہے۔

Justifying Inflation and Load Shedding Due to Iran-US Tensions Unacceptable, Says Raja Javed Akhtar

ایران امریکہ کشیدگی کے نام پر مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کا جواز ناقابل قبول، راجہ جاوید اختر

مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،29اپریل2026)
معروف سیاسی،سماجی و علمی شخصیت راجہ جاوید اختر نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا کہ موجودہ ایران امریکہ میں جنگ کی وجہ سے پاکستان کے عام عوام جو پہلے بے شمار مسائل سے دوچار تھے، اس میں دو نئی مصیبتوں کا اضافہ کر دیا گیا ہیان میں سے ایک پٹرول یعنی فیول کی قیمتوں میں بے انداز اضافہ اور دوسرا بجلی کی بے انداز لوڈ شیڈنگ ہے۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کے سکول بند، دفاتر میں کام کے اوقات میں کمی، کاروباری مراکز اور مارکیٹوں کی جلد بندش اور اس طرح کے اور کچھ مزید عوامل، جس سے عام عوام، محنت کش لوگ اور بچوں کے مستقبل پر بے انداز منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ ان سب عوامل کا پٹرول کی فراہمی یا بجلی کی ترسیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بیانیہ اور تماشا عوام کو بے وقوف بنانے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔یں مختصر اس سلسلے میں کچھ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ مکمل طور پر ایک غیر سیاسی تجزیہ ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 40,000 میگاواٹ ہے، جس میں پانی، نیو کلیئر، کوئلہ، گیس، ایل پی جی سب شامل ہیں، بشمول آئی پی پیز کے۔لیکن بہت سی تکنیکی خامیوں اور بدانتظامی کی وجہ سے میسر پیداوار جو تقریباً 28,000 میگاواٹ ہے، اس میں سولر پاور شامل نہیں ہے۔ مہنگی بجلی جس میں گیس، ایل پی جی اور کسی طرح کا جی اور کسی طرح کا درآمدی کوئلہ استعمال ہوتا ہے، جہ ا ہے، جبکہ سستی بجلی پانی سے یعنی ہائیڈرو بجلی، نیو کلیئر بجلی اور لوکل کوئلے سے بنی ہوئی بجلی شامل ہے اور یقیناً سولر بھی اسی میں شامل ہوتی ہے۔ سستی بجلی کی پیداوار کا تخمینہ کچھ اس طرح سے ہے: پانی کی بجلی کی پیداوار 10,000 میگاواٹ، نیو کلیئر پلانٹ سے 3,500 میگاواٹ، لوکل کوئلہ سے 2,500 میگاواٹ اور سولر سے 2,800 میگاواٹ پیدا ہوتی ہے۔ یہ سب ٹوٹل 18,800 میگاواٹ بنتا ہے جس میں پٹرول، گیس اور کوئلے کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اب دیکھیں ہماری بجلی کی ضروریات کتنی ہیں۔ گرمیوں کے عروج میں ہمارا استعمال 20 سے 25,000 میگاواٹ ہوتا ہے اور سردیوں میں کم ہو کر 10 سے 12,000 میگاواٹ تک رہ جاتا ہے کیونکہ مارچ، اپریل سردیوں کا اختتام اور گرمیوں کا آغاز ہے تو سمجھ لیں کہ اس وقت ہماری ضروریات 13 سے 14,000 میگاواٹ کے آس پاس ہیں۔ اس طرح ہماری سنتی بجلی، جس میں گیس، درآمدی کوئلہ اور ایل پی جی کا استعمال نہیں ہوتا، ہماری ضروریات سے کافی زیادہ ہے۔ تو پھر لوڈ شیڈ نگ، سکول، دفاتر، مارکیٹیں اور کاروبار بند کرنے کا تماشا کیوں؟ اور یہ بیانیہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button