HeadlineMirpurDailyNews

Dadyal, AJK; Police accused of faking case and abusing a widow in front of drug dealers, Khalid Mahmood of Jhelum press conference

ڈڈیال پولیس کے مرد اہلکاروں نے مستغیث مقدمہ کی موجودگی میں میری بھتیجی پر تشدد کیا,جہلم سے تعلق رکھنے والے خالد حسین

ڈڈیال(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم)….جہلم سے تعلق رکھنے والے خالد حسین نے تحصیل پریس کلب ڈڈیال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میری بھتیجی بیوہ عابدہ خاتون کے ساتھ اسکے سوتیلے بیٹے راجہ قمر زمان اور سوتیلے داماد راجہ عظیم نے پولیس کے ساتھ مل کر چوری کا جعلی مقدمہ درج کروا دیا ہے بیوہ خاتون 2دن سے پولیس ہراست میں ہے جہاں پر پولیس اہلکاروں نے اس پر تشدد کیا اور عدالت کے آرڈر کے باوجود اسے جوڈیشل نہیں کیا جا رہا ڈڈیال پولیس کے مرد اہلکاروں نے مستغیث مقدمہ کی موجودگی میں میری بھتیجی پر تشدد کیا اور ہمیں ملنے بھی نہیں دیا جا رہا سوتیلے بیٹے نے اپنے والد کے مرنے کے بعد اپنی سوتیلی ماں کو جائیداد سے بے دخل کرنے کیلئے 2017کا جعلی طلاق نامہ بنوا لیا طلاق نامہ پر درج تاریخ کے بعد مرحوم شیر زمان ہولی فیملی ہسپتال میں داخل رہے جہاں پر اسکی بیوہ عابدہ خاتون اسکی دیکھ بھال کرتی رہی جس کا ہسپتال ریکارڈ بھی موجود ہے شیر زمان کا داماد راجہ عظیم ساکن جاتلاں ڈڈیال پولیس پر اثر انداز ہو رہا ہے جو خود کو ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم کا رشتہ دار یا تعلق دار بتاتا ہے تفصیلات کے مطابق خالد حسین ساکن جہلم نے تحصیل پریس کلب ڈڈیال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسکی بھتیجی بیوہ عابدہ خاتون کی شادی سنہ 2000میں ڈڈیال کھیری سے تعلق رکھنے والے مرحوم راجہ شیز زمان کے ساتھ ہوئی 2017میں شیر زمان بیمار ہوا ہسپتالوں میں داخل رہا ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق بیوی ہسپتال میں ساتھ رہی31دسمبر2017 کو شہر زمان فوت ہوا اس وقت تک عابدہ خاتون اس کے ساتھ رہی 1جنوری 2018 کو شیر زمان کا جنازہ ہوا اس کے بعد شیز زمان کی پہلی بیوی سے بیٹا قمر زمان انگلینڈ سے آیا بعد ازاں ہماری بھتیجی بیوہ شیر زمان نے ہمیں فون کر کے بتایا کہ قمرزمان اس پر تشدد کرتا ہے بعد ازاں ہم یہاں آئے اور معززین کی موجودگی میں فیصلہ ہوا کہ بیوہ اپنے گھر چلی جائے چالیسویں کے بعد ہم اس عورت کو واپس لے آئیں گے بعد ازاں شیر زمان کے داماد راجہ عظیم نامی لڑکے نے جہلم ہمارے گھر آکر ہماری خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی اس کے بعد 27مارچ 2020کو قمرزمان نے تھانہ ڈڈیال میں ایف آئی آر درج کروائی کہ عابدہ خاتون نے 2017میں ہمارے گھر سے چوری کی بعد ازاں ہم نے عبوری ضمانت کروائی جو بعد میں منسوخ ہو گئی اور عابدہ خاتون گرفتار ہو گئی تھانہ میں قمر زمان اور عظیم کی موجودگی میں مرد پولیس اہلکار خاتون سے تفتیش کر رہی ہے 25جولائی کو عدالت نے خاتون کو جوڈیشل کرنے کا آرڈر کیا مگر پولیس نے تاحال اسکو جوڈیشل نہیں کیا اور زبردستی اور غیر قانونی طریقہ سے اس کو تھانہ میں رکھا ہوا ہے میں گزشتہ کل پورا دن ایس ایس پی آفس کے باہر بیٹھا رہا اور درخواست اندر بھیجی مگر اندر سے درخواست واپس بھیج دی گئی مگر انہوں نے مجھے ملنے کیلئے ٹائم نہیں دیا 25تاریخ کو خاتون کو جوڈیشل کرنے کیلئے لے جایا گیا اور جان بوجھ کر 5بجے جیل ٹائم کے بعد جوڈیشل کرنے کیلئے لے کر جایا گیا جیل احکام نے کرونا رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ملزمہ کو واپس کر دیا اس کے بعد اسے رات 2بجے تک میرپور رکھا گیا پھر رات کو اسے واپس لایا گیا رات بھر اسے سونے نہیں دیا گیا مرد پولیس اہلکار رات بھر تشدد کرتے رہے اور تفتیش کرتے رہے راجہ قمر زمان نے اپنے والد شہر زمان کے مرنے کے بعد 9.9.2017کا جعلی طلاق نامہ بنوا لیا جبکہ 25.11.2017کو مرحوم راجہ شیر زمان ہولی فیملی ہسپتال میں داخل رہا اور ہسپتال ریکارڈ کے مطابق عابدہ خاتون اس کے ساتھ ہسپتال ساتھ رہی ہے جبکہ چوری کا جعلی مقدمہ 2020میں درج کروایا گیا جس میں وقوعہ 2017کا لکھا گیا 3سال قمر زمان خاموش رہا حوالات میں مدعی کے سامنے مرد پولیس اہلکاروں نے ملزمہ کو تھپڑ مارے گئے اہل علاقہ کو بھی علم ہے کہ راجہ شیر زمان نے عابدہ خاتون کو طلاق نہیں دی اور شیر زمان کے مرتے دم تک ساتھ رہی پولیس ابھی عابدہ خاتون کے دیگر بھائیوں اور بہنوں کو بھی گرفتار کرنا چاہتی ہے میں عابدہ خاتون کا چچا ہوں مجھ پر بھی پولیس نے ایف آئی آر درج کروائی ملزمہ کو مدعی کی گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا ہمیں ملزمہ سے ملاقات بھی نہیں کرنے دی گئی ہمارے تھانے میں داخلے پر پابندی لگائی گئی جبکہ مدعی پارٹی کو تھانے میں بٹھایا جاتا ہے میں صدائے حق کے دفتر گیا وہاں سے چیئرمین خواجہ افتخار نے ہماری ملاقات کروائی۔

SHO Dadyal police Raja Amir Farooq


ڈڈیال(نمائند ہ خصوصی)
ایس ایچ او تھانہ ڈڈیال راجہ عامر فاروق نے واقع کے متعلق اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کے سوتیلے بیٹے کی درخواست پر ملزمہ عابدہ خاتون کے خلاف بجرائم 14ZHAاور 34APCکے تحت مقدمہ درج کیا گیا ملزمہ کو عدالت کے حکم پر جوڈیشل کرنے کیلئے جیل لے جایا گیا مگر کرونا رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے جیل احکام نے ملزمہ کو واپس کر دیا ڈڈیال تھانہ میں لیڈیز پولیس موجود ہے اور لیڈیز پولیس کی موجودگی میں ہی ملزمہ سے تفتیش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ملزمہ پر تشدد کی خبریں بے بنیاد ہیں ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ملزمہ کی کرونا رپورٹ آنے کے بعد اسے جوڈیشل کر دیا جائے گا۔

Dadyal, AJK; Khalid Mahmood of Jhelum has held a press conference in which he accused Dadyal police of beating his niece after a fake case was registered by her stepson. He also accused the police of keeping his niece Abida Khatoon at police station for 2 days.

SHO Dadyal police Raja Amir Farooq told pothwar.com reporter that Abida Khatoon had a case registered against her by her stepson and she was taken to ladies section of police station and never was abused and allegations are baseless and not true.

Show More

Related Articles

Back to top button