HeadlineKahutaDailyNews

Kahuta; Mega construction project of Kahuta to Pindi road cancelled by current PTI adminstration

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے میگا پراجیکٹ پر تحریک انصاف کی حکومت نے کام بند کردیا

 مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے میگا پراجیکٹ پر تحریک انصاف کی حکومت نے کام بند کردیا ۔ کہوٹہ تا راولپنڈی سڑک اور کہوٹہ شہر کے اردگرد وائی کراس تا آزاد پتن روڈ براستہ سروٹ ، سہالی ، دھپری بائی پاس منصوبے کا افتتاح اسوقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دست مبارک سے کیا اور کام شروع کروایا ۔ منصوبہ سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے فائل دبالی ۔ منصوبہ پر جاری کام بندش سے لینڈ مافیا اور قبضہ گروپ میں کھلبلی مچ گئی ۔ تفصیل کے مطابق سابق وزیر اعظم شاہد خاقا ن عباسی نے مسلم لیگ (ن)کے دور حکومت میں بطور وزیر اعظم اہلیان کہوٹہ اور آزاد کشمیر راولپنڈی کے مسافروں ، رہائشیوں کے لیئے (17) ارب کے منصوبے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ افتتاح کر کے اس پر کام بھی شروع کرایا ۔ بھاری مشینری اور لیبر نے دن رات نشانات کلیئر کیئے ۔ سروے مکمل ہوااور کھدائی کی گئی ۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی مذکورہ منصوبے پر این ایچ اے کی جانب سے جاری کام روک دیا ۔ اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ٹھیکدار رقم نہ ملنے پر کام بند کر نے پر مجبور ہو گیا ۔ مذکورہ بائی پاس کے لیئے بعض لینڈ مافیا اور پراپرٹی ڈیلروں نے مخصوص ایریا میں روڈ کے راستے میں کئی کنال خریداری کی ۔ کام بندہونے سے مافیا بھی پریشان ہے ۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ شہر کے بائی پاس کے لیئے مہنگی زمین شہری ایریا سے خرید نے کی بجائے بائی پاس کو بٹالہ ، دکھالی ، نوگراں کے ایریا میں لے جانے سے انتہائی کم ریٹ پر زمین ملے گی ۔ اور اربوں روپے حکومت کے بچا ئے جا سکتے ہیں ۔ منصوبہ پر کام بند کرنے کی بجائے اس کا روٹ تبدیل کر کے شہریوں کو سفری مشکلات سے نجات دلائی جائے ۔

Kahuta; The mega project launched by ex M Shahid Khaqan Abbassi of the construction of Kahuta to Rawalpindi road has been cancelled by current PTI administration. The contractor was refused any further payments has the newly work has come to close.

عدالتی احکامات اور سٹے آرڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر عمر جہانگیر نے غیر قانونی طور پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کہوٹہ ڈاکٹر فرحت ابراہیم کا تبادلہ کر کے ان کا آفس سیل کردیا

Dr Farhat Ibrahim transferred and her office sealed after complaint by MPA Raja Sagheer Ahmed

عدالتی احکامات اور سٹے آرڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر عمر جہانگیر نے غیر قانونی طور پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کہوٹہ ڈاکٹر فرحت ابراہیم کا تبادلہ کر کے ان کا آفس سیل کردیا ۔ تبدیلی حکومت کی قلعی کھل گئی۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے غیر قانونی احکامات عدالتی حکم کی پامالی اور سٹے آرڈر کے باوجود ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیس کہوٹہ سیل کر دیا گیا ۔ تحریک انصاف کے ایم پی اے راجہ صغیر احمد کی بیوی لیڈ ی ہیلتھ سپر وائزر غزالہ شاہین اور سالی وقار النسا لیڈی ہیلتھ ورکر کی بنیادی مر کز صحت نارہ سے اکثر غیر حاضری پر ڈی ڈی ایچ او کہوٹہ ڈاکٹر فرحت ابراہیم نے ایکشن لیا ۔ جس پر ایم پی اے راجہ صغیر احمد نے ان کے خلاف محاذ بنا ڈالا ۔ تفصیل کے مطابق ڈی سی راولپنڈی ڈاکٹر عمر جہا نگیر نے ڈی ڈی ایچ او کہوٹہ ڈاکٹر فرحت ابراہیم کو 24.11.2018 کو DPEC میٹنگ میں اپنے دفتر بلایا ۔ جہاں اے ڈی سی صائمہ یونس ، CEDہیلتھ ڈاکٹر خالد محمود ، ایم پی اے راجہ صغیر احمد کی موجودگی میں ڈی سی نے ڈی ڈی ایچ او کہوٹہ ڈاکٹر فرحت ابراہیم کو چارج چھوڑنے کا کہا ۔ جس کے جواب میں ڈاکٹر فرحت ابراہیم نے کہا کہ عدالت کی جانب سے سٹے آرڈر 12نومبر کو مل چکے ہیں ۔ میں عدالتی حکم کے تحت چارج نہیں چھوڑ سکتی ۔ جس پر ڈی سی نے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر خالد کو حکم دیا ۔ کہ فوری طور پر ڈی ڈی ایچ او کہوٹہ کا دفتر سیل کیا جائے ۔ جس پر فوری ایکشن کے تحت ڈی ڈی ایچ او کہوٹہ کا دفتر سیل کر دیا گیا۔ اور ایم ایس تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال کہوٹہ نے سی ای او کے زبانی احکامات پر عمل کیا ۔ اور ڈی ڈی ایچ او کہوٹہ آفس سیل کرکے وہاں ڈیوٹی پر موجود پولیو مہم کی ٹریننگ میں مصروف تمام یوسی ایم اوز کو اور ایریا انچار جز کو باہر نکال دیا گیا ۔ دریں اثنا ء ایم ایس کہوٹہ ڈاکٹر ثمنیہ بھٹی نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ ڈپٹی کمشنر کے زبانی احکامات کے تحت ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیس کہوٹہ سیل کر دیا گیا ۔یاد رہے کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فرحت ابراہیم نے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ممبر صوبائی اسمبلی راجہ صغیر احمد کی بیوی غزالہ شاہین لیڈی ہیلتھ سپر وائزر نارہ بنیادی مرکز صحت او ر راجہ صغیر کی سالی ایل ایچ ڈبلیو وقار النساء کے خلاف غیر حاضری پر ان کے خلاف ایکشن لیا ۔ اور موقع پر جاکر رجسٹر پر غیر حاضری لگائی ۔ جس پر را جہ صغیر کی بیوی غزالہ شاہین نے اوور رائٹنگ کر کے دوبارہ اپنی حاضری لگادی ۔ ڈاکٹر فرحت نے عدالتی سٹے آرڈر لے لیا ۔ اور ان کا تبادلہ نہ ہوسکا ۔ مگر غیر قانونی طور پر ڈاکٹر فرحت کو چارج چھوڑنے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی جانب سے خاتون ڈی ڈی ایچ او کہوٹہ کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ شرم ناک ہے۔ اور یہ سب محکمہ صحت کے افسران کی موجودگی میں باعث خود ایک سوالیا نشان ہے ۔کہ جو افسران دن رات محکمہ صحت کی بہتری کے لیئے کا م کرتے ہیں ۔ انہیں شاباش دینے اور نوازنے کی بجائے نشانہ بنایا جارہاہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت میں سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت کم ہونے کی بجائے دن با دن بڑھتی جارہی ہے ۔ جبکہ فرض شناس اور ایماندار افسران و ملازمین پریشانی اور خوف کا شکار ہیں ۔ 

Show More

Related Articles