کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 09,اگست، 2025):—پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی رہنما راجہ شاہد مبارک نے کہا ہے کہ اساتذہ کی ریشنلائزیشن سے 46 ہزار سے زائد سرکاری اساتذہ متاثر ہوں گے اور حکومت ان مدارس کو این جی اوز کے سپرد کرنے پر تلی ہوئی ہے حکومت کا یہ فیصلہ نظریہ پاکستان سے بھی متصادم ہے انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب میں نافذ کی جانے والی ریشنلائزیشن پالیسی سے صوبے بھر کے تعلیمی نظام میں بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت 46 ہزار سے زائد اساتذہ کو بلاجواز تبادلوں کا سامنا ہے جبکہ متعدد سرکاری اسکولز کو مرحلہ وار نجی این جی اوز کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ حکومت اسے اصلاحات کا حصہ قرار دے رہی ہے، لیکن ماہرین تعلیم، اساتذہ اور سول سوسائٹی اسے نجکاری کی آڑ میں ایک غیر منصفانہ اور تعلیم دشمنی پر مبنی خطرناک قدم قرار دے رہے ہیں۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس پالیسی کے تحت کئی سینئر اساتذہ، جن کی ریٹائرمنٹ قریب ہے، کو ان کے گھروں سے دُور دراز علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے، جس سے ان کی ذاتی و خاندانی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کئی اساتذہ نے اس عمل کو انتقامی تبادلے قرار دیا ہے جو نہ صرف غیر انسانی بلکہ پیشہ ورانہ توہین بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیرِ تعلیم کا انتہائی متنازعہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے سرکاری اسکولوں کے پوزیشن ہولڈر طلباء کی کامیابی کو نجی ٹیوشن کا نتیجہ قرار دے کر سرکاری مدارس کے اساتذہ کی دانستہ توہین کہ ہے اس بیان نے نہ صرف اساتذہ کی خدمات کو کم تر دکھایا بلکہ ان طلباء کی محنت کو بھی نظرانداز کیا جو وسائل کی کمی کے باوجود نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 20 ہزار سے زائد اساتذہ کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا جا رہا ہے، جنہیں نہ تو مناسب مالی معاوضہ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی متبادل مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں اساتذہ تنظیمیں اسے اداراجاتی قتل قرار دیتے ہوئے سراپا احتجاج ہیں حکومت کی تعلیمی پالیسی سے کمیونٹی بیسڈ اسکولنگ کا پورا تصور بھی متاثر ہو رہا ہے۔ مقامی اساتذہ، جو برسوں سے علاقے کے بچوں کی تعلیم کا محور تھے، اب این جی اوز کے تعینات کردہ عملے سے تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ان نئے عملے کو نہ مقامی زبان کا علم ہے، نہ ہی سماجی و ثقافتی سیاق و سباق کا ادراک۔ ماہرین کے مطابق، اس سے تعلیمی معیار میں کمی، طلباء کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ اور مقامی اعتماد کا زوال متوقع ہے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جن اسکولوں کی عمارتیں اور زمینیں مقامی افراد نے عطیہ کی تھیں، وہ بھی این جی اوز کے حوالے کی جا رہی ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر مستقبل میں یہ اسکول بند کیے گئے تو ان اثاثوں کو بیچ کر ذاتی مفاد میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ایک قومی ورثے اور عوامی اعتماد کی کھلی توہین ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ ریشنلائزیشن نہیں، بلکہ اصلاحات کے نام پر نظام تعلیم کی جڑیں کاٹنے کا منصوبہ ہے۔ نہ کوئی شفافیت، نہ کوئی انسانیت، اور نہ کوئی پالیسی کی سمت واضح ہے۔ صرف اساتذہ ہی نہیں سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین کا بھی مطالبہ ہے کہ اساتذہ کے بلاجواز تبادلے فوری روکے جائیں،قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے فیصلے منسوخ کیے جائیں،اسکولز کی نجکاری اور این جی اوز کو حوالگی سے قبل شفاف مشاورت کی جائے،عوامی زمین اور اثاثے سرکاری تحویل میں محفوظ رہیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رُکا تو پنجاب میں سرکاری تعلیم کا مستقبل شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔جس سے عام افراد کے مطابق دوقومی نظریئے کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Kallar Syedan (Pothwar.com — Ikram-ul-Haq Qureshi | August 9, 2025):
Central leader of the Punjab Teachers’ Union, Raja Shahid Mubarak, has raised serious concerns over the government’s rationalization policy, warning that it could negatively affect more than 46,000 public school teachers across Punjab.
In an official statement, Raja Shahid criticized the government’s approach, claiming that the rationalization process is being used to forcibly transfer thousands of teachers without just cause, particularly targeting senior teachers nearing retirement by relocating them to remote areas. He called this a form of professional insult and termed many of these transfers as retaliatory.
Raja Shahid further alleged that under the guise of “reforms,” numerous public schools are gradually being handed over to private NGOs, a move that he says directly contradicts the ideology of Pakistan. Teachers’ organisations, education experts, and civil society representatives have collectively denounced the policy as a form of unjust privatization that undermines public education.
He expressed alarm over reports that over 20,000 teachers are being pressured into early retirement without adequate compensation or alternative employment opportunities, calling it “institutional murder.”
Criticism was also directed at a recent controversial statement by Punjab’s Education Minister, who allegedly claimed that top-performing students from public schools owe their success to private tuition, not their teachers. Raja Shahid condemned the remark, stating it belittles both the students’ efforts and teachers’ dedication despite limited resources.
A particularly troubling concern raised was the transfer of schools — including land and buildings donated by local communities — to private NGOs. Raja Shahid warned that these properties, if no longer used as schools in the future, could be sold off for private gain, violating public trust and dishonoring community contributions.
Experts also fear that replacing long-serving local teachers with NGO-appointed staff — who often lack knowledge of the local language and cultural context — may degrade the quality of education, increase student dropout rates, and erode community trust in the education system.
Raja Shahid concluded by demanding an immediate halt to irrational teacher transfers, cancellation of forced retirements, and transparency before handing over schools to NGOs. He warned that if the current trend continues, the future of public education in Punjab — and by extension, the vision of national unity — is at serious risk.
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا زرعی گریجویٹس کیلئے انٹرن شپ پروگرام — 2,000 نوجوانوں کو ماہانہ 60 ہزار روپے وظیفہ
Punjab CM Maryam Nawaz Launches Paid Internship Program for 2,000 Agriculture Graduates — Rs. 60,000 Monthly Stipend Announced
کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 09,اگست، 2025):— وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا خواب، سونا اگلتا پنجاب،دو ہزار نوجوان زرعی گریجویٹس کیلئے انٹرن شپ پروگرام میں ماہانہ 60 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ۔خواہش مند نوجوان زرعی گریجویٹس کی سہولت کیلئے درخواستوں کی وصولی کی آخری تاریخ میں 15 اگست تک توسیع کر دی گئی ہے۔ بی ایس سی (آنرز) ایگری کلچرل،بی ایس سی (آنرز) ایگری کلچرل انجینئرنگ کیلئے انٹرن شپ پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 15 اگست تک توسیع کر دی گئی ہے۔درخواست فارم اور تفصیلات محکمہ زراعت پنجاب کی ویب سائٹ سمیت متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹرز زراعت (توسیع) اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز زراعت (توسیع) سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
Punjab Government Promotes 36 Tehsildars to Assistant Commissioners — Notification Issued
پنجاب حکومت نے 36 تحصیلداروں کو اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر ترقی دے دی — نوٹیفکیشن جاری
کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 09,اگست، 2025):—پنجاب حکومت نے صوبہ بھر کے 36 تحصیداروں کو اسسٹنٹ کمشنر کی پوسٹ پر ترقی دے کر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جن میں راولپنڈی ڈویژن کے چھ تحصیلدار بھی شامل ہیں جن میں تحصیل کہوٹہ سے محمد سعید نواز،کوٹلی ستیاں سے جاوید اقبال،مری سے طاہر عزیز،لاوہ سے محمد سرفراز، پنڈدادنخان سے عدنان اشرف،ٹیکسلا سے فہیم ارشد شامل ہیں ان کے علاؤہ ترقیاب ہونے والوں میں خانیوال سے حافظ اقبال محمور،ساہیوال سے رانا محمد ارشد،عارفوالہ سے محمد نوید،کلورکوٹ سے کلیم اللہ،لاہور سے عثمان علی،بورڈ آف ریونیو سے محمد خالد،مظہر اقبال،پاکپتن سے کاظم حسین شاہ،ہارون آباد سے وسیم حسن راجہ،خوشاب سے محمد ریاض خان،صادق آباد سےعابد اقبال رانا،یزمان منڈی سے نوید اقبال بخاری،نوشہرہ خوشاب سے محمد عظیم،نورپور تھل سے محمد شفیق،عیسی خیل سے محمد شاہد اقبال،جتوئی سے الیاس احمد قریشی،کرورلعل عیسن سے آصف محمود،بھکر سے غلام عباس،پیرمحل سے محمد یاسین،ظفروال سے فیصل ندیم،پنڈی بھٹیاں سے حق نواز،ساہیوال سرگودھا سے عابد حسین،ملتان سے محمد عارف اقبال،پنڈی بھٹیاں سے حق نواز،سلانوالی سے اعجاز احمد،راجن پور سے محمد حنیف،نوشہرہ ورکاں سے خاور حیات،لودھراں سے محمد رمضان،محمد عمر سلطان،شاہد ممتاز اور عثمان علی شامل ہیں۔
Havaldar Muhammad Yousaf of Chak Mirza Passes Away
چک مرزا کے حوالدار محمد یوسف انتقال کر گئے — نمازِ جنازہ میں سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود سمیت اہم شخصیات کی شرکت
کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 09,اگست، 2025):—گاؤں چکمرزا کے حوالدار محمد یوسف انتقال کر گئے نمازجنازہ میں سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود،راجہ ندیم احمد،حاجی اخلاق حسین،چوہدری زین العابدین عباس،راجہ ظفر محمود، مسعود احمد بھٹی،سردار صلاح الدین احمد،چوہدری شاہد گجر،راجہ عاصم صدیق، راجہ جاوید سکوٹ،سردار محمد اصف،راجہ محمد زعفران ،راجہ محمد سعید ،راجہ نعمان ظفر، آصف نورانی،ٹھیکیدار ملک محمد رفاقت، راجہ محمد قاسم ،عثمان سلطان وڑائچ،پرویزاختر منہاس، ڈاکٹر محمد خالد و دیگر نے شرکت کی۔