RawalpindiHeadlineDailyNews

Rawat post office criticised for bad service to pensioners

پوسٹ آفس روات کے عملہ کی بے حسی ،پنشن کا حصول انتہائی دشوار

پوسٹ آفس روات کے عملہ کی بے حسی ،پنشن کا حصول انتہائی دشوار ،بوڑھے اور مریض پنشنر پنشن کے حصول کیلئے کئی کئی دن خوار ہونے لگے دن12 بجے سے پہلے پنشن کی فراہمی ناممکن ،ایک گھنٹہ کے بعد کیش ختم ہونے کا کہہ کر پنشنروں کو اگلے دن کیلئے ٹرخا دیا جاتا ہے استفسار پرکیشئر اور پوسٹماسٹر کا توہین آمیز رویہ ،تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی حدود میں واقع پوسٹ آفس روات حکام بالا کی بے حسی اور عدم توجیہی کے باعث پنشنروں کیلئے وبال جان بن چکا ہے عملہ کے غیر ذمہ دارانہ روئیے کے باعث بوڑھے اور شدید بیماریوں میں مبتلا سابقہ پنشنر صبح 8 بجے پوسٹ آفس پہنچ جاتے ہیں جہاں عملہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ کیش 12 بجے آئے گی پھر پنشن کی تقسیم کا عمل شروع ہو گا جسکے باعث پنشنر خواتین و حضرات شدید گرمی میں تڑپ تڑپ کر انتظار کرتے ہیں اور جوں ہی دن 11 بجے کے بعدمختصر ٹائم کیلئے پنشن کی تقسیم کا عمل شروع کرنے کے ساتھ ہی روک دیا جاتا ہے اور گھنٹوں قطار میں کھڑے کچھ ہی پنشنروں کو پنشن فراہم کر کے کہا جاتا ہے کہ اب کیش ختم ہو گئی ہے باقی لوگ کل آ جانا صحافیوں کے استفسار پوسٹ ماسٹر اور کیشئر کا مؤقف تھا کہ کیش تھوڑی ہوتی ہے اور پنشنر زیادہ آجاتے ہیں جسکی وجہ سے پنشنروں کو تاخیر کا سامنا رہتا ہے معززین عقیل چوہدری ،احتشام ملک ،عبدالعزیز ،محمد یاسین ،بدر رحمان ،سہیل احمد و دیگر نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی ہے کہ پوسٹ آفس روات میں فرض شناس انچارج و عملہ فوری تعینات کر کے پنشنروں کی اذیت اور ذلت کو فوری ختم کر کے گھمبیر صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔

Rawalpindi; The Rawat post office has been criticised the way it has been handling services to the pensioners, The post office authorities has been asked to take notice of lack of respect service to the senior citizen.

تھانہ روات کے نواحی علاقہ سے دوشیزہ اغواء

تھانہ روات کے نواحی علاقہ سے دوشیزہ اغواء مقدمہ درج تفصیلات کے مطابق نامعلوم ملزمان نے نواحی علاقہ شیخ زادہ سے 14 سالہ دوشیزہ الف مبین کو اغواء کر لیا اور گاڑی میں ڈال کر فرار ہو گئے دو دن گزرنے کے باوجود روات پولیس مغوی دوشیزہ کو بازیاب نہ کروا سکی اور نہ ہی ابھی تک ملزمان کا سراغ لگ سکا ہے ۔

صدر سرکل افسران ،او ایس آئی انچارج کرپٹ سب انسپکٹر کو تحفظ فراہم کرنے لگے

صدر سرکل افسران ،او ایس آئی انچارج کرپٹ سب انسپکٹر کو تحفظ فراہم کرنے لگے عرصہ دراز سے تعینات بدنام زمانہ ٹرینی سب انسپکٹر جرائم کے اڈوں کی سرپرستی کے عوض ماہانہ لاکھوں روپے بٹور رہا ہے ،سائلین کو سنگین مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دیکر بھاری نزرانے لیکر چھوڑ دیتا ہے بعض مشکوک افراد کو کئی کئی دن بغیر کسی جرم کے حراست میں رکھ کر ڈیلنگ کے بعد بغیر کسی کاروائی کے چھوڑ دیاجاتا ہے سائلین کی بیشتر شکایات کے باوجود سرکل افسران کرپٹ اور بااثر سب انسپکٹر کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ضلعی افسران کو من گھڑت رپورٹ دے کر اسے بچا لیتے ہیں عوام علاقہ کا شدید احتجاج فوری معطلی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق علاقہ کے معززین چوہدری سہیل ،چوہدری عقیل ،چوہدری یاسین ،محمد نیاز علی ،یاسر علی ،عزیز احمد ،عابد اعوان ،محمد نعمان ،محمد عامر ،ارشد محمود ،نے بتایا کہ ایس ایچ او روات ،ڈی ایس پی صدر سرکل اور او ایس آئی برانچ انچارج کی مبینہ پشت پناہی کے باعث ماڈل تھانہ روات میں عرصہ دراز سے تعینات ٹرینی سب انسپکٹرفیضان کیلئے مذکورہ تھانہ سونے کی چڑیا بن چکا ہے کرپٹ تھانیدار کی مبینہ ملی بھگت سے فحاشی ،منشیات فروشی کے درجنوں اڈے چل رہے ہیں مقامی افسران بھی جرائم پیشہ سب انسپکٹر کی بوگس کاروائیوں کے باعث بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں معززین نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب محمد طاہرسے فوری ازخود نوٹس کی اپیل کی ہے ۔

تھانہ جات میں انسپکٹر کی بجائے کرپٹ ترین سب انسپکٹر بطور ایس ایچ او تعینات

پولیس کو کرپشن اور سیاسی مداخلت سے پاک کرنیکے دعوؤں کے برعکس ضلع بھر کے اہم تھانہ جات میں انسپکٹر کی بجائے کرپٹ ترین سب انسپکٹر بطور ایس ایچ او تعینات ،بیشتر سابقہ ن لیگ کے دور حکومت میں بھی حکمران جماعت کے آلہٰ کار بن کر اہم پوسٹوں پر مزے لوٹتے رہے اور سائلین کا خون چوستے رہے کرپشن اور بری شہرت کے حامل نو تعینات چند ایس ایچ او ایسے ہیں جنھیں سابق آر پی او راولپنڈی کے حکم پر معطل و لائن حاضر بھی کیا گیا اور اہم تھانوں میں تعیناتی پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی عوامی حلقوں کا بطور ایس ایچ او تعیناتیوں پر شدید تشویش کا اظہار ،وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس کی اپیل تفصیلات کے مطابق صدر سرکل سمیت راولپنڈی کے تھانہ روات سمیت ماڈل اور اہم ترین تھانہ جات میں تعلیم یافتہ انسپکٹررینک کے افسران کو نظر انداز کر کے سب انسپکٹر بطور ایس ایچ او تعینات کر دئیے گئے جن میں متعدد سب انسپکٹر ایس ایچ او ایسے بھی شامل ہیں جنکاسابقہ ریکارڈ درست نہیں اور وہ جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کر کے کرپشن کے بے تاج بادشاہ رہے اور اب بھی انکی سیاسی وابستگی سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ تھانیداروں کی تعیناتیوں کے باعث جرائم کی شرح میں بدستور اضافہ اور کرپشن بھی بڑھنے کے امکانات نمایاں ہو گئے ہیں عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ،آئی جی پنجاب محمد طاہر اور سی پی او راولپنڈی سے فوری نوٹس لینے اور فرض شناس افسران کی تعیناتیوں کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

Show More

Related Articles