DailyNewsHeadline

Rawalpindi; Ch Nisar Ali Khan public address in Chakri on vacant election seat in NA59

الیکشن خود لڑیں یا کسی اور کو کھڑا کریں اس بات کا فیصلہ یونین کونسل کی سطح پر کارکنوں کی مشاورت سے کریں گے,چوہدری نثار علی خان

چوہدری نثار علی خان نے اپنے آبائی گاؤں چکری میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ این اے59کی متوقع خالی ہونے والی نشت پر الیکشن خود لڑیں یا کسی اور کو کھڑا کریں اس بات کا فیصلہ یونین کونسل کی سطح پر کارکنوں کی مشاورت سے کریں گے البتہ وہ صوبائی اسمبلی کی نشست کو اپنے شایان شان نہیں سمجھتے اس لئے وہ صوبائی اسمبلی کا حلف نہیں اٹھائیں گے صوبائی اسمبلی کی نشست کو چھوڑنے کا فیصلہ بھی وہ بعد میں کریں گے کہ تاہم حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ حتمی ہے محفل میں سے کسی نے آواز لگا کرپارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا تو چوہدری نثار علی خان نے وضاحت میں کہا کہ وہ الیکشن آزاد ہی لڑیں گے کیونکہ جب سواں چڑھا ہوا ہو تب ہی اسے پار کرنے کا مزہ آ تا ہے انھوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ شکست سے مایوس نہ ہوں آئندہ کا لا ئحہ عمل کارکنوں سے مشاورت سے طے کیا جائے گا انھوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن میں ٹیکنیکل طریقے سے دھاندلی ہوئی ہے وہ دونوں حلقوں میں اپنے مخالف سے برتری پر تھے لیکن پھر بھی وہ رونے دھونے اور دبارہ گنتی کروانے والے نہیں بنیں گے۔

Ch Nisar Ali Khan addressing public in his native village said, that we will decide at union council level weather I stand in the election in NA59 constituency or to let another person stand in the vacant seat.

نالے بنانے کا کام ادھورا چھوڑ کر تین سو فٹ تک آباد گھروں کو سڑک کے پانی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا

محکمہ ہائی وے پنجاب کی جانب سے موضع رنوترہ میں سڑک کے اطراف میں نالے بنانے کا کام ادھورا چھوڑ کر تین سو فٹ تک آباد گھروں کو سڑک کے پانی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے موضع رنوترہ کے رہائشی فخر عالم نے بتایا محکمہ پنجاب ہائی وے نے چک بیلی خان روڈ کی تعمیر ساتھ موضع رنوترہ میں آبادی کے باہر تک بھی نالے بنائے لیکن آبادی کے اندر تین سو فٹ تک کی جگہ کو چھوڑ دیا جس سے سڑک کا تمام پانی گھروں میں داخل ہو کر انھیں برباد کر رہا ہے اس ضمن میں پنجاب ہائی وے راولپنڈی کے دفتر میں ایس ڈی او ایکسیئن اور سپرنٹنڈنٹ سمیت افسران کو آ گاہ بھی کیا لیکن کسی نے کوئی حل نہ نکالا فخرعالم سمیت متاثرین نے حکومتِ پنجاب اور دیگر متعلقہ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

چک بیلی خان کے بازار میں چار سالہ بچے کو ڈکیتی کی تربیت فراہم کرنے کا انوکھا واقعہ

چک بیلی خان کے بازار میں چار سالہ بچے کو ڈکیتی کی تربیت فراہم کرنے کا انوکھا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب چک بیلی خان کے مین روڈ پر کھلونے بیچنے والے مطیع اللہ نامی پٹھان کی دکان پر ا یک خاتون اور بچہ آئے بچے نے کھلونوں کی فرمائش کی تو بچے کی والدہ نے پانچ ، چھ کھلونے اٹھائے اور بغیر پیسے دئے چل دئیے ابھی چندقدم دور گئے ہی تھے کہ دکاندار نے کھلونے واپس لے لئے خاتون کے بلوانے پر دس سے زائد افراد آگئے اور دکاندار نے نہ صرف یہ کہ پٹائی کر دی بلکہ دکان کا سارا سامان سڑک پھینک دیاپاکستان کے کسی دور افتادہ علاقے سے آئے ہوئے اس دکاندار کی نہ کسی قریبی دکاندار نے مدد کی ،نہ کوئی اس شہر کا کھڑپینچ پہنچا اورنہ ہی ریاست کی پولیس کو کوئی خبر ہوئی بے بس دکاندار نے راضی نامے میں عافیت سمجھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون، بچے اور حملہ آوروں کا تعلق جرائم اور قتل وغارت گری کے معاملات میں شہرت رکھنے والے گاؤں کرڑ میال سے ہے چک بیلی خان کے بازار میں ہونے والی پر تشدد واردات کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے کئی ایک واقعات ہو چکے ہیں عوامی حلقوں نے ریاستی اداروں اور بالخصوص سپریم کورٹ آف پاکستان کو نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

 

 

 

Show More

Related Articles

Back to top button