from left Mohammed Shaan Hussain and Humaira Arshad
لندن، 12 ستمبر 2026 (پوٹھوار ڈاٹ کام — محمد نصیر راجہ): بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ حمیرا بتول کو کرائے پر حاصل کی گئی لیمبورگینی کو خطرناک حد تک تیز رفتاری سے چلانے اور اپنے دوست محمد شان حسین کی ہلاکت کا سبب بننے کے الزام میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت نے انہیں خطرناک ڈرائیونگ کے باعث موت واقع ہونے کا قصوروار پایا۔
لیڈز کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ حمیرا بتول نے لیمبورگینی یوروس کو مغربی یارکشائر کے علاقے رپنڈن کے قریب M62 موٹروے پر انتہائی خطرناک رفتار سے چلایا، جہاں گاڑی کی رفتار مبینہ طور پر 143 میل فی گھنٹہ (230 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک پہنچ گئی تھی۔
حادثے کے نتیجے میں گاڑی موٹروے کے ایک حفاظتی بیریئر سے ٹکرانے کے بعد الٹ گئی اور آگ کی لپیٹ میں آگئی، جس کے باعث حمیرا بتول کے 20 سالہ دوست محمد شان حسین موقع پر گاڑی کے ملبے میں پھنس کر جاں بحق ہوگئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ محمد شان حسین، جو خود بھی بریڈفورڈ کا رہائشی تھا، نے لیمبورگینی کرائے پر حاصل کی تھی اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ ایک دوست کو لینے جائے گا۔
استغاثہ کے مطابق حسین نے صبح تقریباً 4 بجے حمیرا بتول کو ان کے گھر سے لیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر دیکھا گیا کہ حمیرا ابتدا میں گاڑی کی مسافر نشست پر بیٹھی تھیں، تاہم ٹریفک سگنل پر گاڑی رکنے کے دوران وہ گاڑی سے باہر نکلیں اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئیں، یوں دونوں نے اپنی نشستیں تبدیل کرلیں۔
حمیرا بتول نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ گھبرا گئی تھیں اور حسین کے اصرار پر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھیں کیونکہ حسین کے مطابق وہ گاڑی چلانے کے قابل نہیں تھا۔
جیوری کو بتایا گیا کہ M62 پر مشہور مقام، جسے موٹروے کے درمیان واقع گھر کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، کے قریب سے گزرتے وقت لیمبورگینی کی رفتار تقریباً 120 میل فی گھنٹہ (193 کلومیٹر فی گھنٹہ) تھی۔ اس کے صرف آٹھ سیکنڈ بعد گاڑی موٹروے سے باہر نکل کر حفاظتی رکاوٹ سے ٹکرائی، الٹ گئی اور رک گئی۔
حمیرا بتول نے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر گاڑی کو اتنی تیز رفتاری سے چلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حسین نے ان کی طرف ہاتھ بڑھا کر گاڑی کے کسی حصے کو چھوا، جس کے بعد گاڑی نے اچانک رفتار پکڑ لی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس وقت اسپیڈومیٹر نہیں دیکھ رہی تھیں کیونکہ ان کی توجہ سڑک پر تھی، تاہم انہیں گاڑی کی رفتار بڑھنے کا احساس ضرور ہورہا تھا۔
عدالت میں لیمبورگینی کے ایک نمائندے نے بتایا کہ گاڑی میں ایسا کوئی فیچر موجود نہیں جو کسی شخص کے دائیں پاؤں کے استعمال کے علاوہ اس انداز میں رفتار میں اچانک اضافہ کرسکے۔
استغاثہ کے وکیل کرسٹوفر ڈن نے جرح کے دوران حمیرا بتول پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے مبینہ مجرمانہ عمل کے نتائج سے بچنے کے لیے عدالت کے سامنے جھوٹ بول رہی ہیں۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ لیمبورگینی سے اوورٹیک ہونے والے بعض ڈرائیور حادثے کے بعد رک گئے اور متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ استغاثہ کے مطابق عینی گواہوں نے ایک خاتون کو مدد کے لیے چیختے ہوئے سنا، تاہم گاڑی میں لگی آگ اور اس کے بعد ہونے والے ایک شدید دھماکے کے باعث گاڑی میں موجود افراد تک پہنچنے کی کوشش انتہائی مشکل ہوگئی۔
حمیرا بتول بعد ازاں موٹروے کے قریب گھاس کے ایک کنارے پر زخمی حالت میں ملیں، جبکہ محمد شان حسین حادثے کا شکار گاڑی کے ملبے میں پھنسے ہوئے تھے۔
استغاثہ کے مطابق حمیرا نے گواہوں کو بتایا کہ آگ کے باعث سیٹ بیلٹ پگھل گئی، جس کے نتیجے میں وہ گاڑی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
حادثے میں حمیرا بتول کو بھی شدید چوٹیں آئیں، جن میں جسم کے تقریباً 10 فیصد حصے پر جھلسنے کے زخم اور ٹانگ کی ہڈی، ٹبیا، کا ٹوٹ جانا شامل تھا۔
جیوری نے حمیرا بتول کو خطرناک ڈرائیونگ کے باعث موت واقع ہونے کا مجرم قرار دیا۔ عدالت نے ان کی سزا سنانے کے لیے 2 نومبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔
London, September 12, 2026 (Pothwar.com — Mohammad Naseer Raja): Humaira Batool the driver of a rented Lamborghini which hit speeds of more than 140mph (230km/h) on a motorway has been found guilty of causing the death of her friend in a crash.
Humaira Batool, from Bradford, was driving the hired Urus model supercar before it struck a barrier on the M62 and set alight, killing her 20-year-old friend Mohammed Shaan Hussain.
During a trial at Leeds Crown Court, jurors were told the Lamborghini was driven by Batool “at grossly excessive speeds of up to 143mph in wet conditions” on the motorway near Ripponden, West Yorkshire.
The 26-year-old was found guilty of causing death by dangerous driving and will be sentenced on 2 November.
The trial heard Hussain, also from Bradford, had rented the vehicle and planned to use it to collect a friend from HMP Leeds.
Prosecutor Christopher Dunn told jurors he collected his friend Batool from her home at about 04:00 BST.
However, CCTV footage showed the defendant, who initially travelled in the passenger seat, getting out at traffic lights and taking the driver’s seat, switching places with Hussain.
Batool told the court she had “panicked” and got in the driver’s seat, after Hussain insisted she take the wheel as he was unable to drive.
Jurors heard the car was travelling at about 120mph (193km/h) as it passed the “house in the middle of the motorway” landmark on the M62.
Eight seconds later it had come to a standstill after leaving the carriageway, striking a barrier and overturning.
Batool denied ever intending to drive at such a speed, claiming Hussain had “reached over” and touched something causing the car to “just surge”.
The defendant said she was “not watching” the speedometer as she was focused on the road, but she could “feel the speed increasing”.
A representative of Lamborghini previously told the court there was no feature that would cause the car’s speed to increase in such a way, other than a person’s “right foot”.
Under cross-examination, Dunn accused Batool of lying to “avoid the consequences of [her] guilty actions”.
Witnesses who had been overtaken by the Lamborghini stopped to help and heard a woman shouting for assistance, the prosecution told the court.
Dunn said attempts to reach the occupants were thwarted by flames before a “very significant explosion”.
Jurors heard Batool was later found by a second group of witnesses on a grass verge near the motorway, while Hussain was trapped in the wreckage.
The prosecutor said the defendant told witnesses the flames had melted the seatbelt, enabling her to escape the vehicle.
She was left with serious injuries, including burns to around 10% of her body and a shattered tibia.