03 November 2026DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com

Kallar Syedan; Babu Allah Ditta’s Philanthropic Services Praised at Welfare Foundation Event

کلرسیداں: فلاحی فاؤنڈیشن کی تقریب میں بابو اللہ دتہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا

کلرسیداں(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم, اکرام الحق قریشی،03نومبر2026)–اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن دربار عالیہ مجددیہ بگھار شریف کے سجادہ نشین پروفیسر ڈاکٹر ساجد الرحمان نے کہا ہے کہ بابو اللہ دتہ کا جزبہ ایثار قابل ستائش ہے ان کی وجہ سے مخلوق خدا کو فائدہ مل رھا ہے یہ رہتے برطانیہ کے شہر لوٹن میں ہیں مگر ان کا دل اپنے علاقے کے ضرورت مندوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اللہ دتہ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زہراہتمام آنکھوں کے ہسپتال میں ادارے کے بانی حاجی اللہ دتہ کی صحتیابی کے لیئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق سٹی ناظم شیخ حسن ریاض،راجہ ظفر محمود،حاجی محمد اسحاق،الحاج غلام ظہیر، راجہ رشید وینس،ڈاکٹر طارق ریاض،ڈاکٹر قیصر خلجی،شیخ ظفر جاوید، قاضی زاھد نعیم،گل زرین پاشا،شیخ شعور قدوس،شیخ دانش لیاقت کے علاؤہ برطانیہ سے پروگرام میں شرکت کے لیئے آنے والوں میں لوٹن سے برطانیہ کے معروف عالم دین قاضی عبدالعزیز چشتی،لبرل ڈیموکریٹس کے کونسلر چوھدری محمد ادریس، چوھدری عبدا لغفوز، محبوب چشتی،چوہدری محمد صغیر،برمنگھم سے حاجی محمد فیاض، ٹیلفورڈ سے محمود حسین،اسٹوک اینڈ ٹرینٹ سے عبدالروف،ملٹن کینز سے چوھدری قربان حسین،سلاؤ سے حاجی محمد خورشید آف ڈھوک بلندیاں چوآخالصہ، گوجرخاں سے مرتضی حسین،سوہاوہ سے سید عامر حسین سمیت دیگر نے بھی شرکت کی،ڈاکٹر کاشف نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سولہ برس قبل حاجی اللہ دتہ نے جو پودا لگایا تھا وہ آج تناور درخت بن چکا ہے ہم نے فاؤنڈیشن کو انٹرنیشنل این جی او کے طور پر رجسٹرڈ کروا لیا ہے پروفیسر ڈاکٹر ساجد الرحمان نے کہا کہ بابو جی نے ہسپتال کی صورت میں جو درخت لگایا تھا وہ آج تناور اور ثمربار بھی ہے ادارہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رھا جو ان کے لیئے باعث دعا بن رھا ہے علاقہ کے دیگر مخیر حضرات بابو اللہ دتہ کو اپنے لیئے نمونہ بنائیں اپنی جیسی ضرورتمند مخلوق کے لیئے سلیقہ بابو جی سے سیکھیں اور علاقہ کی دکھی انسانیت کی خدمت کے لیئے کمر بستہ ہو جائیں کیونکہ ہم سب مٹی سے بنے ہیں مٹی میں ہی مل جانا ہے انہوں نے بابو جی کی صحتیابی کے لیئے خصوصی دعا کی۔برطانیہ کے معروف عالم دین قاضی عبدالعزیز چشتی نے کہا کہ بابو جی نے یہ ہسپتال شیخ محمد اکرم کے تعاون سے مکمل کیا تھا ضرورت مندوں کا مفت علاج کیا جاتا یے بابو جی نے اپنا کاروباری سفر صفر سے شروع کیا آج یہ کئی اداروں کی معاونت کر رہے ہیں سارے اخراجات ان کے گھرانے کے لوگ ادا کرتے ہیں اس موقع پر حاجی اللہ دتہ کے فرزندوں عابد حسین،آصف حسین، عاقب حسین نے تقریب کے ایک ایک مہمان کے پاس جا کر ان کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا

Kallar Syedan (November 3, 2026): Professor Dr Sajid-ur-Rehman, former member of the Council of Islamic Ideology and Sajjadah Nashin (custodian) of Darbar-e-Aalia Mujaddidia Baghar Sharif, has praised the philanthropic spirit of Babu Allah Ditta, saying that his generosity has brought significant benefits to the community.

He said that although Babu Allah Ditta lives in Luton, United Kingdom, his heart remains connected to the needy people of his native area.

He expressed these views while addressing a special gathering organised by the Allah Ditta Welfare Foundation at its eye hospital, where prayers were offered for the speedy recovery of the foundation’s founder, Haji Allah Ditta.

The event was attended by several prominent personalities, including former City Nazim Sheikh Hassan Riaz, Raja Zaffar Mahmood, Haji Muhammad Ishaq, Al-Haj Ghulam Zaheer, Raja Rasheed Venus, Dr Tariq Riaz, Dr Qaiser Khilji, Sheikh Zaffar Javed, Qazi Zahid Naeem, Gul Zareen Pasha, Sheikh Shaoor Quddus and Sheikh Danish Liaquat.

A number of guests travelled from the United Kingdom to attend the gathering. They included renowned Islamic scholar Qazi Abdul Aziz Chishti and Liberal Democrat councillor Chaudhry Muhammad Idrees from Luton, along with Chaudhry Abdul Ghafoor and Mehboob Chishti.

Other participants included Haji Muhammad Fayyaz from Birmingham, Mahmood Hussain from Telford, Abdul Rauf from Stoke-on-Trent, Chaudhry Qurban Hussain from Milton Keynes, Haji Muhammad Khursheed of Dhok Bulandian, Choa Khalsa, from Slough, Murtaza Hussain from Gujar Khan and Syed Amir Hussain from Sohawa, among others.

In his welcome address, Dr Kashif said that the initiative launched by Haji Allah Ditta 16 years ago had now grown into a well-established institution. He added that the foundation had been registered as an international NGO, marking a significant milestone in its development.

Professor Dr Sajid-ur-Rehman said that the hospital established by Babu Allah Ditta had grown into a thriving institution and was now bearing the fruits of his dedication and generosity. He added that the organisation had made considerable progress towards achieving its objectives, and its humanitarian services continued to earn prayers and goodwill from the community.

He urged other philanthropists in the area to follow Babu Allah Ditta’s example and learn from his commitment to helping those in need.

“All of us are created from dust and will eventually return to dust. Therefore, we should devote our lives to serving suffering humanity,” he said, calling upon affluent members of society to play their part in supporting the underprivileged.

He also offered special prayers for the speedy recovery of Haji Allah Ditta.

Renowned British Islamic scholar Qazi Abdul Aziz Chishti said that the hospital had been completed with the support of Sheikh Muhammad Akram and was providing free medical treatment to deserving patients.

He praised Haji Allah Ditta for starting his business journey from scratch and eventually reaching a position where he was now supporting several charitable institutions.

He further revealed that the expenses of these welfare initiatives were being met by members of Haji Allah Ditta’s family, reflecting their continued commitment to humanitarian service.

At the conclusion of the event, Haji Allah Ditta’s sons, Abid Hussain, Asif Hussain and Aqib Hussain, personally visited each guest to thank them for attending and showing their support.

The gathering concluded with prayers for the health and speedy recovery of Haji Allah Ditta and for the continued success of the foundation’s humanitarian work.

کلرسیداں میں اغواء کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ، چار مختلف واقعات میں کم عمر بچیوں، خواتین اور سات سالہ بچے سمیت متعدد افراد مبینہ طور پر اغواء

Alarming Rise in Kidnapping Incidents in Kallar Syedan: Four Separate Cases Involving Young Girls, Women and a Seven-Year-Old Child Reported

کلرسیداں(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم, اکرام الحق قریشی،03نومبر2026)–کلر سیداں اور گردونواح میں اغواء کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ،چار مختلف واقعات میں 20 سالہ غیر شادی شدہ لڑکی،ساڑھے 15 سالہ کمسن بچی،17 سالہ لڑکی اور دو خواتین سمیت سات سالہ بچے کے مبینہ اغواء کے واقعات سامنے آ گئے۔ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواستوں پر الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، تاہم خواتین اور لڑکیوں کی گمشدگی کے ان واقعات نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق جنوبی کھناہدہ چوآخالصہ کے رہائشی نعمان طارق نے پولیس کو بتایا کہ ان کی 20 سالہ غیر شادی شدہ ہمشیرہ (ل)شب آٹھ بجے واش روم جانے کے بہانے گھر سے باہر نکلی اور واپس نہ آئی۔مدعی کے ماموں نوید نے بتایا کہ جماہد نصیر بٹاہری اور جبران سکنہ موہڑہ مرید ایک کیری ڈبے میں سوار ہو کر ان کے گھر کے قریب آئے اور (ل)کو اپنے ساتھ بٹھا کر لے گئے۔دوسرے واقعے میں ڈھوک مغلاں حیال پنڈورہ کے رہائشی عمران اصغر نے مقدمہ درج کروایا کہ گزشتہ روز ان کے اہل خانہ ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لیے راولپنڈی گئے ہوئے تھے جبکہ ان کی ساڑھے 15 سالہ کمسن بیٹی (د)گھر پر موجود تھی۔ وہ خود کام کے سلسلے میں سر صوبہ شاہ گئے ہوئے تھے اور انہیں گمان تھا کہ ان کی بیٹی بھی شادی میں شرکت کے لیے راولپنڈی گئی ہوئی ہے، تاہم بعد ازاں اس کی گمشدگی کا انکشاف ہوا۔
تیسرے واقعے میں ماہلی ملکاں کی رہائشی مہناز بیگم نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی 17 سالہ بیٹی (ع) کو گھر چھوڑ کر اپنے دیور کے ہمراہ سدرہ دربار پر گئی ہوئی تھیں۔ دن دو بجے واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ عاصم، اس کا والد عارف اور والدہ زیبا سکنہ ڈھوک جبہ ان کی بیٹی کو ایک سفید رنگ کی آلٹو گاڑی میں بٹھا کر لے جا رہے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی ع نے شور مچایا مگر عاصم گاڑی تیز رفتاری سے بھگا کر لے گیا۔ گھر پہنچ کر پڑتال کی تو پانچ تولے سونا، 70 ہزار روپے نقدی اور 10 سے 15 جوڑے کپڑے بھی غائب پائے گئے۔اغواء کے ایک اور واقعے میں چکڑالی کے حبیب نے مقدمہ درج کروایا کہ گزشتہ روز ان کی دو بیٹیاں 30 سالہ (س) اور 26 سالہ (ش) اپنے سات سالہ نواسے امتیاز اور بھائی نسیم کے ہمراہ رکشے پر کباڑ اکٹھا کرنے کے لیے گئیں مہیرہ سنگال اسٹاپ پر رکشہ کھڑا کرنے کے بعد دونوں بہنیں اپنے بچے کے ہمراہ کباڑ جمع کرنے کے لیے گاؤں میں داخل ہو گئیں۔
مدعی کے مطابق اسی دوران الطاف عرف طوطہ بھی اپنے رکشے پر وہاں آیا اور ان کے بیٹے کو دیکھ کر چھپ گیا۔ دوپہر دو بجے کے قریب نسیم نے فون کر کے بتایا کہ اس کی بہنیں ابھی تک واپس نہیں آئیں۔ حبیب احمد نے شبہ ظاہر کیا کہ الطاف عرف طوطہ نے ان کی دونوں بیٹیوں کو اغواء کر لیا ہے۔چار مختلف واقعات میں لڑکیوں اور خواتین کی گمشدگی نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پولیس نے مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم مغوی خواتین اور لڑکیوں کی بازیابی اور واقعات میں ملوث مبینہ ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

Ali Asghar Bhatti, Brother of Ali Afser Bhatti, Passes Away; Funeral Prayers Held in Dhok Sarhal

علی افسر بھٹی کے بھائی علی اصغر بھٹی انتقال کر گئے، نمازِ جنازہ ڈھوک سرہل میں ادا

کلرسیداں(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم, اکرام الحق قریشی،03نومبر2026)–نلہ مسلماناں کے علی افسر بھٹی کے بھائی علی اصغر بھٹی انتقال کر گئے نمازجنازہ ڈھوک سرہل میں ادا کی گئی جس میں رکن پنجاب اسمبلی راجہ صغیر احمد،مولانا قاضی عتیق احمد،مولانا عبد الشکور نقشبندی، چوہدری صداقت حسین، راجہ ظفر محمود،بشارت محمود اعوان،مسعود احمد بھٹی،چوہدری توقیر اسلم،شیخ سلیمان شمسی،ناصر منہاس، لیاقت بھٹی،نمبردار لیاقت،آصف نورانی،یاسر کیانی،علی اصغر کیانی، صوفی جمیل اختر،راجہ نعمان ظفر،ماسٹر راجہ خطاب،ارشد محمود بھٹی،شاہد سلیم،محمد مختار،شبیر بھٹی،عمران صابر،قاضی امجد محبوب و دیگر نے شرکت کی۔

Chaudhry Muhammad Nijabat, Father of Chaudhry Abdul Basit, Passes Away in Dhok Balandian

سعودی عرب میں مقیم چوہدری عبدالباسط کے والد چوہدری محمد نجابت انتقال کر گئے، نمازِ جنازہ ڈھوک بلندیاں میں ادا

کلرسیداں(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم, اکرام الحق قریشی،03نومبر2026)–سعودی عرب میں مقیم چوہدری عبدالباسط کے والد محترم چوہدری محمد نجابت انتقال کر گئے نمازجنازہ رات کو ڈھوک بلندیاں چوآخالصہ میں ادا کی گئی جس میں راجہ قمر مسعود، چوہدری اسد قیوم ایڈووکیٹ،چوہدری عبدالقیوم،چوہدری محمد صغیر،احمد پرویز راجہ و دیگر نے شرکت کی۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button