DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com

Kahuta: Criminal Cases Filed Against Clerics of Two Kahuta Mosques for Violating Loudspeaker Act

کہوٹہ کی دو مساجد کے علما کے خلاف لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمات درج

مٹور:نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ، 16 نومبر 2025
کہوٹہ میں دو مساجد کے علماء کے خلاف لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمات درج، عوام علاقہ اور مقامی علماء نے اقدام کی مذمت کر دی ۔ تھانہ کہوٹہ پولیس نے پنجاب ساؤنڈ سسٹمز ریگولیشن ایکٹ 2015 کی خلاف ورزی پر دو الگ الگ مقدمات درج کر لیے۔ دونوں ایف آئی آرز 14 نومبر 2025 کو درج کی گئیں، جن کے مطابق مساجد میں مقررہ حدود سے زیادہ آواز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی شکایت پر کارروائی عمل میں لائی گئی جامع مسجد الفاروق، نارہ میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ 2015 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج ہوا۔پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس ایچ او کی ہدایت پر موقع پر پہنچ کر ASI نے آواز کی پیمائش کی جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی جبکہ جامع مسجد نور الاسلام میں خلاف ورزی پر دوسرا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 2596/2025 کے مطابق جامع مسجد نور الاسلام کے خطیب نے 20 میٹر سے زائد فاصلے تک پہنچنے والی آواز میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق یہ بھی ایکٹ 2015 کی واضح خلاف ورزی تھی، جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔عوام اور علماء کی جانب سے سخت ردعمل علاقہ مکینوں، نمازیوں اور مقامی علماء نے پولیس کی اس کارروائی کو“غیر ضروری اور مذہبی معاملات میں مداخلت“ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔ اہلِ علاقہ کا کہنا تھا کہ:مساجد کو نشانہ بنانا ضابل مذمت عمل ہے

Mator (Pothwar.com — Kabir Ahmad Janjua | November 16, 2025) —Police in Kahuta have registered two separate FIRs against clerics of local mosques for allegedly violating the Punjab Sound Systems Regulation Act 2015. The action has sparked strong criticism from area residents and religious scholars, who termed it “unnecessary and an interference in religious matters.”

According to police reports, both FIRs were lodged on November 14, 2025. The complaints were filed after authorities received reports of loudspeakers being used at volumes exceeding the permitted limits.

The first case was registered against Jamia Masjid Al-Farooq, Nara, where police stated that an ASI, acting on the SHO’s instructions, conducted a sound-level inspection and found the loudspeaker volume “significantly higher than the prescribed limit.”

The second FIR, numbered 2596/2025, was filed against the khateeb of Jamia Masjid Noor-ul-Islam. Police reported that the mosque’s loudspeaker could be heard clearly beyond 20 meters, which they said was a “clear violation” of the 2015 Act.

Strong Public Reaction

Residents, worshippers, and local scholars condemned the police action, describing it as “unwarranted” and an “intrusion into religious affairs.”
Community members said targeting mosques in this manner was “highly inappropriate and unacceptable.”

They urged authorities to adopt a cooperative approach rather than punitive measures, especially in matters related to religious practices.

If you’d like, I can also format this as a short bulletin, detailed report, or social-media style post.

انتظامیہ اور نمائندوں کی غفلت سے کہوٹہ تحصیل دفتر بھوت بنگلہ بن گیا، عوام کا فوری کارروائی کا مطالبہ

Kahuta Tehsil Office Turns Into a “Haunted Building” Due to Negligence, Public Demands Immediate Action

مٹور:نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ، 16 نومبر 2025
1889 میں تعمیر ہونے والا تحصیل دفتر کہوٹہ انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی لاپرواہی کے باعث بھوت بنگلہ بن چکا ہے۔ تقریباً دو سو سال پرانی اس تحصیل میں ہر جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ تین سو کے لگ بھگ سینیٹری ورکر ہونے کے باوجود صفائی کا کوئی اصولی انتظام نہیں۔ دفاتر اکثر بند رہتے ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود، پٹواریوں نے غیر قانونی طور پر پانچ پانچ، چھ چھ مُنشی رکھے ہوئے ہیں اور کرائے کے مکانات لے کر تمام سرکاری ریکارڈ ان کے قبضے میں ہے۔ دستاویزات پر مُہر و دستخط مُنشی کرتے ہیں۔ غریبوں کی کروڑوں کی زمینوں میں رد و بدل ہو رہا ہے۔ تحصیل دفتر میں نہ رجسٹری محرر اور نہ دیگر عملہ نظر آتا ہے، بلکہ پرائیویٹ افراد تحصیلدار کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ تحصیل دفتر کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ کمرشل رجسٹری کے الگ مکانات اور پلاٹوں کے مختلف ریٹس مقرر کیے گئے ہیں۔ تحصیلدار سمیت دیگر عملہ روزانہ لاکھوں روپے عوام سے رجسٹری کرنے کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ ہر نئے تحصیلدار کو عملے کی طرف سے کرپشن کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔ سائلین دور دراز سے کرایہ خرچ کر کے مایوس واپس لوٹ جاتے ہیں۔ تحصیل دفتر میں بیٹھنے کی جگہ، کینٹین، صاف پانی کی سہولت نہیں۔ پٹواری تو پٹواری ان کے مُنشیوں نے کروڑوں روپے کی کوٹھیاں بنا رجھی ہیں، اور ان کی ملی بھگت سے کئی سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ ہو چکا ہے۔ عوام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تحصیل دفتر کی صفائی، پٹواریوں کو تحصیل آفس میں بیٹھنے پر پابند کرنے، سائیلین کے کام تحصیل دفتر میں کرنے، پٹواریوں کے دیگر ٹھکانوں کو ختم کرنے، کینٹین اور عوام کو واش روم اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوام کو ریلیف، کرپشن کے خاتمے، رجسٹری محرر سمیت دیگر عملہ کی تقرری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔ مقامی انتظامیہ، مقامی شخصیت اور منتخب نمائندے فوری کارروائی کریں۔

Provincial Ombudsman Consultant Holds Open Court in Kahuta, Hears Public Complaints

کنسلٹنٹ صوبائی محتسبِ اعلیٰ پنجاب کی کہوٹہ میں کھلی کچہری، عوامی مسائل سنے گئے

مٹور:نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ، 16 نومبر 2025کنسلٹںٹ صوبائی محتسب اعلی پنجاب راولپنڈی کی کہوٹہ کلب میں کھلی کچہری،عوامی مسائل سنے چوہدری خالد محمود کنسلٹنٹ صوبائی محتسبِ اعلیٰ پنجاب راولپنڈی ریجن نے آج کہوٹہ کلب میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔جس میں اسسٹنٹ کمشنر کہوٹہ ایوشہ ظفر، تحصیلدار کہوٹہ وقاص اکرم، اے ڈی ایل آر ملک سلیم اعوان، انچارج اراضی ریکارڈ سنٹر عاصم ارشد، سی او ایم سی کہوٹہ عمیر سلطان، ایم او ریگولیشن شیزا ظفر، ایم او آئی خلیل الرحمن،انجینئر حبیب الرحمن ستی، تحصیل انچارج پیرا عمار اسلم ملک، جی ایم سی ٹی ڈی ایس ستھرا پنجاب کہوٹہ شعیب رانا اور کوارڈینیٹر پلس پروگرام کہوٹہ مجاہد عباس خان،انسپکٹر ایم سی کہوٹہ عامر اشتیاق سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے،اس موقع پر کنسلٹنٹ چوہدری خالد محمود نے شہریوں کے مسائل سنے اور متعدد شکایات پر موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے محکمہ مال، پولیس، جنگلات، میونسپل کمیٹی کہوٹہ سمیت مختلف سرکاری اداروں کے خلاف شکایات پیش کی گئیں۔کنسلٹنٹ صوبائی محتسب چوہدری خالد محمود نے کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی محتسبِ اعلیٰ پنجاب صوبے کے 52 سرکاری اداروں کے خلاف شکایات نمٹاتا ہے۔ اگر کسی افسر، ملازم یا انتظامیہ کے خلاف کوئی مسئلہ ہو تو شہری سادہ کاغذ پر درخواست جمع کروائیں، انشائاللہ فوری کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ادارہ کسی نجی فرد یا نجی کمپنی کے خلاف کارروائی کا مجاز نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ خواتین کے وراثتی حقوق کے مسائل کے حل کے لئے حکومت نے خصوصی خاتون محتسب تعینات کی ہے جو خواتین کی درخواستیں سنتی ہیں۔کھلی کچہری کے انعقاد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button