کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 15، نومبر، 2025ء) —سابق ناظم یوسی گف جاوید اقبال مرزا نے بجلی کے ترسیلی نظام میں خلل اور مرمت کے نام پر سارا سارا دن بجلی کی بندش سے نظام زندگی درہم برہم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے انہوں نے سی سی او ائیسکو کے نام ایک تحریری درخواست میں کہا کہ بجلی کی مرمت کے نام پر سارا سارا دن بجلی بند رہنے سے تعلیمی اداروں میں طلبہ طالبات بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں ان لائن کلاسز سمارٹ بورڈز انتظامی امور متاثر ہوتے ہیں طلبہ و اساتذہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں ہسپتال کلینک لیبارٹریز مسلسل بجلی پر انحصار کرتے ہیں ان کے کام میں حرج ہوتا ہے آپریشن تھیٹر وینٹی لیٹر اور کولڈ اسٹورز کے لیئے مسائل کے انبار لگ جاتے ہیں بار بار کی شٹ ڈاؤن سے حساس ادویات اور نمونے ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے بجلی کی بندش سے گھروں میں پانی کے پمپ،فریج اور دیگر برقی آلات ناکارہ ہو جاتے ہیں کھانے پینے کی اشیا خراب ہو جاتی ہیں بزرگوں اور مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے عدالتوں اور وکلا کے دفاتر میں بجلی کی بندش سے ای کورٹ ای فائلنگ اور ڈیجیٹل کاز لسٹ متاثر ہوتی ہیں بینکوں اے ٹی ایمز ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز مفلوج ہو جاتی ہے لہذہ بجلی لائنوں کی مرمت کے لیئے سارا سارا دن بجلی بند رکھنے کی بجائے دو سے تین گھنٹوں تک بجلی بند رکھی جائے اییسکو اپنی مائنٹیننس پالیسی پر نظرثانی کرے اور عوامی مفاد کا توازن قائم رکھا جائے
Kallar Syedan (15 November 2025) — Former UC Guff Nazim, Javed Iqbal Mirza, has strongly criticised the day-long power shutdowns carried out under the pretext of maintenance, saying such prolonged outages disrupt the daily lives of residents without justification.
In a written complaint addressed to the CCO of IESCO, he stated that shutting off electricity for an entire day affects students severely, disrupting online classes, smart boards, and administrative functions, while also causing mental stress for both students and teachers.
Hospitals, clinics, and laboratories — all reliant on uninterrupted electricity — face major hurdles, including complications in operating theatres, ventilators, and cold storage systems. Frequent shutdowns also risk damaging sensitive medicines and test samples.
Residents suffer additional difficulties as water pumps, refrigerators, and other electrical appliances stop working, leading to spoiled food and increased hardship for the elderly and patients.
He added that the outage also hampers the functioning of courts and lawyers’ offices, affecting e-courts, e-filing, and digital cause lists. Banking services, ATMs, and digital transactions also become paralysed during long power cuts.
Mirza urged that instead of keeping electricity shut down for an entire day for maintenance, IESCO should limit outages to 2–3 hours, review its maintenance policy, and ensure a balance that protects public interest.
کلر سیداں بار میں پنجاب بار کونسل کے نومنتخب ارکان کے اعزاز میں استقبالیہ
Kallar Syedan Bar Hosts Reception in Honor of Newly Elected Punjab Bar Council Members
کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 15، نومبر، 2025ء) —بار ایسوسی ایشن کلر سیداں میں پنجاب بار کونسل کے منتخب ارکان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا مہمانوں کی آمد پر صدر بار ایسوسی ایشن سید وقاص حیدر اور سیکرٹری راجہ سمیر حسن ایڈووکیٹ نے ان کا استقبال کیا،سید وقاص حیدر نے کرتے ہوئے کہا کہ نومنتخب نمائندگان کی کامیابی نہ صرف وکلاء برادری کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ عدلیہ اور قانونی نظام میں مثبت خدمات کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوگی۔وکلا ہمیشہ قانون کی حکمرانی اور جلد انصاف کی فراہمی کے لیئے کوشاں رہتے ہیں منتخب ارکان نے استقبال پر کلرسیداں بار کا شکریہ بھی ادا کیا
Measles–Rubella Vaccination Campaign to Begin in Kallar Syedan from 17–29 November
کلر سیداں میں 17 تا 29 نومبر خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کا آغاز
کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 15، نومبر، 2025ء)کلر سیداں میں 17 نومبر تا 29 نومبر تک چھ ماہ سے لے کر پانچ سال تک کے بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکہ جات لگِائے جائیں گے۔خسرہ اور روبیلا کی ویکسین پہلے ہی EPI پروگرام میں شامل ہے اور نو ماہ کی عمر ممیں خسرہ اور روبیلا کا پہلا ٹیکہ اور پندرہ ماہ کی عمر میں دوسرا ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ تحصیل کلّر سیداں میں چھ ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کا کُل ٹارگٹ 33919 ہے اور اسکے کے لیے گیارہ یوسیز میں گیارہ فرسٹ لیول سپروائزر کام کریں گے مہم میں 30 تربیت یافتہ ملازمین فیلڈ میں بچوں کو ٹیکے لگائیں گے۔30 ٹیم اسسٹنٹ ہیں جو ویکسینیٹر کی معاونت کریں گے اور 49 سوشل موبلائزر ہیں جو گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین کے لیے ای پی آئی کٹ سٹیشن ریفر کریں گے۔