articles

Womens day 8th March

انسانی تہذیب و تمدن میں عورتوں کا کردار

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
انسانی تہذیب و تمدن میں عورتوں کا کردار
(8مارچ:اقوام متحدہ کے عالمی یوم نسواں کے موقع پر خصوصی تحریر)
ڈاکٹر ساجدخاکوانی

مرد جب مردانیت میں اپنی حدود پھلانگتاچلاجائے اور عورت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکراسے ظلم و تعدی کا شکار بنادے،اسے اس کے حقوق سے محروم کرتے ہوئے اس کے ساتھ ناجائزرویہ روارکھے،اسکے ساتھ وہ سلوک کرے کہ جس کی اجازت اسے کسی نے نہ دی ہو،مذہب،معاشرت،قانون اور اخلاقیات سب کی دھجیاں بکھیر دی جائیں اورعورت کو اپنی دست درازیوں کا نشانہ بنایاجانے لگے،اور پھر کوئی اس مرد کا ہاتھ روکنے والا بھی نہ ہو اور نہ ہی کوئی چوکھٹ عورت کی آہ و بکا کی شنوائی کے لیے مہیاہوتو ایسے میں عورت کی حیثیت اور جانور کی حیثیت کی بھلا کیا فرق رہ جائے گا؟؟؟وقت کے ساتھ ساتھ عورت پر تشدد کے طریقوں نے بھی نت نئے روپ تلاش کرلیے ہیں۔گھرمیں عورتوں سے عورتوں کاکام لینااور بازارمیں عورتوں سے مردوں کاکام لینا،گھرمیں عورتوں سے بچوں کی پرورش کروانا اور دفتروں میں دولت کی پرورش کے لیے عورتوں کااستحصال کرنااورگھرمیں سسرال اورمیکے کی سیاست میں عورتوں کومرکزومحوربنانااور اقتدارکے ایوانوں کے لیے گلی محلے کی سیاست میں عورتوں کی نسوانیت کوبالوں سے پکڑکرمٹی پرگھسیٹنااوران کی عزت و عصمت کو میڈیاکے بازاربے وقارکے اندر تبصروں کے غلظ جوہڑمیںآلودگیوں سے لت پت کردینادراصل عورت پرتشدداورزیادتی کی بڑی ہی بے ہودہ تصاویرہیں۔
قدرت نے مرداورعورت دونوں کے درمیان خوبصورت توازن برقرار رکھا ہے،طاقت ایک کو دی ہے توحسن وکشش دوسرے کو دے دی ہے،ایک کی گود میں اولاد رکھی ہے تو دوسرے کے ہاتھ میں رزق کی باگ دوڑ تھادی ہے،ایک کوچاہنے کی خواہش دی ہے تودوسرے کوچاہت کی مرکزیت عطا کر دی ہے اوردونوں کے درمیان ایسی کشش رکھی ہے کہ جدا ہوتے ہوئے بھی باہم ایک ہی ہوتے ہیں اگرچہ ان کے درمیان کوسوں دورکے فاصلے ہی کیوں نہ حائل ہو جائیں۔قدرت کا یہ عطا کردہ توازن جب تک معاشرے میں حقوق و فرائض کی ادائیگی صور ت میں موجود رہتا ہے انسانی معاشرہ بگاڑ سے محفوظ رہتا ہے مگر جہاں جہاں اس توازن کو چھیڑ دیا جائے وہاں انسانی معاشرہ بھی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔دنیا کے کتنے ہی معاشرے ہیں جہاں عورت کو اسکے اصل مقام سے ہی نہیں بلکہ اسے مقام انسانیت سے بھی نیچے گرا دیا جاتا ہے۔اسکے مقابلے میں جانور کی زیادہ قدر کی جاتی ہے بلکہ بعض مذاہب میں تو جانوروں کی پوجا تک کی جاتی ہے جبکہ عورت کو جنس بازار سے بھی کم تر اہمیت دی جاتی ہے۔ہندومعاشرہ اسکی سب سے بدترین مثال ہے جہاں عورت کو جہیز کے پیمانے میں تولا جاتا ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ سیرت و صورت ،تعلیم و تربیت،سلیقہ و طریقہ اور اخلاق و برباری جونسوانیت کے تاریخی وحقیقی جوہر ہیں جن کاوزن عورت کی نسوانیت میں بڑھوتری کا باعث ہوتا ہے ان سب کی بجائے ہندومت میں عورت کو اس کے لائے ہوئے جہیزمیں تولا جاتا ہے ،اگرجہیز زیادہ ہو تو عورت قیمتی ہے بصورت دیگرعورت کی قبولیت کے امکانات کم سے کم تر ہیں۔ہندؤں کے ساتھ صدیوں تک رہتے ہوئے مسلمانوں کے ہاں بھی ہندؤں کے رسوم و رواج جاری رہنے لگے۔اگرچہ دوقومی نظریہ اسی تاثر سے ارتقاء پزیر ہوا کہ ہندواورمسلمان دو الگ الگ اقوام ہیں لیکن آزادی کے بعد بھی بہت سی ہندوانہ رسمیں مسلمانوں کے معاشروں میں جگہ پاتی گئیں اور اب رہی سہی کسرہندوستان سے درآمد کی گئی اس ثقافت نے پوری کردی ہے جوفلموں کے ذریعے آئی۔چنانچہ مسلمانوں کے ہاں بھی جہیز ضروری سمجھاجانے لگااور شادی کی بے پناہ رسومات اور کثرت سے تحائف کے لین دین نے شادی کو جہاں مشکل تر بنا دیاوہاں لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جانے لگا جو یقیناََ ہندومت کے رسوم کا منطقی نتیجہ تھا۔
ان بے جا رسومات کے بہت برے اثرات معاشرے پر پڑتے گئے اوربیٹی کو بوجھ سمجھنے والوں نے بیٹی کی پیدائش پر کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار شروع کیااور آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے لڑکی کی چھوٹی عمر سے ہی اسکا جہیز بنانا شروع کر دیاتاکہ اسے عزت کے ساتھ رخصت کیا جا سکے گویاپہلے دن سے ہی بیٹی والدین کے بجٹ پر ایک اضافی ذمہ داری بن گئی۔اس ذمہ داری کو نارواسمجھنے والے باپ اور بھائی کا رویہ بھی بیٹی اور بہن کے لیے ناقابل برداشت ہوتا گیااور جیسے جیسے شادی کا وقت قریب آتا گیاذمہ داران کے ذہنی تناؤ میں اضافہ ہوتا گیااور ایسا رشتہ تلاش کیا جانے لگا جہاں کم سے کم جہیز دینا پڑے اور ظاہر ہے ان پڑھ،جاہل،معذور،رنڈوا،پسماندہ یااسی قبیل کا ہی کوئی مرد کم جہیزپرراضی ہو سکتا ہے جس کے ساتھ عورت کو ساری عمر کے لیے باندھ کراسے جیتے جی یوں دوزخ میں ڈال دیا کہ وہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی ہمیشہ غیرمطمعن رہے،اسکے خواب چکنا چور ہوجائیں اور شوہر بھی ساری عمر اسے کم جہیزلانے کی پاداش میں جوتے کی نوک پر رکھے۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اسکی اولاد جسے وہ اپنے سینے کے چشموں سے سیراب کرتی ہے،اسکی گیلی کی ہوئی جگہ پر خود سوتی ہے اور اور اپنے گرم بستر پر اسے سلاتی ہے،اسکی خاطر اپنی جوانی تج دیتی ہے ۔وہی اولاد بڑی ہوکر اسے جوئے میں ہار دیتی ہے اور گھر بیٹھی ماں کسی دوسری کی ملک ہوجاتی ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو توشادی کے بعد ساس بہو کے جھگڑوں میں کتنے فیصدنوجوان ماں کی مامتا کو اسکی حقیقی روپ میں دیکھتے ہیں اور کتنے ہی ہیں جواپنی جورو کو لیے کسی نئے گھروندے میں حوا کی بیٹی پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کرنے کے لیے چل نکلتے ہیں۔شوہر فوت ہوجائے تو عورت کا حق زندگی ہی باقی نہیں رہتا اور’’ ہندومذہب‘‘کہتا ے کہ اسے شوہر کی چتا کے ساتھ نذرآتش کردو۔باپ فوت ہوجائے یا بیٹاہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے جائے یا شوہر جیسا جیون ساتھی چل بسے عورت کو کسی کے ترکے میں سے کچھ نہیں ملنے والا وہ ہمیشہ سے محروم رہی اور اب بھی محروم ہی رہے گی۔
ان حالات کامقابلہ کرنے کے لیے عقل انسانی نے ایک دوسراراستہ یوں اختیارکیاکہ عورتوں کو بھی مردوں کی صف میں لاکھڑاکردیاجائے۔اس طرح گویا خواتین اپنامعاشی و معاشرتی بوجھ خود اٹھانے کے قابل ہوجائیں گی اور اپنے مردوں پریامعاشرے پر بوجھ نہ بنیں گیں۔اس مقصدکے لیے عورتوں پر مردانہ نصاب تعلیم کے پڑھنے کولازمی گرداناگیا،انہیں مردوں کے شانہ بشانہ تعلیمی اداروں میں داخل کراکے مردانہ تعلیم فراہم کی گئی،ان کے لیے برابری کی بنیادپر ملازمتوں کے دروازے کھول دیے گئے تاکہ وہ بھی انسانی معاشرے کا انتظامی،عدالتی،دفاعی،طبی و تعلیمی اور تکینیکی بوجھ اٹھانے میں مردوں کی ممدومعاون ثابت ہوسکیں۔اس غیرمنطقی عمل نے معاشرے پرسے عورتوں کابوجھ کم کرنے کی بجائے عورتوں کی ذمہ داریوں میں اس قدر اضافہ کردیاکہ گھرکاسکون نذربازارہوگیا۔جب ایک ہی منصب پرلڑکے اور لڑکیاں دونوں برابرقابلیت اورمساوی اہلیت کی بنیادپر درخواست گزارہوں گے توصرف عورت کاانتخاب جن پیمانوں کے باعث یقینی ہوگاوہ پیمانے اظہرمن الشمس ہیں۔ایک ہی دفترمیں کام کرنے والے مراورعورتیں غیرفطری مخلوط ماحول کے باعث جن آلودگیوں کاشکارہوتے ہیں اخباروں کی خبریں اور ایسے دفاترمیں لگے خفیہ کیمروں سے بننے والی فلمیں کے ثبوت عورت کے بے وقعتی اور بے قدری پر دال ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نسوانیت کے بغیر انسانیت کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔انسان ایک عورت کے پیٹ میں ہی اپنے آغازکی ابتدا کرتا ہے اس کی گود میں پرورش پاتاہے اس کے سینے سے سیراب ہوتا ہے اوراسی ماں کی لوریاں اسکی تعلیم کا پہلا سبق ہوتی ہیں وہی اسکی پہلی استاد ہوتی ہے اور نہ جانے قدرت والے نے اور کتنے ہی کردار اس ماں کی ذات میں جمع کر رکھے ہیں۔نسوانیت سے مستعار ماں کا یہ مقام اتنا بڑا منصب ہے کہ جنت جیسی جگہ بھی اسکے قدموں کے تلے آن ٹہرتی ہے۔اﷲ تعالی نے اپنے اقتدار کے لیے،اپنے خزانوں کے لیے،اپنی طاقت کے لیے یا اپنے غضب کے لیے کوئی مثال پیش نہیں کی ہے سوائے اس کے کہ اﷲ تعالی نے اپنی رحمت کے لیے ماں کی محبت کو مستعار لیا کہ ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرنے والا۔جنت سے بڑھ کر کوئی خوبصورت اور دلنشین مقام اس کائنات میں نہیں ہے۔اﷲ تعالی نے جب حضرت باباآدم علیہ السلام کو اس مقام پر جگہ عطا کی توانہوں نے بارالہ میں تنہائی کی شکایت کی جس کے بعد انہیں ایک خاتون،اماں حوا کی معیت عطا کی گئی،گویا جنت جیسی جگہ پر بھی بغیر عورت کے انسان کا دل نہ لگا۔یہ نظام قدرت ہے کہ مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر نامکمل ہے،دونوں کے اختلاط سے ہی جہاں نسل انسانی کی بقا ممکن ہے وہاں تہذیب و تمدن کے ارتقاء کے کیے بھی دونوں کا اشتراک کار بے حد ضروری ہے گویا کہ مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔
عورت کی محرومیاں ہمیشہ سے سنجیدہ انسانوں کا موضوع رہی ہے اور ہر مفکروفلسفی اور موسس اخلاق نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔قدیم یونان میں صدیوں یہ بحث چلتی رہی کہ عورت انسان بھی ہے کہ نہیں اور اس دور کی کتنی ہی کتب آج بھی اس بحث کو پیش کرتی ہیں،قدیم عرب معاشرے میں عورت کی حیثیت کسی سے ڈھکی ثھپی نہیں ہے اور ماضی قریب تک میں عورت کے دو ہی روپ سامنے آتے ہیں یا تو وہ ظلم کی چکی میں پستا ہواایک بے حقیقت دانہ ہے یا پھر اس بازار کی زینت ہے جہا ں صبح و شام گاہگ اسکی طلب میں آسودگی حوس نفس کے لیے آتے ہیں اور وہ انہیں ناچ کر دکھاتی ہے اور گا کر سناتی ہے یاپھر راتوں کو روزانہ ایک نئے مرد کا بستر گرم کر کے تو اپنے پیٹ کے لیے دو وقت کے ایندھن کا انتظام کرتی ہے۔لکھنو کے نواب ہوں یا دہلی کا دربارکلیسا و دیر ہوںیااسمبلی و پارلیمان یا دنیا بھر کے مشرق و مغرب کے مہذب و غیرمہذب معاشرے ہوں عورت کی کہانی ہر جگہ یکساں ہی رہی ہے۔
ہمیشہ کی طرح آج کی پورپی تہذیب کے انسانی عالی دماغوں نے بھی عورت کے مسائل کا حل تلاش کیا اور پیش بھی کیا۔کم و بیش تین سو سالوں سے یورپی تہذیب نے عورت کو حقوق نسواں کے نام سے ایک آزادی دے رکھی ہے تاکہ اسکے مسائل حل ہو جائیں،لیکن یہ آزادی بھی چونکہ ’’مردوں‘‘نے ہی دی ہے اس لیے اسکی حقیقت بھی اس سے زیادہ نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرا رہی ہے۔عورت کو سرمیدان لا کر اسکی ذمہ داریوں میں کمی تو نہیں کی گئی لیکن معاش کا ایک اور بوجھ بھی اسکے کندھوں پر ضرور ڈال دیا گیا ہے۔پہلے وہ صرف شوہر کی دست نگر تھی تو اب اسے شوہر کے ساتھ ساتھ اپنے باس اور اپنے رفقائے کار کا بھی’’دل لبھانا‘‘پڑتا ہے۔اس نام نہاد جدید لیکن غیرفطری تہذیب نے عورت کی فطری ذمہ داریاں جو اسکی گود ،اسکی اولاد،اسکا خاندان اور اسکے گھر سے عبارت تھیں انکی بجائے عورت کو سیاست،دفاع،معاش اورانتظامی امور کی طرف دھکیلنے کی بھونڈی کوشش کی ہے،جس کے نتیجے میں خاندانی نظام اور اخلاقی معیارات اپنے تنزل کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔
اس غیر فطری سلوک کا نتیجہ ہے کہ عورت سے اسکانسوانی حسن چھن گیا ہے،لفظ’’عورت ‘‘جس کا مطلب ہی چھپی ہوئی چیز ہے اسکو عریاں سے عریاں تر کیا جا رہاہے۔عورت کی اس غیرفطری آزادی سے نسلیں مشکوک ہوتی چلی جا رہی ہیں اور یورپ کے مفکرین اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ انکے معاشرے سے آہستہ آہستہ باپ آشنا بچے اور باپ ناآشنا بچوں کا فرق مٹتاچلا رہا ہے۔عورت کی آزادی کا منطقی نتیجہ معاشرے کی وہ آشنائیاں ہیں جو صدیوں کے قائم کیے ہوئے تاریخی انسانی اخلاقی اقدار کو داغدار کرتی چلی جا رہی ہیں اور پھر کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ اس غیرفطری آزادی نے جو یورپ نے عورت کو تھوک کے حساب سے فراہم کر دی ہے تقدیس کا دامن بھی کس کس طرح تار تار کر دیا ہے؟اور مقدس رشتوں کے درمیان بھی حوس نفس کس طرح در آئی ہے۔اور پھر کیا اس طرح اس معاشرے کو آسودگی حاصل ہو گئی ہے؟اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم جنسیت اور جانوروں تک سے تعلقات استوار کرنے والے اب اس دلدل میں اندر سے اندر دھنستے چلے جا رہے ہیں۔
عورت کی اس آزادی کے خلاف اگر چہ ہمیشہ سے ایک دبی دبی آوازاٹھتی رہی ہے لیکن اب تو عورتوں ہی کی کتنی نجی تنظیمیں خود یورپ کے اندر قائم ہو چکیں ہیں جن کے مطالبات میں سے سرفہرست یہی ہے انہیں انکی فطری ذمہ داریاں لوٹا دی جائیں اور دنیا کے کاروبارمعیشیت وسیاست وغیرہ سے انہیں سبکدوش کر دیا جائے،حال ہی میں جاپان میں عالمی مقابلہ حسن کے موقع پر جن خواتین نے اپنے فطری حقوق کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا اسکی قیادت کرنے والی ہالی وڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ فلمی ادارے کی سابق ہیروئن تھی۔عالم انسانیت کے منصب قیادت پر فائزیورپ جیسے خطہ ارضی کی ہوائی سفرکے اداروں میں ملازمت کرنے والی خواتین کی تنظیموں نے مالکان سے مطالبہ کیاانہیں مہمان داری کے منصبی فرائض کی ادائگی کے دوران جسم کومکمل طورپر ڈھانپنے والا لباس زیب تن کرنے کی اجازت دی جائے،اس کی وجہ شرم وحیا نہ تھی بلکہ یورپ کا وہ سرد ترین موسم تھا جس میں کل انسان سرکے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک گرم ترین کپڑوں سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں جب کہ خواتین نیم عریاں جسم کے ساتھ اس جان لیوا موسم کامقابلہ کرتے ہوئے مردوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک کے سامان کی فراہمی کاسبب بنے سیکولرازم کے ننگ انسانیت کردارپر نوحہ کناں ہوتی ہیں۔مالکان نے یہ درخواست محض اس لیے مسترد کردی کی اس سے ان کی گاہکی متاثر ہوگی۔
اﷲ تعالی خالق نسوانیت ہے اور خاتم النبیینﷺ محسن نسوانیت ہیں اور اﷲ تعالی کے بھیجے ہوے دین سے بڑھ کر کوئی نظام انسانوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔اسلام نے فرائض کے مقام پرمعاشرے کے سب طبقوں کو جمع کیا نماز میں معاشرے کے تمام طبقات کو یکجاکر دیا،سب مسلمانوں کے لیے خواہ وہ کسی طبقے،کسی مقام و مرتبے یا کسی رنگ و نسل وعلاقے سے تعلق رکھتے ہوں ایک وقت میں سحروافطارکے نظام میں یکساں پرودیا،دنیابھرکے مسلمانوں کو ایک ہی لباس پناکر ایک کلمہ منہ سے نکالتے ہوئے ایک ہی کمرے کے گرد ایک ہی رخ میں مانندیک جان متحرک کردیا۔جب کہ سیکولریورپی تہذیب نے حقوق کے نام پر سب طبقوں کو باہم لڑا دیا ہے،طالب علموں کے حقوق تواساتذہ سے لڑو،مزدوروں کے حقوق تو مل مالکان سے لڑو،عوام کے حقوق توحکمرانوں سے لڑو اور خواتین یعنی بہن،بہو،بیٹی،ماں کے حقوق تو مردوں یعنی اپنے باپ،بھائی،شوہراوربیٹے سے لڑو۔اسلامی تہذیب نے ’’ایثار‘‘کاسبق پڑھایا کہ اپنے حقوق سے دستبردارہوکر دوسروں کے لیے قربانی دو،جان لبوں پر پہنچ گئی لیکن پانی ساتھ والے کی طرف بڑھادیا،ایک ہی فرد کاکھاناتھاتو چراغ بجھاکرخود منہ چلاتے رہے تاکہ دوسراپیٹ بھرکر آسودہ ہوجائے خواہ خود کوبھوکے پیٹ سوناپڑے۔اس کے مقابلے میں سیکولرمغربی تہذیب نے سکھایاکہ اپنے حقوق مانگ کر نہیں ملتے بلکہ چھین کر لیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے عام طورپرمعاشرے کے کمزورطبقوں کوخاص طورپرعورتوں کو نشانہ بناکران کے ذریعے فسادفی الارض کی آگ بھڑکائی گئی ۔ایشیا کے پرامن مشرقی روایات کے حامل معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے نام پر جنس متضاد کے درمیان ایک غیراعلانیہ جنگ اس معاشرے کو تباہ کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔عورتوں کے مسائل سمیت کل انسانوں کے کل مسائل کاحل صرف دین اخروی کے اندر ہی پنہاں ہے اور خطبہ حجۃ الوداع سے بڑھ کر اور کوئی دستاویزانسانوں کے حقوق کی علمبردار نہیں ہو سکتی۔عالم انسانیت کوآسودگی ،راحت ،امن و آشتی،پیارومحبت اورحقوق وفرائض کے درمیان توازن کے لیے بالآخر اسی چشمہ فیض کی طرف ہی پلٹنا ہوگاجوانبیاء کی دعوت کا خلاصہ اور اﷲ تعالی کااس دنیا میں آخری پیغام ہے۔

Show More

Related Articles