DailyNewsGujarKhanHeadlinePothwar.com
Gujar Khan: Boundary Wall of Government High School Bhaddana Collapses Due to Recent Rains
حالیہ بارشوں کی وجہ سے گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ کی چار دیواری گر گئی

گوجر خان (پوٹھوار ڈاٹ کام – 28 جولائی 2025): — گزشتہ دو دنوں سے جاری شدید بارشوں کے نتیجے میں گورنمنٹ ہائی سکول بھڈانہ، تحصیل گوجر خان کی چار دیواری گر گئی، جس سے طلبہ اور عملے کی حفاظت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، دیوار کا گرنا بدھ کی علی الصبح اس وقت پیش آیا جب مسلسل بارشوں کے باعث زمین نرم ہو گئی اور دیوار کی بنیاد کمزور پڑ گئی۔ اس کے نتیجے میں دیوار کا تقریباً 6 سے 8 فٹ چوڑا حصہ منہدم ہو گیا۔
خوش قسمتی سے یہ واقعہ سکول کے ایک غیر استعمال شدہ حصے میں پیش آیا، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم سکول انتظامیہ نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مرمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا تھا، “اگر یہ حادثہ سکول کے اوقات میں ہوتا تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے تھے۔”
قریبی رہائشیوں نے بھی اطلاع دی ہے کہ چار دیواری کے دیگر حصوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ بارشوں میں مزید حصے بھی گر سکتے ہیں۔ چونکہ مون سون کا سلسلہ جاری ہے، اس لیے مقامی انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
عارضی طور پر سکول انتظامیہ نے متاثرہ حصے کو گھیرے میں لے کر عملہ تعینات کر دیا ہے تاکہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ والدین کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ بچوں کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔
اس واقعے نے سرکاری تعلیمی اداروں کی کمزور انفراسٹرکچر کی طرف ایک بار پھر توجہ دلائی ہے، اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
Gujar Khan (Pothwar.com – July 28, 2025): — A heavy downpour over the past two days has caused the boundary wall of Government High School Bhaddana in Gujar Khan Tehsil to collapse, raising safety concerns for students and staff.
According to eyewitnesses, the collapse occurred in the early hours of Wednesday when continuous rains saturated the ground, weakening the wall’s foundation. The structure gave way partially, leaving a six to eight-foot-wide section in ruins.
Thankfully, the wall toppled in an unused area, and no injuries have been reported. However, school authorities expressed alarm over the incident and highlighted the urgent need for immediate repair.
The wall gave way when no one was around, but had this happened during school hours, it could have been disastrous.”
Nearby residents also reported smaller cracks appearing in adjacent boundary sections, worrying that further rain might create more collapses. With the monsoon set to continue, local officials are being urged to act quickly.
In the interim, the school has cordoned off the destroyed section and appointed staff to monitor the area until repair work begins. Parents have been notified and assured that all necessary precautions are in place to guarantee student safety.
پولیس وردی میں بھیڑیا: پنجاب پولیس اہلکار خواتین کو بلیک میل کرتا رہا، موبائل سے 300 سے زائد ویڈیوز برآمد
Serial Offender in Police Uniform: Punjab Police Officer Exposed for Blackmailing Women at THQ Hospital, Over 300 Videos Found

گوجر خان (پوٹھوارڈاٹ کام، 27 جولائی 2025) — ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک واقعہ نے پنجاب پولیس کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں ایک پولیس اہلکار، جو قانون کا محافظ سمجھا جاتا ہے، خود قانون شکن نکلا۔ مذکورہ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان کے زنانہ وارڈ میں خفیہ ویڈیوز بنائیں اور خواتین کو بلیک میل کرتا رہا۔
ذرائع کے مطابق، اس پولیس اہلکار کے موبائل فون سے 300 سے زائد نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں، جن میں متعدد خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کیا جاتا رہا۔ حیرت انگیز طور پر، ایف آئی آر میں نہ صرف اس کی پولیس حیثیت کو چھپایا گیا بلکہ اس کے ماضی کے جرائم کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید انکشافات کے مطابق، یہی شخص پہلے بھی زیادتی کے ایک مقدمے میں نامزد ہو چکا ہے جو تھانہ صادق آباد میں درج ہوا تھا، لیکن بااثر عناصر کی مداخلت سے وہ دوبارہ بحال کر دیا گیا۔ یہ بات نہایت تشویشناک ہے کہ ایسے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو دوبارہ محکمہ پولیس میں شامل کر کے عوام کی عزت و جان کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اس اہلکار کو سزا دینا کافی نہیں، بلکہ ان تمام افسران اور افراد کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے اسے بچایا، بحال کروایا یا اس کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اگر پولیس اب بھی ان ویڈیوز کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بناتی، تو یہ تاثر مزید گہرا ہوگا کہ محکمہ خود ایسے عناصر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
متاثرہ خواتین اور ان کے اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں مکمل شفاف تحقیقات کی جائیں، اور ایسے درندہ صفت اہلکاروں کو فوری طور پر نشانِ عبرت بنایا جائے۔
یہ کیس نہ صرف ایک فرد کی درندگی کا معاملہ ہے بلکہ پولیس نظام میں موجود خامیوں اور کرپشن کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ اگر اب بھی اصلاح نہ کی گئی، تو عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہو جائے گا۔
Road Construction from Sukho to Dhoke Nadir Underway in Daultala, Gujar Khan
دولتالہ گوجرخان: سکھو تا ڈھوک نادر سڑک کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری




