DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com

Kallar Syedan: RPO Rawalpindi Holds Open Court in Kallar Syedan, Issues On-the-Spot Orders on Police Complaints

کلر سیداں میں آر پی او راولپنڈی کی کھلی کچہری، پولیس شکایات پر فوری احکامات

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 25,جولائی، 2025):—ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی ریجن بابر سرفراز الپا کی کلرسیداں میں کھلی کچہری،پولیس سے متعلقہ شکایات سنیں اور بعض شکایات کے ازالے کے لیئے موقع پر ہی احکامات جاری کیئے،اس موقع پر ایس پی صدر نبیل کھوکھر،ڈی ایس پی افضل گوندل،کلرسیداں اور کہوٹہ کے ایس ایچ اوز سید سبطین الحسنین اور سید ذکاالحسن بھی موجود تھے۔ار پی او بابر سرفراز الپا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اور وزیراعلی کے ویژن کے عین مطابق صوبے میں پولیس کو عوام دوست بنایا جا رھا ہے قانون کی عملداری اور جرائم پیشہ عناصر کے قلع قمع پر کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔صوبہ کو امن کا گہوارہ بنانے کا تہیہ کر لیا ہے تمام اضلاع میں اشتہاریوں کی گرفتاری کے لیئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد شہروں سے دور لوگوں کے مسائل ان کے گھروں کے پاس جا کر معلوم کرنا اور ان کے حل کے اقدامات کرنے ہیں پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے سے بھی مسائل کم ہوں گے شہری اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نگاہ رکھیں ناپسندیدہ عناصر کے بارے میں مطلع کریں ان کا نام صیغہ راز میں رہے گا کیونکہ معاشرے کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنا پولیس اور عوام دونوں کی زمہ داری ہے یہ دونوں مل کر معاشرے میں امن بھائی چارہ کی فضا قائم کر سکتے ہیں۔انہوں نے تفتیش کو شفاف ترین اور تیز تر بنانے کیلئے سپروائزر آفیسرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنیاپنے سرکل اور تھانوں میں سنگین نوعیت کے مقدمات کی براہ راست نگرانی کی ذمہ داریاں انجام دیں۔انہوں نے چوکپنڈوری پولیس چوکی کی بحالی کے مطالبہ پر کہا کہ وہ اس بابت غور کریں گے انہوں نے عوام کی جانب سے کلرسیداں کے ایس ایچ او سید سبطین الحسنین کی کارکردگی بابت شہریوں کے جذبات کو مثبت اور خوش کن قرار دیتا ہوئے کہا کہ اچھے افسر کی یہی پہچان ہے کہ وہ اردگرد کے افراد کے ساتھ اپنے روابط کو مربوط بنائے بعد ازاں وہ پولیس اسٹیشن کلرسیداں بھی گئے جہاں انہوں نے مختلف شعبوں کا دورہِ کیا اور ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس میں مزید بہتری لانے کی ہدایت کی جب انہیں بتایا گیا کہ کلرسیداں پولیس اسٹیشن کی عمارت 1861 میں تعمیر کی گئی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ عمارت کئی تاریخی واقعات کی امین ہے کلرسیداں پولیس اسٹیشن کی نئی عمارت بھی تکمیل کے قریب ہے ہم نے کوشش کی ہے کہ ملازمین کو بہتر اور جدید سہولیات میسر کرسکیں گے۔

Kallar Syedan (Pothwar.com – Ikram-ul-Haq Qureshi | July 25, 2025):
Regional Police Officer (RPO) of Rawalpindi Region, Babar Sarfraz Alpa, held an open court in Kallar Syedan to address public complaints related to police matters. Immediate directives were issued on-site for the resolution of several grievances. The event was attended by SP Saddar Nabeel Khokhar, DSP Afzal Gondal, and SHOs of Kallar Syedan and Kahuta, Syed Sibtain-ul-Hasnain and Syed Zaka-ul-Hasan.

While addressing the gathering, RPO Babar Sarfraz Alpa said that under the vision of the Punjab government and the Chief Minister, efforts are being made to make the police public-friendly. He emphasised strict enforcement of the law and zero tolerance for criminal elements. He stated that special teams have been formed across districts for the arrest of proclaimed offenders, and that the province is determined to become a haven of peace.

The RPO highlighted that the purpose of holding open courts is to reach out to people in remote areas and listen to their issues near their homes. Reducing the gap between the police and the public will lead to the resolution of more issues. He urged citizens to stay vigilant about their surroundings and report suspicious elements, assuring them of complete confidentiality.

He directed supervising officers to personally oversee serious cases in their respective circles and police stations to ensure transparent and swift investigations. Responding to the public demand for the restoration of the Chowk Pindori police post, he said the matter would be considered.

Praising the performance of SHO Syed Sibtain-ul-Hasnain, the RPO called the public’s positive sentiment a reflection of effective community engagement. Later, he visited the Kallar Syedan police station, inspected various departments, expressed satisfaction, and instructed further improvements. Upon learning that the current station building dates back to 1861, he remarked on its historical significance and noted that a new building is near completion, which will provide improved and modern facilities for staff.

کلر سیداں میں کھلی کچہری، بجلی کے مسائل پر ایس ای شہزاد احمد کے فوری احکامات اور عوامی تحفظات کا اعتراف

Rising Electricity Complaints Addressed in Kallar Syedan Open Court: SE Shehzad Ahmed Pledges Swift Action

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم — اکرام الحق قریشی | 25,جولائی، 2025):—سپرنٹنڈنٹ انجینئر کینٹ سرکل راولپنڈی شہزاد احمد جلیل نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد صارفین کے مسائل ان کے گھروں پر دہلیز پر حل کرنے کے ساتھ اپنے عملے کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور خود کو عوام کی عدالت میں پیش کرنا بھی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلرسیداں میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ائیسکو سب ڈویژن ککرسیداں،ساگری اور چوآخالصہ کے صارفین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور اپنے مسائل بیان کیئے ،اس موقع پر ایکسیئن روات محمد عظیم زرداری،ایس ڈی او انجینئر جمال لطیف چوہدری،ایس ڈی او کنسٹرکشن عبدالوحید و دیگر بھی موجود تھے نظامت کے فرائض ارشد عنایت مرزا نے سرانجام دیئے،ایس ای شہزاد احمد جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ائیسکو کے احکامات کی روشنی میں صارفین کے مسائل حل کرنے کے لیئے کوشاں رہتے ہیں ہم صارفین کے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہیں اور صارفین کی رائے کو ہرصورت اہمیت دیتے ہیں یہ صارفین ہمارے بوس ہیں ان کے مسائل کا حل ہمارا نصب العین ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی بجلی کے مہنگا ہونے کا احساس ہے حکومت بتدریج اس کے نرخوں میں کمی لانے کے لیئے کوشاں ہے بجلی درآمدی تیل سے تیار ہوتی ہے لہذہ صارفین اس کے ضیائع کو روکیں برسات کے موسم میں برقی تنصیبات سے دور رہیں اور کھلی کچہری سے بھرپور فایدہ اٹھائیں ہم فوٹو سیشن کے لیئے مسائل کے فوری اور دیرپا حل کے لیئے شہروں سے باہر کھلی کچہری کا انعقاد کرتے ہیں ہمارے پاس بجٹ کی کمی نہیں نہ ہی ہمارے ارادوں میں کوئی کھوٹ ہے صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی اور ان کے اعتماد ہی ہمارا اثاثہ ہے انہوں نے کہا کہ نوے فیصد صارفین کے مسائل میں گھروں کے اوپر سے گزرتی بجلی کی لائینیں ہیں مگر سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ بجلی لائنوں کے نیچے مکانات کیوں بنائے گئے؟کئی دھائیوں پہلے بجلی کی لائنوں کی تنصیب ہوئی اس کے بعد اب لوگوں نے ان لائنوں کے نیچے گھر بنا لیئے جس سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے ہیں ہم نے راولپنڈی میں اسی صورتحال کے پیش نظر اپنی لائن کو بیس فٹ مزید اونچا کیا تو صارفین نے بھی دوسری منزل بنا کر شیڈ تعمیر کرکے پرانی صورتحال کو بحال کردیا ہمیں اپنی رویوں پر بھی غور کرنا ہو گا،سابق ارکان بلدیہ چوہدری اخلاق حسین،راجہ ظفر محمود، عاطف اعجاز،عابد زاھدی،جنید بھٹی،صوفی صابر حسین،مولانا احسان اللہ چکیالوی،راجہ عاصم ریاض،سردار محمد اصف و دیگر نے انہیں مسائل سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے فوری احکامات جاری کیئے،جماعت اسلامی کے رہنما چوہدری ابراد حسین نے کہا کہ بجلی کے نرخوں اور اس میں ریکارڈ ٹیکسوں کی بھرمار نے ہمارے گھریلو نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے میں نے گیارہ صارفین کے بل ادا کیئے اگلے ماہ کون ادا کرے گا؟حکومت بجلی کے نرخوں کے علاؤہ اس سے کمائی بھی کرتی ہے ایک مزدور نے ذیادہ بل آنے پر اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی اس کا کون زمہ دار ہے؟ایک شہری نے شکایت کی کہ ہم گھر کے تین افراد ہیں میرا بیٹا مزدوری کرتا تھا بیٹی نانی کے پاس رہتی ہے میں ریٹائرڈ ملازم ہوں میرا بل دس ہزار کا آیا ہے میں یہ بل ادا نہیں کرسکتا جس پر ایس ای نے انہیں نیا بل جاری کرنے کا حکم دیا،انہوں نے کئی ٹرانسفارمروں کی فوری تنصیب اور کئی لائنوں کی منتقلی کے لیئے سروے کے احکامات جاری کیئے ۔

Show More

Related Articles

Back to top button