DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com
Kallar Syedan: Hundreds of Afghan Refugees Bid Emotional Farewell to Choha Khalsa After 46 Years
کلر سیداں: 46 برس بعد افغان مہاجرین کی چوا خالصہ سے جذباتی رخصتی

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کوم، اکرام الحق قریشی –18 , اپریل، 2025) —چوآخالصہ کے سینکڑوں افراد نے خلوص اسلامی جذبہ ہی اخوت نے انصارمدینہ کی یاد تازہ کردی۔کلرسیداں کے دوسرے بڑے قصبہ چوآخالصہ سے سینکڑوں افغان شہری 46 برس بعد رضاکارانہ طور پر افغانستان روانہ ہو گئے بقیہ افغانیوں نے بھی سامان باندھ کر کمر کس لی ہے اور یہ 25 اپریل کو افغانستان روانہ ہوں گے 46 برس تک چوآخالصہ میں رہنے والے افغانوں کی افغانستان واپسی پر اسلامی اخوت بھائی چارے باہمی احترام و محبت کے مظاہرے دونوں اطراف سے رقت آمیز مناظر،دونوں اطراف سے اہ و بکا آہوں سسکیوں سے الوداع کر کے کر کے بے مشال تاریخ رقم کی چوآخالصہ کے ڈیڑھ سو کے قریب نوجوانوں نے افغانستان نقل مکانی کرنے والوں کا پہلے سامان پیک کروایا پھر انہیں گاڑیوں پر لادا جس کے بعد طاہر محمود بھٹی کی جانب سے انہیں ناشتہ پھر دن کا کھانا دیا گیا پھر راستے کی مسافت کے لیئے بھی انہیں کھانا مہیا کیا گیا جس کے بعد جامعہ مسجد صدیق اکبر محلہ اکبری چوآخالصہ میں افغانوں کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد کی گئی جس میں سینکڑوں افغانیوں کے علاوہ سینکڑوں مقامی لوگوں نے بھی شرکت کی اور مسجد کچھا کچھا بھر گئی وہاں موجود ہر شخص اشکبار تھا کچھ ہی دیر میں جزبات کے بندھن ٹوٹ گئے اور تقریبا نصف صدی تک ایک ہی جگہ بہن بھائیوں کی طرح رہنے والے ہر عمر کے لوگوں کی آنکھیں بھیگنے کے بعد اہوں سسکیوں معافی تلافی کے بعد دھاڑیں مار مار کر رونے لگے مسجد میں اہ و بکا کا عالم طاری ہو گیا سبھی ایک دوسرے سے گلے مل کر دھاڑیں مارنے لگیں بہتے آنسووں اور آ ہوں کے ساتھ ایک دوسرے کو الوداع کیا مسجد کے مہتمم طاہر محمود بھٹی انہیں مائیک پر الوداع کہتے ہوئے رو پڑے سابق چیئرمین یوسی چوآخالصہ پیر سید راحت علی شاہ پر رقت طاری ہو گئی اور وہ کوشش کے باوجود کوئی بھی جملہ ادا نہ کرسکے جس کے بعد وہاں موجود لوگوں کی ہچکیاں بندھ گئیں طاہر محمود بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپ نے ہمارے ساتھ 46 برس کا شاندار وقت گزارا اگر اس دوران ہمارے کسی شخص سے کسی افغان بھائی کی دل ازاری ہوئی ہو تو میں آج آپ سب سب سے معافی مانگتا ہوں اپ سے گزرا وقت ہمیشہ یاد رہے گا اپ ہمارے خاندانوں کا حصہ رہے اپ کے بچے یہاں پیدا ہوئے پلے بڑھے ہمارے بچوں کے ساتھ رہے اپ کو اپنی زندگی میں دوسری بار ہجرت کا سامنا کرنا پڑ رھا ہے ہم سب کی دعا ہے کہ اللہ تعالی اپ پر اپنی خصوصی رحمت کا نزول فرمائے اور ہر دکھ پریشانی سے محفوظ رکھے دوسری جانب خواتین کا بھی یہی عالم تھا دونوں اطراف کی خواتین نے دھاڑیں مار مار ایک دوسرے کو الوداع کہا یہاں کچھ لوگ اس خواہش کا بھی اظہار کرتے پائے گئے کہ کاش کچھ افغانی دہشتگردی میں ملوث نہ ہوتے تو لاکھوں افغانوں کو دوسری بار ہجرت کی تلخی سے نہ گزرنا پڑتا۔
ادہر دریائے جہلم کے اس پار حکومتی پالیسی کے تحت ڈڈیال ہولڈنگ پوائینٹ سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع ہو گیا،ڈی ایس پی ڈڈیال سید اشتیاق گیلانی، ایس ایچ او راشد حبیب، تھانہ پولیس ڈڈیال کے عملہ اور دیگر ذمہ داران کی موجودگی میں 101 مرد خواتین اور بچوں کو طور خم بارڈر کے لئے پر تپاک انداز میں رخصت کیا گیا اس موقع پر نادرا کی سپیشل ٹیم نے ویریفیکیشن کا عمل بھی مکمل کیا۔




