DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com
Kallar Syedan: In the current situation, elections will not be a solution to the problems, Former PM Shahid Khaqan Abbasi
موجودہ حالات میں انتخابات مسائل کا حل ثابت نہ ہوسکیں گے,سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

کلرسیداں(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم,اکرام الحق قریشی,16،اکتوبر,2023)—سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اقتدار میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں شہبازشریف کی سولہ ماہ کی حکومت میں نوازشریف سے ذیادتی کے ازالہ کے لیئے کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔موجودہ حالات میں انتخابات مسائل کا حل ثابت نہ ہوسکیں گے صرف چھ افراد ہی مل بیٹھ کر مسائل کے حل کے لیئے کوئی مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں تو بہتری کی امید رکھی جاسکتی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ہمارے نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملکی نظام بہتر چل رھا تھا ترقی کا پہیہ درست سمت میں گھوم رھا تھا کہ نوازشریف کو اقتدار سے الگ کرکے انہیں مجرم بنا کر ترقی کی رفتار کو بریکیں لگوائی گئیں اور نوازشریف کے ساتھ ساتھ ملک سے بھی ذیادتی کی گئی۔دوسری جانب شہبازشریف کی سولہ ماہ کی حکومت میں نوازشریف سے ذیادتی کے ازالے کے لیئے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں کی گئی۔نوازشریف کو سزا سنائی گئی تھی وہ پے رول پر علاج کے لیئے باہر گئے تھے بظاہر انہیں واپسی پر خود کو سرینڈر کرنا پڑے گا جس کے بعد عدالت کو کسی بھی فیصلے کا اختیار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں انتخابات سے کچھ حاصل نہ ہو گا آج اگر الیکشن ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔اسٹیبلشمنٹ اگر مدد نہ کرے تو مسلم لیگ ن ملک بھر سے پچاس نشستیں بھی نہیں جیت سکتی اور پی ٹی آئی کی اس کامیابی میں عمران خان کا کوئی کردار نہیں بلکہ اس کی وجہ شہباز شریف کی سولہ ماہ کی حکومت ہے قوم جاننا چاہتی ہے کہ سولہ ماہ کی حکومت میں عوام کے مسائل کو کہاں ایڈریس کیا گیا نوازشریف سے ہونی والی ذیادتی کے ازالے کے لیئے کب کوئی بامقصد کوشش کی گئی؟ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ لندن میں نوازشریف کو تمام تر صورتحال اور تحفظات سے آگاہ کردیا ہے فیصلوں کا اختیار بھی نوازشریف کو ہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے نوائے وقت کے سوال کے جواب میں کہا کہ ملک کو بہتر سمت دینے کے لیئے چھ بڑوں کا ایک ساتھ مل کر ایک ساتھ فیصلے کرنے میں ہے۔اس کے لیئے میاں نوازشریف،عمران خان،آصف علی زرداری،مولانا فضل الرحمان،آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک پیج پر ہونا پڑے گا۔ اس کے سوا ملکی بہتری کی کسی بھی دوسرے ذریعے سے کوئی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے نہ ہی اس سے کوئی امید رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ میاں نوازشریف 21 اکتوبر کو وطن لوٹیں گے تو ان کا جواب تھا کہ بظاہر میاں صاحب وطن واپس آ رہے ہیں اگر وہ کسی وجہ سے نہیں آتے تو پھر مسلم لیگ ن کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ چھ بڑوں کے ایک ساتھ مل بیٹھنے کے بعد بھی حالات کو بہتر بنانے میں برسوں لگ سکتے ہیں مگر مسائل کے حل کا یہی واحد راستہ ہے۔ نوازشریف کو تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے ان کا استفسار تھا کہ ان مسائل کا حل کیا ہے چھ آدمی جس دن مل بیٹھ گئے اس دن حالات بہتر ہونا شرو ع ہو جائیں گے ان کے بغیر مسائل سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔




