DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com
Kallar Syedan: “Lawlessness prevails in Kallar Syedan as students from different colleges engage in fierce clashes”
کلرسیداں میں لاقانونیت کا راج،مختلف کالجز کے طلبہ میں شدید لڑائی،

کلرسیداں(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم، اکرام الحق قریشی,10،مارچ,2023)—کلرسیداں میں لاقانونیت کا راج،مختلف کالجز کے طلبہ میں شدید لڑائی،زخمی ہسپتال منتقل کیئے گئے تو سینکڑوں افراد ڈنڈوں اور اسلحہ سے مسلح ہوکر ٹی ایچ کیو ہسپتال کلرسیداں پر چل دوڑے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔حملہ آوروں کے فائرنگ سے ہسپتال میں افراتفری مچ گئی ڈاکٹرز عملہ اور مریض بھاگ نکلے،طلبہ اور پولیس اہلکاروں سمیت بارہ افراد زخمی۔تفصیلات ت کے مطابق کلرسیداں کی مختلف کالجز کے طلبہ کے درمیان کئی ایام سے کشیدگی چل رہی تھی جو جمعرات کو اس وقت بڑے دنگل میں بدل گئی جب طلبہ نے گوجرخان روڈ پر ایک دوسرے پر حملہ کردیا جس سے متعدد طلبہ زخمی ہوگئے۔ریسکیو 1122 کلرسیداں نے زخمی طلبہ ارتضیٰ سکنہ کمبیلی، عدنان حسن سکنہ غوثیہ محلہ، حامد علی سکنہ درکالی معموری،مبین حمید سکنہ تل خالصہ،اسماعیل سکنہ درکالی معموری کو ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا۔جس کے بعد سینکڑوں افراد نے ہسپتال پر ہلہ بول کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لاتوں مکوں پتھروں کے ساتھ ساتھ اندھا دھند فائرنگ بھی کی گئی جس سے ہسپتال میں افراتفری مچ گئی۔ڈاکٹرز عملہ اور مریض بھاگ نکلے حملہ اوروں نے ہسپتال کی ایمرجنسی میں گھس کر اسے شدید نقصان پہنچایا۔ اس دوران کلرسیداں پولیس اسٹیشن کے محرر شاہد سمیت تین اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ ایک طالب علم کو راولپنڈی منتقل کردیا گیا۔ پولیس نے دس افراد کو تحویل میں لے لیاجبکہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کارسرکار میں مداخلت اور ہسپتال میں دہشت گردی پھیلانے پر اپنی درخواست پولیس کو جمع کروا دی گئی ہے۔ادہر حملہ آور وں نے نقصان پہنچانے کے علاوہ سینئر ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عابدہ پروین کی رہائش گاہ کو بھی نقصان پہنچایا۔لوگوں نے ایمرجنسی وارڈز کے شیشے توڑنے کے علاؤہ دیگر قیمتی آلات کو بھی نقصان پہنچایا۔دریں اثنا تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پولیس کو تحریر ی بیان میں بتایا گیا کہ حملہ آوروں کی تعداد سینکٹروں میں تھی جنہوں نے آتے ہی اندھا دھند فائرنگ اور سٹاف پر حملہ کر دیا۔اس دوران ہمارے سٹاف نے کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا کر جانیں بچائیں۔وقوعہ کے وقت ڈاکٹر رقیہ بی بی،ڈاکٹر سلیم شہزاد گوندل، ڈاکٹر محمد طاہر،ڈاکٹر زیغم ظفر، ڈاکٹر ذیشان احمد، میڈیکل آفیسر ارم امبرین، ارسلان شبیر،محمد سلطان الآرفین،محمد منیب بھی موجود تھے۔حملہ آوروں نے نہ صرف قانون کو توڑا بلکہ سرکاری املاک اور کو بھی نقصان پہنچایا۔تمام حملہ آور ڈنڈوں،اینٹوں،پھتروں اور اسلحے سے مسلح تھے جنہوں نے ایمرجنسی میں لاکھوں روپے مالیت کے آلات کو بھی تباہ کیا۔متعدد بار پولیس کو صورتحال سے مطلع کیا گیا مگر پولیس واقعے کے ایک گھنٹہ کی تاخیر سے پہنچی۔




