DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com
Kahuta; Sale of adulterated milk and curd in Kahuta city and suburbs
کہوٹہ شہر اور گردنواح میں ملاوٹ شدہ دودھ دہی کی فروخت

مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،19دسمبر2022)
کہوٹہ شہر اور گردنواح میں ملاوٹ شدہ دودھ دہی کی فروخت دھڑلے سے جاری محکمہ صحت کے افسران کی ملی بھگت سے روزانہ چار سے پانچ بڑے دودھ دہی والی دوکانوں پر دے جاتے ہیں 60سے70روپے کلو یہ زہر ملا دودھ لیکر سادھ لوح عوام کلو 180سے200روپے کلو فروخت کرتے ہیں ہر دوکان پر اس ملاوٹ شدہ دودھ کو فریز کر کے اسکا دہی بھی بنایا جاتا اور دودھ بھی فروخت ہو رہا ہے پورے شہر اور علاقے میں ہر دوسری تیسری دوکان دودھ دہی کی کھلی ہے پنجاب فوڈ اتھارٹی کبھی کبھار چکر لگاتی ہے جبکہ محکمہ صحت اور انتظامیہ کے افسران کو کوئی پرواہ نہ کئی سالوں سے کہوٹہ کے عوام کو مضر صحت ملاوٹ شدہ دودھ دہی سپلائی کیا جا رہا ہے مگر منتھلی لیکر محکمہ صھت اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے شہریوں عوام علاقہ نے کمشنر راولپنڈی اے سی کہوٹہ، ای ڈی او ہیلتھ سے مطالبہ کیا کہ خداراہ ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے اور انکی دوکانیں سیل کی جائیں دودھ کا سرکاری ریٹ طے کر کے اُس پر فروخت کرنے کا پابند کیا جائے سینکڑوں لوگ اس زہریلے ملاوٹ شدہ دودھ دہی کے استعمال سے پیٹ اور گل کی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
Mator (Pothwar.com Kabir Ahmad Janjua, 19 December 2022)
The sale of adulterated milk and curd in Kahuta city and surroundings is going on with the collaboration of the health department officers. Administration officials do not care about the supply of adulterated milk and curd to the people of Kahuta for many years, but the health department and the administration have remained silent spectators. Action should be taken against such people and their shops should be sealed. The government rate of milk should be fixed and it should be made compulsory to sell it.
گاؤں کلیال کو راستہ صر ف اللہ کی رضاء کی خاطر دیا ہے
Public way land donated in Village Kalial has been given way only for the pleasure of Allah




