DailyNewsHeadlinePothwar.com
Chakswari, AJK: A protest rally was also held in Chakswari on the call of the president of Mirpur bar, association of traders and representatives of civil society.
میرپور بار کے صدر،انجمن تاجراں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی کال پر چکسواری میں بھی احتجاجی ریلی

چکسواری: (پوٹھوار ڈاٹ کام،نمائندہ خصوصی اللہ دتہ بسمل,05,اگست,2023) —میرپور بار کے صدر،انجمن تاجراں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی کال پر چکسواری میں بھی احتجاجی ریلی۔تمام تاجروں نے شٹر ڈاؤن کر دئیے۔ حمید آباد کالونی،چکسواری بازار کی تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی نے مکمل ہڑتال کی۔ریلی کا آغازپرانا کنواں سے ہوا۔ریلی بازار سے ہوتی ہوئی زاہدی چوک پر باقاعدہ جلسہ کی شکل اختیارکر گئی۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے محمد عارف چودھری سابق امیدوار اسمبلی نے کہا کہ میرپور بار کے صدر نے ابتدا کی اور ایک اجلاس بلا کر احتجاجی تحریک کا اعلان کیا۔یہ احتجاج عوام اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے کررہے ہیں۔ہمارا خطہء قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن ہمارے حکمران نااہل ہیں۔آزاد کشمیر میں تین ہزارمیگا واٹ سے زائد بجلی پیدا ہوتی ہے۔لیکن ہمارے حکمران سستی بجلی خرید کر ہمیں مہنگی بجلی بیچ رہے ہیں۔پہلے مرحلے میں احتجاج کیا جا رہا ہے دوسرے مرحلے میں ہم دھرنا دیں گے اور اگر پھر بھی ہمیں ریلیف نہ دیا گیا تو ہم سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میری کسی بھی ایم ایل اے سے ذاتی دشمنی کبھی نہیں رہی۔ میرا اختلاف اس بات سے ہے کہ یہ منتخب ہونے کے بعد یہ عوام کے حقوق کی محافظت نہیں کرتے۔ اس ریلی کو بھی روکنے کی کوششیں کی گئیں۔لیکن اب عوام اپنے حقوق کیلئے نکل کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے حقوق لے کر ہی رہیں گے۔آپ کا یہ احتجاج رنگ لائے گا، میں تمام تاجر تنظیموں،صحافتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس احتجاج میں شریک ہو کر اپنے حقوق کی جدو جہد میں حصہ لیا۔ میرپور بار کے سابق سینئر نائب صدر خواجہ احتشام الحق ایڈووکیٹ نے کہا کہ باتیں کی جا رہی ہیں کہ احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر احتجاجی ریلیوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا تو صدر آزاد کشمیر اور اس کا بیٹا میرپور میں دو دن سے موجود ہے اور گھر گھر جا کر احتجاج کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔آج ان کو پتہ لگ چکا ہے کہ تیس سال سے ہم میرپور کے لوگوں کی بدولت مراعات لے رہے ہیں وہ اب جاتی رہیں گی۔ ان کو اپنا اقتدار خطرہ میں نظر آ رہا ہے۔ میرپور ڈویژن کے چار وزیر ہیں لیکن ہمیں بجلی کے بلوں میں کوئی ریلیف نہیں دیا جا رہا۔آٹے کا کوٹہ کم کر دیا ہے۔رٹھوعہ ہریام پل نا مکمل ہے۔ان کے پاس عوام کو ریلیف دینے کیلئے فنڈز نہیں ہیں لیکن اپنی عیاشیوں کیلئے ان کے پاس وسائل موجود ہیں۔لیکن اب عوام جاگ چکے ہیں۔اسی لئے عوام کو احتجاج سے روکا جا رہا ہے۔ہمار ا مطالبہ ہے کہ میرپور کو فری بجلی دی جائے۔احتجاجی ریلی سے چودھری محمد فاروق ممبرضلع کونسل میرپور،کونسلر محمد رضوان لون،حاجی اورنگ زیب چودھری سیکرٹری جنرل انجمن تاجراں چکسواری، اللہ دتہ بسمل چودھری صدر چکسواری پریس کلب،راجہ زوہیب تاجر رہنما اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے آزاد کشمیر حکومت کے ظلم و ستم اور عوام کو آٹے پر ریلیف نہ دینے کے خلاف شدید الفاظ میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مقررین نے کہا کہ آزاد کشمیر کے دیگر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وزراء اپنے خرچے پورے کریں۔صرف محکمہ برقیات سے اپنے اخراجات نہ پورے کئے جائیں۔منگلا ڈیم کی رائلٹی اور معدنیات کو نکالا جائے اور چالیس لاکھ کی آبادی کو ریلیف دیا جائے۔احتجاجی ریلی میں حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر سے بجلی کو سستا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔بجلی کے بلوں میں اضافہ کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔چکسواری بازار میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا۔ سول سوسائٹی اور تمام تنظیموں نے ر وپر احتجاج ریکارڈ کروایا۔




