23 October 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com
London; Mother and Five Children’s Suspected Murder Case Declared Cold Case in UK
لندن; ماں اور پانچ بچوں کی ہلاکت کا معمہ حل نہ ہو سکا، پولیس نے کیس کولڈ کیس قرار دے دیا
لندن (پوٹھوار ڈاٹ کام — محمد نصیر راجہ، 23 اکتوبر 2026) برطانیہ میں ایک گھر میں آتشزدگی کے نتیجے میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر صباح عثمانی اور ان کے پانچ بچوں کی ہلاکت کا مشتبہ قتل کا مقدمہ طویل عرصے تک حل نہ ہونے کے بعد کولڈ کیس قرار دے دیا گیا ہے۔ واقعہ اکتوبر 2012 میں ایسیکس کے علاقے ہارلو میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر صباح عثمانی اور ان کے پانچ بچے، 12 سالہ حرا، 11 سالہ صہیب، نو سالہ منیب، چھ سالہ ریان اور تین سالہ ماہین، اپنے گھر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ واقعے کے وقت بچوں کے والد ڈاکٹر عبدالشكور، جن کی عمر 59 سال بتائی گئی ہے، گھر میں موجود تھے اور اس سانحے میں واحد زندہ بچ جانے والے فرد تھے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مقدمے میں اب فی الحال تفتیش کے لیے کوئی مؤثر پہلو باقی نہیں رہا، تاہم پولیس کو موصول ہونے والی کسی بھی نئی اطلاع یا شواہد کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ کیس کو کولڈ کیس قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ مقدمہ بند کردیا گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال اس پر روزانہ کی بنیاد پر فعال تفتیش جاری نہیں رہے گی۔
برطانوی پولیس کے طریقۂ کار کے مطابق کسی قتل کے مقدمے کو اس وقت کولڈ کیس قرار دیا جاتا ہے جب تفتیش کار سمجھتے ہیں کہ دستیاب شواہد اور ممکنہ پہلوؤں کی مکمل چھان بین کے باوجود جرم کا معمہ حل نہیں ہوسکا۔ ایسے مقدمات میں نئی معلومات سامنے آنے پر دوبارہ تحقیقات کا امکان برقرار رہتا ہے۔
بچوں کے والد ڈاکٹر عبدالشكور نے اس پیش رفت پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ وہ مقدمہ حل ہونے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوجائیں گے۔ ان کے مطابق ایسیکس پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ اگر کوئی نئی معلومات سامنے نہ آئیں تو کیس کا اگلا جائزہ دس سال بعد لیا جائے گا۔
ڈاکٹر عبدالشكور نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ مزید دس سال زندہ رہیں گے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے یہ خبر ان کے لیے انتہائی مایوس کن ہے، تاہم وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پولیس نے اس معاملے میں بہت محنت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ ایسیکس پولیس اس مقدمے کو اہمیت دیتی ہے اور چھ بے گناہ جانوں کے ضیاع کا معمہ حل کرنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول، ایک ہی رات میں ان سے سب کچھ چھن گیا اور اس سانحے نے ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
ڈاکٹر عبدالشكور کے لیے یہ واقعہ صرف ایک حل طلب فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کو کھونے کا ایسا صدمہ ہے جس کے ساتھ وہ گزشتہ کئی برسوں سے زندگی گزار رہے ہیں۔ مقدمے کا غیر حل شدہ رہنا ان کے لیے مسلسل اذیت کا باعث ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے مزید دس سال بعد جائزے کی بات نے ان کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔
ایسیکس پولیس کے مطابق کیس میں کسی بھی نئی اطلاع یا شواہد کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور ایسی معلومات سامنے آنے کی صورت میں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم، فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر تفتیش کو فعال طور پر آگے بڑھانے کے قابل کوئی مؤثر راستہ موجود نہیں ہے۔
یہ واقعہ برطانیہ میں پیش آنے والے ان افسوس ناک واقعات میں شامل ہے جن میں طویل عرصے تک تحقیقات کے باوجود متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور مکمل حقائق کے سامنے آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالشكور اور ان کے خاندان کے لیے اب بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اکتوبر 2012 کی اس ہولناک آتشزدگی کے پیچھے اصل حقیقت کیا تھی اور کیا کبھی اس معمہ کو مکمل طور پر حل کیا جاسکے گا۔




