19 September 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

Manchester; Former GMP Officer PC Tubah Hamid Jailed

مانچسٹر; پولیس کانسٹیبل طوبہ حمید کو پولیس کی خفیہ معلومات فراہم کرنے کے جرم میں تین سال قید کی سزا

لندن، 19 ستمبر 2026 (پوٹھوار ڈاٹ کوم — محمد نصیر راجہ)
گریٹر مانچسٹر پولیس (GMP) کی سابق پولیس کانسٹیبل طوبہ حمید کو ایک منظم جرائم گروہ کے رکن کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور پولیس کی خفیہ معلومات غیر قانونی طور پر فراہم کرنے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

یہ کارروائی انڈیپنڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ (IOPC) کی ہدایت پر ہونے والی تحقیقات کے بعد سامنے آئی، جو گریٹر مانچسٹر پولیس کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کی۔ سابق پولیس کانسٹیبل طوبہ حمید کو 9 جولائی کو لیورپول کراؤن کورٹ میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

طوبہ حمید، جن کی عمر 25 سال ہے، جون 2025 میں پہلی مرتبہ لیورپول مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہوئی تھیں۔ ان پر عوامی عہدے میں بدعنوانی (Misconduct in Public Office) کے تین الزامات، جیل کے اندر سے تصویر یا آواز الیکٹرانک مواصلاتی ذرائع کے ذریعے منتقل کرنے کا ایک الزام، جبکہ کمپیوٹر کے غلط استعمال کے چار الزامات عائد کیے گئے تھے۔

کمپیوٹر کے غلط استعمال سے متعلق الزامات میں پولیس کے جائز مقصد کے بغیر کمپیوٹر سسٹمز سے معلومات تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا اور ایک منظم جرائم گروہ کو معلومات فراہم کرنا شامل تھا۔

سابق پولیس افسرہ کو تین سال قید کی سزا

16 ستمبر کو عدالت نے طوبہ حمید کو عوامی عہدے میں بدعنوانی کے الزامات پر تین سال قید کی سزا سنائی۔ کمپیوٹر کے غلط استعمال کے جرم میں مزید چار ماہ جبکہ جیل سے غیر قانونی مواصلاتی رابطے کے الزام میں بھی چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالتی حکم کے مطابق چار، چار ماہ کی دونوں سزائیں تین سال کی بنیادی سزا کے ساتھ بیک وقت چلیں گی، اس لیے مجموعی طور پر انہیں تین سال قید کی سزا کاٹنا ہوگی۔

خفیہ انٹیلی جنس معلومات غیر قانونی طور پر شیئر کی گئیں

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کے مطابق دسمبر 2021 سے جون 2022 کے دوران طوبہ حمید نے ایسی خفیہ انٹیلی جنس معلومات شیئر کیں جنہیں فراہم کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔

تحقیقات میں پولیس کمپیوٹر سسٹمز تک ایسی رسائی بھی سامنے آئی جس کا کوئی جائز پولیس مقصد نہیں تھا۔ ان معلومات کو ایک منظم جرائم گروہ سے وابستہ فرد تک پہنچایا گیا۔

تحقیقاتی کارروائی کے نتیجے میں سابق افسرہ کے خلاف فوجداری مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں مختلف الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے قید کی سزا سنائی۔

یہ معاملہ پولیس افسران کی جانب سے خفیہ معلومات تک رسائی، ان کے استعمال اور حساس پولیس انٹیلی جنس کو غیر مجاز افراد تک پہنچانے کے حوالے سے احتساب کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

London, September 19, 2026 (Pothwar.com — Mohammad Naseer Raja): A former Greater Manchester Police (GMP) officer who formed a relationship with a member of an organised crime group and shared confidential policing information has been jailed.

Following an Independent Office for Police Conduct (IOPC) directed investigation, conducted by the GMP’s Anti-Corruption Unit, former PC Tubah Hamid was found guilty on Thursday 9 July at Liverpool Crown Court.

PC Hamid, 25, made her first appearance at Liverpool Magistrates’ Court in June 2025 to face three charges of misconduct in public office, causing the transmission of an image, or sound from within a prison via electronic communications and four counts of computer misuse, relating to unlawfully accessing information on computer systems without a policing purpose and providing information to an organised crime group.

Today (16 September), she was sentenced to three years imprisonment for the misconduct in public office charges, four months for computer misuse and four months for the illegal prison communications (both concurrent to the three years).

Evidence uncovered during the investigation showed that between December 2021 and June 2022, Hamid shared confidential intelligence information without lawful justification for doing so.

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button