14 September 2026DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com

Kallar Syedan: No Need to Change the System; Says Qamar Islam Raja

کلر سیداں; نظام بدلنے کی ضرورت نہیں، اصلاحات سے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے: قمراسلام راجہ

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی |14 ستمبر 2026)—مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی انجینئر قمراسلام راجہ نے کہا ہے کہ نظام بدلنے کی ضرورت نہیں اسی میں خرابیوں کو دور کرکے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے مزید صوبوں کے قیام میں کوئی برائی نہیں پیپلز پارٹی دل بڑا کرے،ازادکشمیر میں احتجاج اور اضطراب کی وجہ وہاں کی حکومتوں میں بدترین کرپشن اور ارکان اسمبلی کی شاہانہ زندگیاں ہیں جس سے ازادکشمیر کے لوگ مایوس ہوئے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مسائل صرف وہی لوگ حل کرسکتے ہیں جو راولاکوٹ میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں،رواں برس کے آخر میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہو گا کارکن اس کے لیئے تیاری مکمل کر لیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز صحافی اکرام الحق قریشی کے ماموں قاضی ضمیر اختر کی وفات پر اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق سٹی ناظم شیخ حسن ریاض،نائب ناظم راجہ ظفر محمود،مسلم لیگ ن کلرسیداں کے سٹی صدر حاجی اخلاق حسین،جنرل سیکرٹری چوھدری زین العابدین عباس،مسعود احمد بھٹی،احسان الحق قریشی،شاھد جمیل عباسی بھی موجود تھے انجینئر قمراسلام راجہ نے کہا کہ نیتیں درست ہوں تو موجودہ نظام میں ہی خرابیاں دور کرکے اس عوام دوست بنایا جا سکتا ہے سیاست دانوں کا کام خرابیوں کو دور کرنا ہے انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے اسے لسانی تعصبات کی کسوٹی پر پرکھنا نہیں چاہیئے سندھ کا زیادہ بجٹ کراچی لگتا ہے نہ ہی اس سے خیرپور کو کوئی فائدہ ہوتا ہے یونٹ چھوٹے ہوں گے تو دوردروز کے علاقے بھی ترقی حاصل کر سکیں گے نئے یونٹوں کے قیام سے سندھی زبان اور ثقافت اپنی حیثیت برقرار رکھے گی اس لیئے سندھ کی عوام جو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی بجائے سندھ کے لوگوں کو نئے یونٹس کے ثمرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ازادکشمیر میں آج بے چینی اور اضطراب وہاں کی حکومتوں اور ارکان اسمبلی کی وجہ سے ہے ازادکشمیر میں خرابیاں ملک کے دیگر علاقوں سے کہیں زیادہ ہیں افسر شاہی نے آزاد ریاست کے اندر ایک الگ اپنی ریاست قائم کر رکھی ہے وہاں کے ارکان اسمبلی کا رہن سہن لاکھوں کشمیریوں سے مختلف ہے اب وہاں کے لوگ ان کے اعتبار نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ آج تک انہیں بجلی آٹا سمیت جتنے بھی ریلیف ملے وہ احتجاج کرنے والوں کی بدولت ہی ملے انہیں وہ مراعات اراکان اسمبلی نے بااکل بھی نہ دی ہیں وہ راولاکوٹ میں دھرنا دیئے بیٹھے لوگوں کو ہی اپنا نجات دھندہ سمجھتے ہیں اب راولاکوٹ کے دھرنے سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھایا اسی دھرنے کو برطانیہ اور امریکہ میں مقیم کشمیری پیسہ دے رہے ہیں وہاں خوراک سمیت کسی چیز کی کمی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے رواں برس کے آخر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے کارکن اس کی تیاریاں شروع کردیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گزشتہ صدی سے رائج سیاست آج کے دور میں بااکل ناکام ہو چکی ہے اب سیاست کے نئے طور طریقے ہیں سبھی کو انہی خطوط پر خود کو تیار کرنا کو گا اب کامیابی گھوڑے کی گھاس سے دوستی میں مضمر ہے،تیل کے نرخوں میں بھاری اضافے سے ملک میں پٹرول ڈیزل کے نرخوں میں اضافے سے اشیائے روزمرہ کے نرخوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو گیا موجودہ حالات میں حکومت کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے یہ کانٹوں کا کھیل ہے۔

Kallar Syedan (Pothwar.com — Ikram-ul-Haq Qureshi | September 14, 2026): Pakistan Muslim League-Nawaz (PML-N) Member of the National Assembly Engineer Qamar Islam Raja has said that there is no need to replace the existing system, as its shortcomings can be addressed through reforms to provide relief to the public.

Speaking to the media on Sunday after offering condolences over the death of Qazi Zameer Akhtar, maternal uncle of journalist Ikram-ul-Haq Qureshi, he said that there was nothing wrong with creating additional provinces or administrative units, and urged the Pakistan Peoples Party (PPP) to adopt a broader approach on the issue.

Qamar Islam Raja said that if intentions were sincere, the existing system could be improved and made more people-friendly. “The responsibility of politicians is to remove shortcomings from the system,” he said.

Regarding the creation of new provinces, he said the issue should not be viewed through the lens of ethnic or linguistic prejudice. He argued that smaller administrative units could help ensure development in remote and neglected areas. He said Sindh’s language and cultural identity would remain intact even if new administrative units were created.

He further observed that a large portion of Sindh’s development budget was spent in Karachi, while areas such as Khairpur did not receive comparable benefits. He said people should be made aware of the potential advantages of smaller administrative units instead of being misled by political rhetoric.

Commenting on the situation in Azad Jammu and Kashmir, Raja attributed the current unrest and public frustration to what he described as widespread corruption in successive governments and the lavish lifestyles of members of the legislative assembly.

He claimed that the bureaucracy had effectively established a “state within a state” in Azad Kashmir, while the lifestyles of lawmakers were vastly different from those of millions of ordinary Kashmiris. According to him, public trust in elected representatives had declined, with many people believing that relief in electricity and flour prices had been secured primarily as a result of protests.

He said the protesters gathered in Rawalakot were consequently being viewed by sections of the public as their “saviours.” He alleged that the situation had also benefited India and claimed that Kashmiris living in the United Kingdom and United States were financially supporting the Rawalakot sit-in. He said there was no shortage of food or other necessities at the protest site.

Speaking about local government elections in Punjab, Qamar Islam Raja said the provincial government had decided to hold local government elections toward the end of the current year and called upon PML-N workers to begin preparations.

Responding to another question, he said the style of politics that had prevailed since the previous century was no longer effective in the modern era. He said politicians needed to adapt themselves to new methods and changing political realities.

He also noted that substantial increases in oil prices had pushed up petrol and diesel prices, which had adversely affected the prices of everyday commodities. He added that a further increase in electricity tariffs had become unavoidable, saying that governing under the prevailing circumstances was not an easy task and remained a “game of thorns.”

Former city mayor Sheikh Hassan Riaz, former deputy mayor Raja Zafar Mahmood, PML-N Kallar Syedan City President Haji Ikhlaq Hussain, General Secretary Chaudhry Zain-ul-Abideen Abbas, Masood Ahmed Bhatti, Ehsan-ul-Haq Qureshi and Shahid Jamil Abbasi were also present on the occasion.

پی پی 7 میں وراثتی سیاست ختم، قابلیت اور خدمت کو موقع ملنا چاہیے: جلیل الرحمان مرزا

Hereditary Politics in PP-7 Must End; Merit, Character and Public Service Should Prevail: Jaleel ur Rehman Mirza

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی |14 ستمبر 2026)—دودھلی کے کنیڈا میں مقیم معروف سماجی کارکن جلیل الرحمان مرزا نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے تحصیل کلر سیداں اور بالخصوص موضع دودہلی کے لوگ غیور ہیں یہ کسی کے غلام نہیں۔ ہم سیاست میں خاندانی وراثت اور اجارہ داری کے نظام کو بااکل بھی تسلیم نہیں کرتے۔پی پی 7 میں بہت سے قابل، اہل،باصلاحیت اور خدمت کے جذبے سے سرشار لوگ موجود ہیں، اُنہیں بھی آگے آنے اور عوام کی خدمت کا موقع ملنا چاہیے،انہوں نے کہا کہ سیاست کسی ایک خاندان کی میراث نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔
جو بھی شخص اس وراثتی سیاسی نظام کے خلاف آواز بلند کرے گا اور عوام کے حقِ انتخاب، میرٹ اور انصاف کے لیے کھڑا ہوگا، اِن شاء اللہ ہم صرف اُس کا ساتھ ہی نہیں دیں گے بلکہ ہر قدم پر اُس کی انتخابی مہم میں بھرپور تعاون بھی کریں گے۔پی پی 7 کے باشعور لوگوں کو اب اپنے ضمیر کو بیدار کرنا پڑے گا اور اپنے حقوق سے آگاہی اور وراثتی سیاست کے خلاف پُرامن، جمہوری اور اصولی جدوجہد کے لیے متحد ہو نا پڑے گا اب فیصلہ خاندانوں کی وراثت پر نہیں،بلکہ قابلیت، کردار، خدمت اور ,عوامی اعتماد کی بنیادوں پر ہو گا,اِن شاء اللہ عوامی شعور ہی حقیقی تبدیلی کی بنیاد بنے

Haji Maroof Akhtar, Brother of Spiritual Figure Khalifa Mahmood Akhtar Naqshbandi, Passes Away

حاجی معروف اختر، بھائی خلیفہ محمود اختر نقشبندی، انتقال کر گئے

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی |14 ستمبر 2026)—معروف روحانی شخصیت خلیفہ محمود اختر نقشبندی کے بھائی حاجی معروف اختر انتقال کر گئے نماز جنازہ بروز پیر دن ایک بجے گاؤں منیاندہ میں ادا کی جائے گی

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button