16 August 2026DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com
Kallar Syedan: CPO Hassan Mushtaq Sukhera Holds Open Courts at Police Station
سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی تھانہ کلرسیداں میں کھلی کچہری

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی |16اگست 2026)—سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی تھانہ کلرسیداں اور تھانہ کہوٹہ میں کھلی کچہری
ایس پی صدر، ایس ڈی پی او کہوٹہ، ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران بھی موجود تھے،کہوٹہ میں ناقص تفتیش اور درخواست پر ای ٹیگ نہ لگانے پر 4 تفتیشی افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا اور شہریوں کی قبضہ کی درخواستوں پر فوری قانونی کاروائی کرنے کا حکم جاری کیا انہوں نے کہوٹہ میں چوری کی درخواست پر فوری مقدمہ درج کرنے کے حکم دیتے ہوئے اشتہاریوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا
سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے اس سے قبل پولیس اسٹیشن کلرسیداں میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال یقینی بنائی جائے گی تھانوں میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کے ذریعے پولیس کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے، پولیس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے تاہم جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور انہیں فوری انصاف کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پولیس افسران اور اہلکا کھلی کچہری میں شہریوں نے مختلف مسائل اور پولیس سے متعلق اپنی شکایات سی پی او راولپنڈی کے سامنے پیش کیں، جن پر انہوں نے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں۔ سی پی او نے واضح کیا کہ شہریوں کو تھانوں میں غیر ضروری طور پر خوار کرنا یا ان کی درخواستوں پر بروقت کارروائی نہ کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا بنیادی مقصد پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنا اور شہریوں کو براہ راست اعلیٰ پولیس افسران تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ اس عمل کے ذریعے نہ صرف عوامی شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے بلکہ تھانوں کی سطح پر پولیس افسران کی کارکردگی، مقدمات کی تفتیش، درخواستوں پر کارروائی اور شہریوں سے روا رکھے جانے والے رویے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کا اصل مقصد شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تھانوں میں آنے والے ہر سائل کے ساتھ قانون اور میرٹ کے مطابق برتاؤ کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی شہری کی شکایت کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، بالخصوص ایسے معاملات جن میں شہری کی جان و مال، عزت یا قانونی حقوق کا معاملہ ہو اس موقع پر لونی جسیال کی ایک خاتون نے شکایت کی کہ اس کے گھر سے ملزمان ایک کروڑ روپے مالیت کی نقدی، طلائی زیورات اور دیگر قیمتی سامان چوری کرکے لے گئے کلرسیداں پولیس نے مقدمہ درج کیا مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود مال مسروقہ برآمد نہ ہو سکا انہوں نے تفتیش کسی دوسرے افسر سے کروانے کا مطالبہ کیا اس موقع پر ایس ایچ او انسپکٹر چوہدری ندیم عباس بھی موجود تھے

Kallar Syedan (Pothwar.com — Ikram-ul-Haq Qureshi, August 16, 2026): Rawalpindi CPO Hassan Mushtaq Sukhera held open courts at Kallar Syedan and Kahuta police stations, where citizens presented a range of complaints concerning police investigations, registration of cases and delays in resolving their applications.
SP Sadar, SDPO Kahuta, SHOs and investigating officers were present during the sessions.
At Kahuta, the CPO ordered show-cause notices against four investigating officers over alleged shortcomings in investigations and failure to place e-tags on applications. He also directed officers to take immediate legal action on citizens’ complaints concerning alleged illegal occupation of property.
The CPO further ordered the immediate registration of a case regarding a theft complaint and directed police officers to ensure the prompt arrest of proclaimed offenders.
Addressing the open court at Kallar Syedan Police Station, CPO Sukhera said that maintaining law and order, protecting the lives and property of citizens and ensuring timely justice were among the police department’s priorities.
He said open courts were being held regularly to monitor police performance and provide citizens with direct access to senior police officers. Complaints presented by citizens were reviewed, and relevant officers were issued instructions on the spot.
The CPO emphasized that unnecessary delays in dealing with citizens at police stations or failing to act promptly on their applications would not be tolerated. He said every complainant must be treated according to law and on merit, particularly in matters involving life, property, dignity and legal rights.
During the Kallar Syedan session, a woman from Loni Jassial complained that suspects had allegedly stolen cash, gold jewellery and other valuables worth around Rs100 million from her home. She said Kallar Syedan Police had registered a case, but several months had passed without recovery of the stolen property. She requested that the investigation be transferred to another officer.
SHO Inspector Chaudhry Nadeem Abbas was also present on the occasion.
CPO Sukhera said the purpose of open courts was not only to resolve public grievances but also to assess police investigations, the handling of applications and the conduct of officers toward citizens.
He stressed that the police must ensure that every citizen visiting a police station receives lawful, fair and timely assistance.
پاکستان سینسر بورڈ کے رکن محمد ظریف راجا کی بچوں کی شاندار تعلیمی کامیابی پر احباب کے اعزاز میں دعوت
Pakistan Censor Board Member Mohammad Zarif Raja Hosts Reception to Celebrate Children’s Outstanding Academic Achievements

کلر سیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی |16اگست 2026)—پاکستان سینسر بورڈ کے رکن محمد ظریف راجا نے اپنے بچوں سمیر اشرف ظریف اور دختر کی شاندار تعلیمی کامیابی پر ڈھوک سنگال چوآخالصہ میں احباب کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا جس میں رکن پنجاب اسمبلی راجہ صغیر احمد،سابق بلدیاتی چیئرمینوں چوہدری صداقت حسین،چوہدری شاہد گجر،شیخ سلیمان شمسی،ریٹائرڈ ایس پی راجہ ظہیر ارشد،حاجی اخلاق حسین،چوہدری زین العابدین عباس،راجہ ظفر محمود،چوہدری بابر ضمیر،شیخ شعور قدوس،شاہد جمیل عباسی، راجہ گلفراز احمد ایڈووکیٹ،راجہ داؤد اکبر،چوہدری توقیر اسلم،چوہدری ایاز گجر ایڈووکیٹ،راجہ عاصم صدیق،شیخ حسن سرائیکی،سردار وسیم احمد،راجہ رفعت اقبال، راجہ شفیق الحق،شیخ توقیر احمد،شیخ ندیم احمد،چوھدری تفضل حسین،راجہ شاہد محمود سنگرال ایڈووکیٹ،بشیر احمد مغل،چوہدری کاشف،چیف مہربان خان،صوبیدار مہربان، راجہ ماسٹر ساجد محمود،تنویر اختر شیرازی و دیگر نے شرکت کی نوجواں طالب علم سمیر اشرف نے اے لیول کا امتحان اے گریڈ میں پاس کیا سمیر اشرف ظریف کو برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی میں الیکٹرک انجینئرنگ اور ان کی ہمشیرہ کو قانون میں داخلہ ملا ہے سمیر اشرف ظہیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں داخلہ ہم لوگوں کی سالہا سال کی محنت کا نتیجہ ہے تعلیم کا مقصد صرف اچھی نوکری کا حصول نہیں بلکہ درست اور غلط میں امتیاز کو نمایاں رکھنا ہے تعلیم ہی معاشروں کی درست سمت جا تعین کرنے ریٹائرڈ ایس پی اشفاق مغل,راجہ ظہیر لنگڑیال،راجہ پرویز اختر قادری، چوہدری مختیار، محمد شبیر خان، چوہدری آصف نورانی، ماسٹر محمد اشفاق ایڈووکیٹ، عامر محمود بھٹی ایڈووکیٹ، انجینئر راجہ بلال احمد، ٹھیکیدار ظہیر بھٹی، ڈاکٹر مسعود، راجہ راجہ ذوالفقار ساجد،راجہ منظور حسین کیانی، راجا محمد خطاب، راجہ محمد ارشاد، شہزاد مالک مغل، نقاش ظفر مغل، راجہ ضیارب حسین، ثاقب حمید نقشبندی، حاجی غلام فرید، خالد بزمی،میں میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔



