02 August 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

London; Sidra Saghir Accused of Helping Brothers Steal £100,000 Worth of Smartphones from Wembley Store

لندن: سدرا صغیر پر ویمبلی اسٹور سے ایک لاکھ پاؤنڈ مالیت کے اسمارٹ فونز کی چوری میں بھائیوں کی معاونت کا الزام

لندن، 2 اگست 2026 (پوٹھوارڈاٹ کام – محمد نصیر راجہ): برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ویمبلی سینٹرل شاپنگ سینٹر میں واقع EE موبائل فون اسٹور میں ایک لاکھ پاؤنڈ مالیت کے 100 سے زائد اسمارٹ فونز کی مبینہ چوری کے مقدمے میں اسٹور کی 22 سالہ ملازمہ سدرا صغیر پر اپنے دو بھائیوں کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ نے مبینہ طور پر واردات کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں اپنے بھائیوں کی مدد کی۔

تحقیقاتی اداروں کے مطابق سدرا صغیر (22) پر الزام ہے کہ اس نے اپنے بھائیوں محمد وقاص صغیر (28) اور محمد سبحان صغیر (20) کو واردات سے قبل معلومات فراہم کرنے اور کارروائی کے دوران سہولت کاری کرکے اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ویمبلی سینٹرل شاپنگ سینٹر میں قائم EE اسٹور کو نشانہ بنایا، جہاں سے 100 سے زائد اسمارٹ فونز چوری کیے گئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 100,000 پاؤنڈ بتائی گئی ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ واردات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اور اس میں اسٹور سے متعلق اندرونی معلومات کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہی اندرونی معلومات ملزمان کو مہنگے موبائل فونز تک رسائی اور واردات کو انجام دینے میں مددگار ثابت ہوئیں۔

تحقیقات کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر سدرا صغیر کے موبائل فون کا فرانزک جائزہ لیا، جس کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ اس سے ایسے شواہد حاصل ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں سے رابطے میں تھیں اور مبینہ طور پر واردات کی منصوبہ بندی میں شریک رہیں۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہ ڈیجیٹل شواہد مقدمے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی بنیاد پر ملزمان کو واقعے سے جوڑا جا رہا ہے۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ سدرا صغیر نے بطور اسٹور ملازمہ اپنی پوزیشن کا مبینہ فائدہ اٹھاتے ہوئے منصوبہ بند چوری میں سہولت فراہم کی، جبکہ ان کے دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر اسٹور میں داخل ہو کر قیمتی اسمارٹ فونز اپنے قبضے میں لیے اور موقع سے فرار ہو گئے۔

یہ مقدمہ اس وقت میٹروپولیٹن پولیس کی زیر تفتیش ہے۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے ہیں، جبکہ استغاثہ اور عدالتی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ سماعتوں میں سامنے آنے کا امکان ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اگر عدالت میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو برطانوی قانون کے تحت چوری، مجرمانہ سازش (Conspiracy) اور چوری شدہ املاک سے متعلق جرائم کے مقدمات میں سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس نے اس موقع پر کہا کہ کاروباری اداروں میں اندرونی افراد کی مبینہ معاونت سے ہونے والی چوریاں انتہائی سنگین جرائم تصور کی جاتی ہیں کیونکہ ان سے کاروباری اداروں کو بھاری مالی نقصان پہنچتا ہے۔

واضح رہے کہ اس مرحلے پر یہ تمام الزامات تفتیش اور عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں، اور ان کے بارے میں حتمی فیصلہ عدالت کی جانب سے شواہد کی جانچ کے بعد کیا جائے گا۔

London, August 02, 2026 (Pothwar.com – Mohammad Naseer Raja):  A 22-year-old employee of an EE mobile phone store has been accused of assisting her two brothers in the alleged theft of more than 100 smartphones worth approximately £100,000 during a raid on a shop at Wembley Central Shopping Centre.

According to investigators, Sidra Saghir, 22, is alleged to have played a key role in helping her brothers, Muhammed Waqas Saghir, 28, and Muhammed Suban Saghir, 20, carry out the theft by providing assistance before and during the incident.

Police allege that the group targeted the EE store at Wembley Central Shopping Centre, where more than 100 smartphones with an estimated retail value of £100,000 were stolen. Detectives believe the operation was carefully planned and involved insider knowledge of the store.

During the investigation, officers reportedly examined Sidra Saghir’s mobile phone and say they recovered evidence suggesting she had communicated with her brothers and participated in planning the alleged raid. Investigators claim the digital evidence formed an important part of the case and linked the suspects to the incident.

Authorities allege that Sidra Saghir used her position as a store employee to assist the planned theft, while her brothers allegedly carried out the raid and removed the high-value devices from the premises.

The investigation remains under the jurisdiction of the Metropolitan Police, which has gathered witness statements, CCTV footage, and digital evidence as part of its inquiry. Further details regarding the prosecution and court proceedings are expected to emerge as the case progresses.

If convicted, those involved could face serious penalties under UK law for offences relating to theft, conspiracy, and handling stolen property. Police have reiterated that insider involvement in commercial theft is treated as a serious offence due to the significant financial losses suffered by businesses.

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button