29 July 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

Oslo: Pakistan’s Ambassador to Norway Bids Farewell, Highlights Diplomatic Achievements

اوسلو میں پاکستانی سفیر سعدیہ الطاف قاضی کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ، سفارتی کامیابیوں کا جائزہ

اوسلو:، 29 جولائی 2026ء (پوٹھوار ڈاٹ کام – عقیل قادر): سفیرِ پاکستان برائے ناروے و آئس لینڈ، سعدیہ الطاف قاضی کی جانب سے ناروے میں پاکستانی میڈیا سے وابستہ صحافیوں اور سفارت خانۂ پاکستان، اوسلو کے افسران و عملے کے اعزاز میں ایک پرتکلف الوداعی عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعدیہ الطاف قاضی نے اپنی تقریباً ساڑھے تین سالہ سفارتی ذمہ داریوں کے دوران حاصل ہونے والی اہم سفارتی کامیابیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اولین ترجیح پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا، ناروے اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا رہی۔


انہوں نے بتایا کہ ناروے کی قومی سلامتی سے متعلق سالانہ رپورٹ میں کئی برسوں سے پاکستان کا نام سیکیورٹی خدشات سے منسلک ممالک میں شامل کیا جاتا تھا، تاہم سفارت خانے کی مسلسل سفارتی کوششوں اور ناروے کے حکام سے مؤثر رابطوں کے نتیجے میں پاکستان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا، جسے انہوں نے اپنے دور کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے بعد ناروے کی معروف کمپنی ٹیلی نار کے اوپن مائنڈ پروگرام میں پاکستانی نژاد نوجوانوں پر عائد پابندی بھی ختم کر دی گئی۔ اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، اور اب پاکستانی نوجوان بھی اس پروگرام سے یکساں طور پر استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان سے متعلق بعض دیگر پابندیوں اور برآمدی کنٹرول سے متعلق معاملات پر بھی مثبت پیش رفت ہوئی۔


سفیرِ پاکستان نے کہا کہ ان کی سفارتی ذمہ داریوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سرکاری وفود، پارلیمانی نمائندوں اور اعلیٰ حکام کے تبادلوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ ناروے کی پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ پاکستان۔ناروے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ بھی قائم ہوا، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگست میں ناروے کے وزیر خارجہ اسپین بارتھ ایڈے کے پاکستان کے دورے کی توقع ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اقتصادی سفارت کاری کے حوالے سے سعدیہ الطاف قاضی نے کہا کہ ناروے اور آئس لینڈ کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے روشناس کرانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ بالخصوص آئی ٹی، مصنوعی ذہانت (AI)، گرین انرجی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی گئی، جبکہ آئس لینڈ کے ساتھ جیو تھرمل انرجی کے شعبے میں پاکستانی اداروں کے روابط بھی قائم کروائے گئے تاکہ پاکستان اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے ناروے کے تھنک ٹینکس، جامعات، میڈیا اور بین الاقوامی فورمز پر بھرپور سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مختلف فورمز پر اجاگر کیا گیا، جبکہ ناروے کے میڈیا میں بھی پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔


انہوں نے کہا کہ ثقافتی سفارت کاری کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ ان کے دور میں بزمِ اقبال، قوالی، پاکستانی ثقافت پر مبنی تقریبات، قومی دنوں کی پروقار تقریبات اور دیگر ثقافتی پروگرام منعقد کیے گئے، جن کے ذریعے ناروے میں پاکستان کی تہذیب، ثقافت اور مثبت شناخت کو مزید اجاگر کیا گیا۔
کمیونٹی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نادرا کاؤنٹر کے قیام، نائیکوپ اور پی او سی سے متعلق مسائل کے حل، دوہری شہریت کے معاملات میں پیش رفت اور ہنگامی حالات میں پاکستانی شہریوں کی بروقت مدد کے لیے سفارت خانہ مسلسل سرگرم رہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ناروے اور پاکستان کے درمیان پی آئی اے کی براہِ راست پروازوں کی بحالی کے لیے بھی مسلسل کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں ناروے کے متعلقہ حکام، ہوائی اڈوں کی انتظامیہ اور پی آئی اے کے ساتھ رابطے جاری رہے، اور امید ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ دوبارہ بحال ہو جائے گا۔


سعدیہ الطاف قاضی نے کہا کہ ان تمام کامیابیوں میں سفارت خانے کے افسران و عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، ٹیم ورک اور انتھک محنت کا اہم کردار رہا، جس پر وہ انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا مضبوط پل قرار دیتے ہوئے ان کی حب الوطنی، مثبت کردار اور پاکستان کے لیے خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے پاکستانی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار صحافت دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بالخصوص دنیا نیوز ناروے کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے نہ صرف پاکستانی کمیونٹی بلکہ پاکستان سے متعلق مثبت سرگرمیوں کو بھی مؤثر انداز میں اجاگر کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔

London, July 29, 2026 (Pothwar.com – Mohammad Naseer Raja): Pakistan’s Ambassador to Norway and Iceland, Saadia Altaf Qazi, hosted a farewell dinner in Oslo in honour of Pakistani journalists based in Norway and the officers and staff of the Embassy of Pakistan.

Addressing the gathering, Ambassador Qazi reflected on her three-and-a-half-year diplomatic tenure, stating that her key priorities had been to promote Pakistan’s positive image, strengthen bilateral relations between Pakistan and Norway, and improve consular services for the Pakistani diaspora.

She highlighted one of the most significant achievements of her tenure: Pakistan’s removal from Norway’s annual national security report listing countries associated with security concerns. She said the development came after sustained diplomatic engagement and close coordination with Norwegian authorities.

The ambassador noted that, following this progress, restrictions on Pakistani-origin youth participating in the Telenor Open Mind Programme were lifted. The programme provides training and employment opportunities, enabling young Pakistanis in Norway to benefit on equal terms. She added that positive progress had also been made regarding export control issues and other restrictions affecting Pakistan.

Ambassador Qazi said bilateral ties had strengthened through an increase in high-level government, parliamentary, and official exchanges between the two countries. She also welcomed the establishment of the Pakistan–Norway Parliamentary Friendship Group in the Norwegian Parliament, describing it as an important milestone for future parliamentary cooperation.

She further revealed that Norwegian Foreign Minister Espen Barth Eide is expected to visit Pakistan in August, a trip she said would further expand relations between the two countries.

On economic diplomacy, Ambassador Qazi said the embassy had actively promoted investment opportunities in Pakistan among Norwegian and Icelandic investors, with particular focus on information technology, artificial intelligence (AI), green energy, and emerging technologies. She also facilitated links between Pakistani institutions and Icelandic partners in the field of geothermal energy.

She emphasised that Pakistan’s position had been effectively presented through engagement with Norwegian think tanks, universities, media organisations, and international forums. The embassy also continued to highlight the human rights situation in Kashmir while promoting Pakistan’s perspective in Norwegian media.

The ambassador said cultural diplomacy remained a key priority during her tenure. Events including Iqbal literary gatherings, Qawwali performances, cultural festivals, and national day celebrations were organised to showcase Pakistan’s rich heritage and strengthen cultural understanding in Norway.

Highlighting community services, she said the embassy had expanded support for overseas Pakistanis through the establishment of a NADRA counter, resolution of NICOP and Pakistan Origin Card (POC) issues, progress on dual citizenship matters, and timely assistance to Pakistani nationals during emergencies.

She also reaffirmed the embassy’s continued efforts to restore direct Pakistan International Airlines (PIA) flights between Pakistan and Norway. Discussions with Norwegian authorities, airport management, and PIA officials remain ongoing, and she expressed hope that direct air connectivity would resume in the near future.

Concluding her remarks, Ambassador Qazi credited the embassy’s officers and staff for their professionalism, teamwork, and dedication in achieving these diplomatic successes. She praised the Pakistani community in Norway for serving as a strong bridge of friendship between the two countries and thanked Pakistani media organisations for promoting Pakistan’s positive image abroad. She also commended Dunya News Norway for its contributions in highlighting the Pakistani community and positive developments related to Pakistan.

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button