30 June 2026DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com
Kahuta: Opposition Leaders Stopped Near Kahuta on Way to Kashmir
کہوٹہ; کشمیر جانے والے اپوزیشن رہنماؤں کو کہوٹہ کے قریب روک دیا گیا

کہوٹہ (پوٹھوار ڈاٹ کوم، عمران ضمیر | 30 جون 2026):سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کو آزاد کشمیر جانے کے دوران کہوٹہ کے قریب چکیاں کے مقام پر پولیس نے روک دیا۔
رہنما آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور احتجاجی مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جا رہے تھے، تاہم پولیس کی بھاری نفری نے سڑک بلاک کر کے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
اس دوران کہوٹہ شہر، نالہ لنگ، آڑی سیداں، نیو کچہری اور دیگر مقامات پر پولیس ناکے قائم کیے گئے جبکہ ٹرک کھڑے کر کے آزاد کشمیر اور راولپنڈی کو ملانے والی مرکزی شاہراہ تقریباً چار سے پانچ گھنٹے تک بند رہی۔
سڑک کی بندش کے باعث دونوں اطراف ٹریفک کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ شدید گرمی میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ متعدد ایمبولینسیں بھی ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ان کا مقصد احتجاجی دھرنے میں شرکت، مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں جانے دیا جاتا تو متعلقہ فریقین سے بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہوں کی بندش اور نقل و حرکت پر پابندیاں عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں اور مسائل کے حل کے بجائے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
بعد ازاں رہنما اسلام آباد پریس کلب روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ دوبارہ کشمیر جانے کی کوشش کریں گے، جبکہ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے

Kahuta (Pothwar com, Imran Zamir | June 30, 2026) —Former Prime Minister Shahid Khaqan Abbasi, Senate Opposition Leader Senator Allama Raja Nasir Abbas, National Assembly Opposition Leader Mahmood Khan Achakzai, and former Senator Mustafa Nawaz Khokhar were stopped by police near Chakian, close to Kahuta, while travelling toward Azad Kashmir.
The opposition leaders said they were heading to meet protesters and express solidarity amid the ongoing situation in Azad Kashmir. However, a heavy police deployment blocked the road and prevented them from proceeding.
Police checkpoints were established at several locations, including Kahuta city, Nala Lang, Ari Syedan, and New Kachehri. Trucks were also parked across the main highway connecting Rawalpindi and Azad Kashmir, resulting in a road closure of approximately four to five hours.
The closure caused long traffic jams on both sides of the highway. Passengers, including women, children, senior citizens, and patients travelling in ambulances, faced significant difficulties in the intense summer heat.
Speaking to the media, the opposition leaders said their objective was to participate in the protest sit-in, express solidarity with demonstrators, and seek a peaceful resolution through dialogue. They stated that they intended to engage with relevant stakeholders to help reduce tensions if they had been allowed to continue their journey.
The leaders criticized the government’s handling of the situation, arguing that road closures and movement restrictions were creating unnecessary hardship for the public and increasing political tensions instead of resolving the issue. They called for all matters to be settled through negotiations.
Following the protest at the site, the delegation travelled to the Islamabad Press Club to hold a press conference. Mahmood Khan Achakzai said they would consider making another attempt to reach Kashmir later, while Shahid Khaqan Abbasi urged the government to pursue dialogue instead of confrontation.
کہوٹہ میں انتظامیہ غائب، شہری پانی، تجاوزات اور سست ترقیاتی کاموں سے پریشان
Residents of Kahuta Face Water Shortage, Encroachments and Delayed Development Works Amid Administrative Inaction
کہوٹہ (پوٹھوار ڈاٹ کوم، عمران ضمیر | 30 جون 2026): کہوٹہ شہر اور گردونواح میں شدید گرمی کے دوران شہری پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے ہیں جبکہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث بنیادی شہری مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے پانی کی قلت، بند سٹریٹ لائٹس، تجاوزات، اشیائے خوردونوش کی من مانی قیمتوں اور سست رفتار ترقیاتی کاموں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ واٹر سپلائی اور سیوریج کے منصوبوں کے لیے 80 کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹ مختص کیے جانے کے باوجود انہیں تاحال صاف پانی اور نکاسی آب کی مناسب سہولیات میسر نہیں آ سکیں۔
کہوٹہ شہر میں تجاوزات کی بھرمار کے باعث پیدل چلنا بھی دشوار ہو چکا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ادھر گزشتہ چھ ماہ سے جاری کہوٹہ شہر کی خوبصورتی کے منصوبے پر بھی کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ مقامی تاجروں کا الزام ہے کہ انتظامیہ اور ٹھیکیدار کی مبینہ ملی بھگت کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، جس سے اے کے مال چوک سے فرینڈز ڈاؤن ٹاؤن ریسٹورنٹ اور قدیر میونسپل لائبریری ہال روڈ تک متعدد دکاندار شدید مالی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔
متاثرہ تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار تقریباً ٹھپ ہو چکا ہے اور بعض خاندانوں کے لیے معاشی مشکلات اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد بار متعلقہ حکام کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے باوجود کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
شہریوں اور تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر پانی کی فراہمی، سیوریج، تجاوزات کے خاتمے، سٹریٹ لائٹس کی بحالی، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول اور ترقیاتی منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
Residents Demand Upgrade of Kahuta THQ Hospital Amid Shortage of Essential Medical Facilities
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ میں طبی سہولیات کا فقدان، شہریوں کا فوری اپ گریڈیشن کا مطالبہ

کہوٹہ (پوٹھوار ڈاٹ کوم، عمران ضمیر | 30 جون 2026): تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ میں بنیادی طبی سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کے مطابق ہسپتال میں جدید ڈیجیٹل ایکسرے پلانٹ سمیت کئی اہم طبی سہولیات دستیاب نہیں، جس کے باعث مریضوں کو تشخیص اور علاج کے لیے دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جاوید سومرو، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور دیگر ملازمین اپنی محدود سہولیات کے باوجود انتہائی محنت، دیانتداری اور فرض شناسی سے فرائض انجام دے رہے ہیں، تاہم وسائل کی کمی ان کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ نہ صرف تحصیل کہوٹہ بلکہ آزاد کشمیر کے لاکھوں شہریوں کے لیے بھی واحد بڑا سرکاری طبی مرکز ہے، اس لیے اس ہسپتال کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال کو فوری طور پر اپ گریڈ کیا جائے، جدید ڈیجیٹل ایکسرے پلانٹ فراہم کیا جائے، شعبہ امراضِ قلب (ہارٹ یونٹ)، جنرل سرجری اور دیگر ضروری طبی شعبے قائم کیے جائیں، جبکہ ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے تاکہ مریضوں کو معیاری اور بروقت علاج کی سہولیات مقامی سطح پر میسر آ سکیں۔
Indus Wings Group of Colleges Kahuta Honors Outstanding Students at Annual Prize Distribution Ceremony
انڈس ونگز گروپ آف کالجز کہوٹہ کی سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات، نمایاں طلبہ نقد انعامات، شیلڈز اور اسناد سے نوازے گئے




