گوجرخان (پوٹھوار ڈاٹ کام ڈاٹ کام | 26 جون 2026) — گوجرخان میں دو انڈر پاسز اور ایک سروس روڈ کی تعمیر کے طویل عرصے سے منتظر منصوبے پر آئندہ ہفتے باقاعدہ کام شروع ہونے جا رہا ہے، جسے شہر میں ٹریفک کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے آغاز سے قبل جمعرات کے روز گوجرخان میں ایک اہم رابطہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور گورائیہ نے کی۔ اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، پنجاب پولیس، ٹریفک وارڈن پولیس، پنجاب ہائی وے پٹرول، سوئی ناردرن پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این پی ایل) اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران منصوبے پر عملدرآمد کی حکمت عملی، ٹریفک مینجمنٹ کے انتظامات، سکیورٹی اقدامات اور یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ تعمیراتی کام بلا رکاوٹ اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق تعمیراتی مرحلے کے دوران ٹریفک وارڈن پولیس ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ شہریوں اور مسافروں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو، اس مقصد کے لیے متبادل ٹریفک روٹس اور جامع ٹریفک ڈائیورژن پلان بھی مرتب کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پنجاب پولیس منصوبے کی تکمیل تک تعمیراتی مقام اور متعلقہ علاقوں میں سکیورٹی اور امن و امان کی ذمہ داریاں سرانجام دے گی۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور تعاون منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ناگزیر ہے۔
منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے آئندہ چند روز میں تجاوزات کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ تعمیراتی سرگرمیوں کے تسلسل اور رفتار کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اس کے علاوہ منصوبے سے منسلک سیوریج لائن پر کام بھی اسی ہفتے شروع کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق سیوریج انفراسٹرکچر کی بہتری مجموعی ترقیاتی منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے، جسے مرکزی تعمیراتی کاموں کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ دونوں انڈر پاسز اور سروس روڈ پر مشتمل یہ منصوبہ تقریباً چھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئے گی، شہری علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی سفر زیادہ محفوظ بن سکے گا۔
حکام نے امید ظاہر کی کہ اگر کام مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہا تو جنوری 2027 تک دونوں انڈر پاسز اور سروس روڈ مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے، جس سے گوجرخان اور گردونواح کے عوام کو جدید اور مؤثر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
شہری حلقوں کے مطابق یہ منصوبہ گوجرخان کی ترقی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور خطے کی مصروف ترین شاہراہوں میں سے ایک پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔
Gujar Khan (Pothwar.com | June 26, 2026) — The long-awaited construction of two underpasses and a service road in Gujar Khan is set to commence formally next week, marking a significant step toward improving traffic management and infrastructure in the city.
In preparation for the project, an important coordination meeting was held in Gujar Khan on Thursday. The meeting was chaired by Assistant Commissioner Khizar Zahoor Goraya and attended by senior officials from the National Highway Authority (NHA), Punjab Police, Traffic Warden Police, Punjab Highway Patrol, Sui Northern Pipelines Limited (SNPL), and other relevant government departments.
During the meeting, officials reviewed the implementation strategy, traffic management arrangements, security measures, and utility relocation plans to ensure the smooth execution of the project.
According to officials, the Traffic Warden Police will play a key role in maintaining the smooth flow of traffic throughout the construction period. Comprehensive traffic diversion plans will be implemented to minimize inconvenience to commuters and local residents.
Punjab Police will be responsible for providing security and maintaining law and order at the project site until the completion of the development work. Authorities emphasised the importance of coordinated efforts among all departments to ensure the timely completion of the project.
The meeting also decided that an anti-encroachment operation will be resumed within the coming days to clear obstacles along the project corridor. Officials stated that the removal of illegal encroachments is essential for the uninterrupted progress of construction activities.
In addition, work on the sewerage line associated with the project is scheduled to begin later this week. The sewerage infrastructure upgrade is considered a crucial component of the overall development plan and will be completed alongside the main construction works.
Project authorities informed participants that the entire scheme, including both underpasses and the service road, is expected to be completed within six months. Upon completion, the infrastructure will significantly improve traffic flow, reduce congestion, and enhance road safety for motorists and pedestrians.
Officials expressed confidence that if work proceeds according to schedule, both underpasses and the service road will become fully operational by January 2027, providing a modern and efficient transportation facility for the residents of Gujar Khan and surrounding areas.
The project is being viewed as a major infrastructure initiative that will contribute to the city’s development and facilitate smoother movement along one of the region’s busiest traffic corridors.
صحافی کو دھمکیوں پر کھلا خط: راجہ پرویز اشرف سے وضاحت کا مطالبہ
Open Letter to Raja Pervaiz Ashraf: Journalist Seeks Clarification Over Threats and Press Freedom
دولتالہ (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کام، محمد نجیب جرال، 26 جون 2026) کھلا خط برائے راجہ پرویز اشرف صاحب محترم راجہ پرویز اشرف صاحب سابق وزیر اعظم پاکستان و سپیکر قومی اسمبلی!
گزشتہ چند روز کے دوران میری بعض تحریروں، بالخصوص عوامی مسائل اور نڑالی میں آر او پلانٹ کے حوالے سے لکھی گئی تحریروں کے بعد سوشل میڈیا پر مجھے دھمکیاں دی گئیں۔ کہا گیا کہ مجھے “سبق سکھایا جائے گا”، “گھر سے اٹھا لیا جائے گا” اور “سنگین نتائج” بھگتنا ہوں گے۔
ایک صحافی کی حیثیت سے میں آپ سے ایک سیدھا اور واضح سوال پوچھنا چاہتا ہوں: کیا یہ سب آپ کی مرضی، ہدایت یا ایما پر ہو رہا ہے؟
اگر جواب نفی میں ہے، اور مجھے یقین ہے کہ ہونا چاہیے، تو پھر آپ پر یہ اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ اپنے نام پر دھمکیاں دینے والے عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کریں اور انہیں لگام دیں۔ کیونکہ خاموشی بعض اوقات تائید سمجھی جاتی ہے۔
راجہ صاحب! آپ صرف نڑالی کے نہیں، پوری تحصیل گوجرخان کے منتخب نمائندہ ہیں۔ درجنوں یونین کونسلز، سینکڑوں دیہات اور لاکھوں شہری آپ کے حلقۂ نمائندگی میں شامل ہیں۔ آپ کا منصب اختلافِ رائے کو دبانا نہیں بلکہ اسے سننا اور برداشت کرنا ہے۔
صحافت کا کام قصیدے لکھنا نہیں بلکہ عوام کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانا ہے۔ اگر کسی صحافی کی تحریر سے اختلاف ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جا سکتا ہے، حقائق سے دیا جا سکتا ہے، مگر دھمکیوں، خوف اور دباؤ سے نہیں۔
کیا ایک جمہوری معاشرے میں قلم کی آواز کو خاموش کرانے کی بات کی جا سکتی ہے؟ کیا ایک صحافی کو اس کے گھر سے اٹھا لے جانے کی دھمکیاں دینا سیاسی اخلاقیات اور جمہوری اقدار کے مطابق ہے؟
میں نے اپنی صحافتی زندگی میں کسی منتخب نمائندے سے ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا۔ میرے گھر آج بھی بنیادی سہولیات کے مسائل موجود ہیں، لیکن میں نے کبھی قلم کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا۔ میرا تعلق صرف عوام کے حقِ آواز سے ہے۔
میں آپ کو یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نام پر دھمکیاں دینے والے یہ نام نہاد خیرخواہ درحقیقت آپ کی سیاسی خدمت نہیں کر رہے بلکہ آپ کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدلنے والے لوگ کسی بھی سیاسی قیادت کے لیے اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ ثابت ہوتے ہیں۔
میرا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ آپ واضح کریں: کیا ایک صحافی کو سوال پوچھنے، عوامی مسائل لکھنے اور مختلف آراء بیان کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟احترام کے ساتھ،