07 June 2026DailyNewsHeadlineOverseas newsPothwar.com

Norway: Historic Conference on Khatam e Naboowat Held in Norway

ناروے میں عقیدۂ ختمِ نبوت پر تاریخی تقریب

ناروے (پوٹھوار ڈاٹ کام —عقیل قادر| 07جون 2026) —اسلامک لٹریچر سوسائٹی ناروے کے زیرِ اہتمام عقیدۂ ختمِ نبوت پر ایک تاریخی اور روح پرور تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں سینکڑوں خواتین و حضرات نے اپنے اہلِ خانہ اور بچوں سمیت شرکت کی۔
یہ تقریب اس اعتبار سے بھی غیر معمولی رہی کہ ناروے کی تاریخ میں علمائے کرام کا یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اجتماع تھا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علما بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

تقریب اس لحاظ سے غیر معمولی رہی کہ پہلی بار نارویجن زبان میں اس موضوع پر پانچ کتب اور ایک جامع علمی منصوبہ بیک وقت متعارف کرایا گیا۔ شرکاء نے حضور نبی کریم ﷺ سے اپنی محبت، عقیدت اور وابستگی کا بھرپور اظہار کیا۔

تقریب کی صدارت علامہ پیر سید نعمت علی شاہ بخاری نے کی جبکہ پاکستان کی سفیر سعدیہ الطاف قاضی مہمانِ خصوصی تھیں۔ تقریب کی نقابت کے فرائض معروف مذہبی رہنما علامہ شیراز مدنی نے انجام دیئے۔ پروگرام کا آغاز قاری عامر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ محمد قینس، ہارون قیوم، قاری اسرار احمد اور عبدالمعان نے نعتیہ کلام پیش کیا۔

مہمانِ خصوصی سفیر پاکستان سعدیہ الطاف قاضی نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت امتِ مسلمہ کے ایمان کی بنیاد اور حضور اکرم ﷺ سے محبت و وابستگی کا بنیادی تقاضا ہے۔ ان کے مطابق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری نبوت پر ایمان مسلمانوں کی دینی شناخت اور روحانی زندگی کا بنیادی ستون ہے، اور اس عقیدے کا تحفظ ہر مسلمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

صدرِ تقریب پیر سید نعمت علی شاہ بخاری نے اسلامک لٹریچر سوسائٹی ناروے کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب ایک اہم علمی خدمت کی رونمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عقیدۂ ختمِ نبوت پر معیاری، مستند اور تحقیقی مواد مرتب کیا گیا ہے، جو نئی نسل اور عام مسلمانوں کے لیے قابلِ قدر علمی سرمایہ ثابت ہوگا۔

مفتی طاہر عزیز باروی نے کہا کہ قرآنِ مجید کے مطابق مومن وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی پر ایمان رکھتے اور آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ایمان کی تکمیل اور رسول اکرم ﷺ سے سچی محبت کا عملی اظہار ہے، اور اس کے تحفظ کے لیے علمی و فکری کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

فضل الرحمن آف موس نے نارویجن زبان میں کہا کہ مغربی معاشروں میں مستند اسلامی معلومات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو ناروے میں اسلامی علمی خدمات کی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی زبان میں تحقیقی مواد نئی نسل اور غیر مسلم معاشرے تک درست معلومات پہنچانے میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔

اسلامک لٹریچر سوسائٹی کے جنرل سیکریٹری عقیل قادر نے تمام مساجد، اسلامی تنظیموں، مخیر حضرات اور کمپنیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ختمِ نبوت پروجیکٹ کی تکمیل میں تعاون کیا۔ انہوں نے بالخصوص ڈاکٹر یاسر حسین کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے رضاکارانہ طور پر منصوبے کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ ختمِ نبوت پروجیکٹ کے تحت تقریباً پندرہ سو صفحات پر مشتمل تحقیقی و علمی مواد تیار کیا گیا، جسے چار تفصیلی کتابوں کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے۔ ایک خلاصہ کتاب بھی شائع کی گئی تاکہ عام قارئین مختصر انداز میں موضوع کا جامع تعارف حاصل کر سکیں۔ پانچوں کتابیں ای بک کی صورت میں آن لائن دستیاب ہیں، جبکہ خلاصہ کتاب کی دس ہزار سے زائد کاپیاں شائع کی گئی ہیں تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچ سکے۔

تقریب میں بتایا گیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت سے متعلق جامع نارویجن ویب سائٹ لانچ کر دی گئی ہے، جہاں پانچوں کتابیں ای بک کی صورت میں اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آخری نبوت پر امتِ مسلمہ کے اجماع کے پیش نظر یہ پلیٹ فارم اسی بنیادی عقیدے کے لیے مخصوص رکھا گیا ہے تاکہ ناروے سمیت دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں اور غیر مسلموں تک درست اور مستند معلومات پہنچائی جا سکیں۔

تقریب کے دوران ان تنظیموں اور افراد کو ایوارڈز اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا جنہوں نے منصوبے کی تکمیل میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس موقع پر اسلامک لٹریچر سوسائٹی ناروے کے صدر افتخار حسین اور مرکزی رہنما اظہر اقبال کو ختمِ نبوت پروجیکٹ میں مرکزی کردار ادا کرنے پر خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ انہیں ایوارڈز، اعزازی ڈپلومہ اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے، جبکہ شرکاء کے لیے تین عمرہ ٹکٹوں اور پچاس سے زائد گفٹ کارڈز کی قرعہ اندازی بھی کی گئی۔

قرآء حضرات نے بارگاہ رسول ﷺ میں درودو سلام کا نذرانہ پیش کیا۔

تقریب کے اختتام پر مفتی ملک اویس آف درامن نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، پاکستان کے استحکام، عالمِ اسلام کی سلامتی اور نئی نسل کی صحیح اسلامی تربیت کے لیے خصوصی دعا کرائی۔ یہ تقریب علم، عقیدت اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے فروغ کے حوالے سے ایک یادگار اجتماع ثابت ہوئی۔


Norway (Pothwar.com — Aqil Qadir | June 07, 2026): A historic and spiritually uplifting conference on the belief in the Finality of Prophethood was organised by the Islamic Literature Society Norway, witnessing participation of hundreds of men, women, and families along with leading scholars from various schools of thought.

The event marked a significant milestone as five books and a comprehensive academic project were launched in the Norwegian language for the first time on this subject. Speakers emphasised the importance of protecting and promoting the belief in the Finality of Prophethood as a fundamental part of Islamic faith and identity.

The conference was presided over by Allama Pir Syed Nemat Ali Shah Bukhari, while Pakistan’s Ambassador Sadiya Altaf Qazi attended as chief guest. Religious scholars, including Mufti Tahir Aziz Barvi and others, highlighted the academic and spiritual importance of the project, especially for educating younger generations and non-Muslim audiences in Norway.

Organisers announced the completion of around 1,500 pages of research material compiled into multiple books and made available both in print and digital formats. A dedicated Norwegian-language website was also launched to spread authentic Islamic knowledge.

At the end of the event, awards and certificates were distributed among individuals and organisations for their contributions, followed by prayers for unity of the Muslim Ummah, peace in the world, and guidance for future generations.

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button