روات (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرم الحق قریشی | 02 جون 2026) — لاک ڈاؤن کا دوبارہ آغاز ہوگیا، اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے توانائی کے مؤثر استعمال اور بجلی کی بچت کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ نئے نوٹیفیکیشن کے تحت وفاقی دارالحکومت میں کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار کو محدود کر دیا گیا ہے اور اس قانون کا اطلاق آج ہی سے نافذ العمل ہوگا، یہ احکامات اگلے سرکاری احکامات آنے تک بدستور مؤثر رہیں گے۔
بتایا گیا ہے کہ نوٹیفیکیشن کے تحت مختلف کاروباری مراکز کو حکومتی شیڈول کے مطابق بند کرنا ہوگا، تمام چھوٹی بڑی مارکیٹس، تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز رات 8 بجے لازمی بند کر دیئے جائیں گے، تمام ہوٹلز، ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس اور تندوروں کو رات 10 بجے تک کاروبار ختم کرنے کی اجازت ہوگی، روزمرہ کی اشیاء فراہم کرنے والے کریانہ اسٹورز، سبزی و پھل کی دکانیں اور بیکری شاپس بھی رات 10 بجے بند ہونا لازمی ہیں، تمام شادی ہالز، کیٹرنگ سینٹرز اور مارکیز کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر تقریبات رات 10 بجے تک ہر صورت ختم کریں۔
معلوم ہوا ہے کہ عوام کی سہولت اور ہنگامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے مختلف شعبوں پر نئے اوقات کار لاگو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، ان میں تمام ہسپتال، میڈیکل اسٹورز اور میڈیکل لیبارٹریز شامل ہیں، پٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز اور دودھ و ڈیری شاپس اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں، ریسٹورنٹس سے ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز معمول کے مطابق چلتی رہیں گی، جم، پیڈل کورٹس اور دیگر تمام اسپورٹس سہولیات کو بھی کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی، استثنیٰ کے حامل شعبوں میں آئی ٹی کمپنیاں اور انٹرنیشنل کال سینٹرز بھی شامل ہیں۔
Rawat (Pothwar.com — Ikram Ul Haq Qureshi | June 02, 2026): The Islamabad district administration has announced a new set of measures aimed at promoting efficient energy consumption and reducing electricity usage across the federal capital. A notification issued by the District Magistrate of Islamabad has imposed restrictions on business operating hours, with immediate effect.
According to the official notification, the revised timings will remain in force until further orders from the government. The administration stated that the decision was taken as part of a broader strategy to manage energy resources more effectively and curb unnecessary electricity consumption.
Under the new regulations, all markets, commercial centres, shopping plazas, and shopping malls in Islamabad will be required to close by 8:00 p.m. each day. Restaurants, hotels, food outlets, and traditional tandoors will be permitted to continue operations until 10:00 p.m.
The notification further states that grocery stores, fruit and vegetable shops, and bakeries providing essential daily necessities must also close by 10:00 p.m. Wedding halls, marquees, catering centres, and other event venues have been directed to ensure that all functions and ceremonies conclude no later than 10:00 p.m.
Officials said the measures are intended to reduce electricity demand during peak evening hours while maintaining the availability of essential services for residents.
At the same time, the district administration has granted exemptions to several sectors in view of public convenience and emergency requirements. Hospitals, pharmacies, and medical laboratories will continue to operate according to their normal schedules without any restrictions.
Similarly, petrol pumps, CNG stations, milk shops, and dairy outlets have been exempted from the new closing-hour regulations. Restaurants will also be allowed to continue providing takeaway and home-delivery services beyond the stipulated closing time for dine-in operations.
The notification further clarifies that gyms, padel courts, and other sports facilities will remain open under their existing schedules. Information technology companies and international call centres have also been excluded from the restrictions in recognition of their operational requirements and business commitments.
The district administration has directed all concerned businesses and establishments to strictly comply with the new regulations, warning that violations may result in legal action under the relevant laws. Authorities have expressed hope that the measures will contribute significantly to energy conservation efforts while ensuring that essential services remain accessible to the public.
The new business-hour policy came into force on Tuesday and will remain effective until the issuance of further instructions by the government.
ریلوے حادثات اور بدانتظامی پر تنقید میں اضافہ
Criticism Mounts Over Repeated Railway Accidents and Operational Failures
روات (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرم الحق قریشی | 02 جون 2026) —جب سے حنیف عباسی نے وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالا تب سے پاکستان ریلوے میں ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ حادثات ہوئے ہیں ٹرینوں کا پٹڑی سے اتر جانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے جس سے پاکستان ریلوے کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان حادثات میں بھاری مالیت کے ریلوے انجنوں سمیت کوچز بھی تباہ ہوتی ہیں جس سے پاکستان ریلوے کا آپریشنل نظام بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے پاکستان ریلوے جس نے محض کوچز کی کمی کے باعث درجنوں ٹرینوں کو بند کر رکھا ہے جو ٹرینیں چل رہی ہیں ان میں کوچز کی تعداد بھی کم ہے تمام ٹرینیں کی گھنٹوں کی تاخیر کی سب سے بڑی وجہ کوچز کی کمی ہے اضافی کوچز نہ ہونے سے ٹرینوں کو منزل مقصود تک پہنچنے کا انتظار کیا جاتا یے پھر وہی ٹرین واشنگ لائن میں چلی جاتی ہے اس کی دھلائی ستھرائی کے بعد اسے پھر منزل کی جانب روانہ کردیا جاتا ہے ان حادثات کے باعث ریلوے نے اپنی بوسیدہ تباہی حال کوچز کو بھی ایکسپریس ٹرینوں میں شامل کردیا جن میں بارش کی صورت میں پانی باہر کم اور کوچ کے اندر زیادہ آتا ہے گرمی کے ایام میں بیشتر ایکسپریس ٹرینوں کے اے سی راستے میں جواب دے جاتے ہیں اور مسافر اے سی کا کرایہ ادا کر کے اے سی کے بغیر سفر کرنے کر مجبور ہو جاتے ہیں جبکہ ٹرینوں کے ڈی ریل ہونے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور یہ تماشہ روزانہ کی بنیاد پر لگتا ہے مگر آج تک ریلوے وزیر نے اس پر معزرت نہ کی ان کا دور وزارت پاکستان کی ریلوے تاریخ کا بدترین اور ناکام ترین دور ہے مگر کمال حیرت ہے کہ وزیراعظم اس ساری صورتحال پر خاموشی توڑنے کو تیار نہیں اور حنیف عباسی اپنی نااہلی کے باعث پاکستان ریلوے کی تباہی کا سب سے بڑا زریعہ بنتے چلے جا رہے ہیں صرف پیر کے روز دو ٹرینیں مختلف حادثات کا شکار ہوئی پیر کی صبح راولپنڈی سے کراچی روانہ ہونے والی تیزگام ایکسپریس کی ایک بوگی چکلالہ اور سہالہ کے درمیان پٹڑی سے اتر گئی پیر کے روز ہی سہ پہر کے وقت کراچی سے راولپنڈی آنے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں ملتان اور خانیوال کے درمیان آگ بھڑک اٹھی مگر ریلوے وزیر ٹس سے مس نہیں ہو رہے وزیراعظم شہباز شریف کو بلاتاخیر ان سے ریلوے وزارت واپس لے کر خواجہ سعد رفیق کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔