20 May 2026DailyNewsHeadlineKallar SyedanPothwar.com

Kallar Syedan: Only One Approved Cattle Market, Illegal Markets to Face Action

کلر سیداں میں غیر قانونی منڈیوں کے خلاف کارروائی ہوگی

کلرسیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرم الحق قریشی | 20 مئی 2026) —اسسٹنٹ کمشنر کلر سیداں ڈاکٹر سیدہ زینب حسین نے کہا ہے کہ پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ اینڈ ڈیویلپمنٹ کمپنی راولپنڈی ڈویژن کے زیر انتظام کلر سیداں میں صرف ایک ہی منڈی مویشیاں منظور شدہ ہے اس کے علاؤہ دیگر مقامات پر لگائی جانے والی منڈیاں غیر قانونی ہیں جن کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں اس وقت 182 منڈی مویشیاں قائم ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایڈمنسٹریٹر آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے منڈی مویشیاں کے انتظامات، مقررہ نرخوں اور سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ٹھیکیدار صرف ایک مرتبہ پرچی کاٹنے کا پابند ہے، اگر کوئی جانور پہلی بار فروخت نہ ہو سکے تو بیوپاری اسی پرچی پر دوبارہ جانور فروخت کیلئے لا سکتا ہے اور اس سے اضافی فیس وصول نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ بڑے جانور کیلئے دو ہزار روپے جبکہ چھوٹے جانور کیلئے تین سو روپے پرچی مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ منڈی میں چارہ، سایہ، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہے اور ان سہولیات کی قیمت پہلے ہی پرچی فیس میں شامل کی جا چکی ہے جہاں شہریوں اور بیوپاریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں اے سی نے بتایا کہ گزشتہ روز پرچی کے تنازع پر پیدا ہونے والے جھگڑے کے زخمیوں میں صلح کروا دی گئی اس موقع پر چیف آفیسر بلدیہ کلر سیداں رفعت عباس پاشا، ایم او ریگولیشن صائمہ تحریم سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

Kallar Syedan (Pothwar.com — Ikram ul Haq Qureshi | May 20, 2026): Assistant Commissioner Kallar Syedan, Dr Syeda Zainab Hussain, has said that only one cattle market in Kallar Syedan has been officially approved under the management of the Punjab Cattle Market Management and Development Company, Rawalpindi Division. Any other cattle markets established at different locations will be considered illegal, and strict action will be taken against them.

She expressed these views while addressing a press conference held at the Administrator’s Office on Tuesday. During the briefing, she shared detailed information regarding arrangements in the cattle market, fixed fee structures, and facilities being provided to traders and citizens.

The Assistant Commissioner stated that there are currently 182 cattle markets operating across Punjab. She clarified that contractors are allowed to issue a market slip only once. If an animal is not sold during the first attempt, the trader can bring the same animal back for sale using the same slip without paying any additional charges.

According to the official rates, a fee of Rs. 2,000 has been fixed for large animals, while Rs. 300 has been set for small animals.

Dr Syeda Zainab Hussain further said that providing fodder, shade, water, and other basic facilities inside the market is the responsibility of the contractor, and the cost of these facilities has already been included in the market slip fee. She added that efforts are being made to ensure better facilities for both traders and visitors.

Responding to a question, the Assistant Commissioner said that the dispute which occurred a day earlier over market slips, had been resolved through reconciliation between the injured parties.

Among those present at the press conference were Chief Officer Municipal Committee Kallar Syedan, Riffat Abbas Pasha, and MO Regulation Saima Tehreem, along with other officials.

چوآخالصہ میں بجلی چوری پکڑی گئی، ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج

Electricity Theft Detected in Choa Khalsa, Case Registered Against Contractor

کلرسیداں (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرم الحق قریشی | 20 مئی 2026) —چوآخالصہ میں بجلی چوری کا واقعہ،مقدمہ درج کر لیا گیا۔سب ڈویژن چوآ خالصہ کی ڈیٹکشن ٹیم نے صارفہ شازیہ کے میٹر کو چیک کیا تو میٹر کے مین ٹرمینل پر ڈائریکٹ تار لگائی گئی تھی اور اس تار سے ساتھ بننے والے نئے گھر میں گرینڈر استعمال کیا جا رہا تھا جو کہ وہاں پر موجود ٹھیکیدار غلام مصطفی سکنہ چوآ خالصہ کام کر وا رہا تھا موقع سے میٹر، کنڈا تار اور تصاویر بذریعہ فرد قبضہ پولیس لے کر ٹھیکیدار غلام مصطفی کیخلاف بجلی چوری کرنے کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔

کہوٹہ کلرسیداں روڈ پر تین طالب علم نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق

محمد صفیان ولد حسن اختر سکنہ تحصیل کلرسیداں

کلرسیداں+کہوٹہ (پوٹھوار ڈاٹ کام —اکرام الحق قریشی+ راجہ عمران ضمیر | 20 مئی 2026) —کہوٹہ کلرسیداں روڈ پر واقع کالج کے تین نوجوان طالب علم نہاتے ہوئے گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے جن میں دو کا تعلق راولپنڈی اور ایک کا کلرسیداں سے ہے۔تینوں نوجواں امتحانی مرکز میں پرچہ دینے کے بعد قریبی برساتی نالے پر چلے گئے جہاں سے نہاتے ہوئے گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے،مقامی لوگوں نے پولیس کے تعاون سے نعشیں پانی سے باہر نکالیں،جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کی شناخت وزیر ولد طاہر،عبدالرحمان ولد ساجد انور ساکنان راولپنڈی جبکہ ان میں تیسرا بدنصیب نوجوان محمد صفیان ولد حسن اختر سکنہ تحصیل کلرسیداں ہے یہ والدین کا اکلوتا سہارا تھا۔تینوں نوجوانوں کی عمریں20 سے 23 سال بتائی جاتی ہیں،نعشیں ورثا کے حوالے کردی گئیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button