مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،19مئی2026) کہوٹہ کے علاقہ سوڑ میں شفٹ وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اساتذہ محفوظ، اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ پر قابو پالیا، تفصیل کے مطابق تھانہ کہوٹہ کے علاقہ سوڑ میں شفٹ وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق خضر عباسی المعروف پنوں استاد اپنی گاڑی پر شفٹ لے کر واپس کہوٹہ آرہے تھے کہ بواہز ہائی سکول سوڑ کے قریب اچانک گاڑی میں آگ لگ گئی۔ تاہم اساتذہ فوری طور پر گاڑی سے نیچے اتر گئے۔الحمد اللہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اہل علاقہ اور اساتذہ نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھائی۔
Kahuta (Pothwar.com – Kabir Ahmed Janjua, May 19, 2026): A shift van suddenly caught fire in the Sore area of Kahuta; however, all teachers remained safe, and no casualties were reported.
According to details, the incident occurred near Bawahaz High School in Sore, within the jurisdiction of Kahuta Police Station. Sources said that Khizar Abbasi, also known as Pannu Ustad, was returning to Kahuta after dropping off a school shift when the vehicle suddenly caught fire.
The teachers immediately got out of the van safely after noticing the fire. Local residents and teachers acted promptly and managed to extinguish the blaze on a self-help basis before the situation worsened. Fortunately, no loss of life was reported in the incident.
کہوٹہ میں “میلاد چوک تا اے کے مال چوک” منصوبہ سست روی کا شکار، ٹریفک جام اور تاجروں کی مشکلات میں اضافہ
Slow Progress on “Milad Chowk to AK Mall Chowk” Project Causes Traffic Chaos and Business Losses in Kahuta
مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،19مئی2026) کہوٹہ شہر کی خوبصورتی کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے جاری“میلاد چوک تا اے کے مال چوک”منصوبہ سست روی اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار ہو گیا ہے۔ جگہ جگہ پڑے بلڈنگ میٹریل کے باعث روزانہ گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے جبکہ پیدل چلنا بھی شہریوں کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔انتظامیہ کہوٹہ پر الزام ہے کہ وہ صرف فوٹو سیشن اور سب اچھا ہے کی رپورٹس تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ تاجر برادری شدید مشکلات کا شکار ہے۔ تاجروں کے مطابق گزشتہ تین ماہ سے کاروبار تقریباً بند ہو کر رہ گیا ہے جس کے باعث کئی گھروں میں فاقوں کی نوبت آ پہنچی ہے۔شہریوں، تاجروں، مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو روزانہ شدید پریشانی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب ٹھکیدار بھی موقع سے غائب بتایا جا رہا ہے جبکہ عوامی شکایات کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے۔
Kahuta City Bypass Project Delayed for Eight Years, Affectees Still Await Compensation
کہوٹہ سٹی بائی پاس منصوبہ آٹھ سال سے التواء کا شکار، متاثرین معاوضوں سے محروم
مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم کبیر احمد جنجوعہ،19مئی2026) کہوٹہ سٹی بائی پاس منصوبہ گزشتہ آٹھ سال سے التواء کا شکار ہے جبکہ متاثرین آج تک اپنے معاوضوں کی ادائیگی سے محروم ہیں۔ مذکورہ منصوبے کا افتتاح سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں کیا تھا، تاہم منصوبہ تاحال مکمل نہ ہو سکا جس کے باعث شہریوں اور متاثرین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔متاثرین کے مطابق منصوبے کے آغاز کے دوران سینکڑوں کنال زرعی اور کمرشل اراضی پر بھاری مشینری چلائی گئی اور مختلف مقامات پر تعمیراتی کام بھی کیا گیا، مگر آٹھ سال گزرنے کے باوجود مالکانِ اراضی کو مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اس دوران انہیں مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگوائے گئے اور بارہا یقین دہانیاں کروا کر ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔بائی پاس سے متاثرہ افراد نے ممتاز قانون دان راجہ سعید احمد سے ملاقات کی اور آئندہ چند روز میں مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا۔ متاثرین نے کہا کہ مسلسل آٹھ سال سے ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، ان کی زمینوں پر بغیر مکمل معاوضہ ادا کیے وقفے وقفے سے کام جاری رکھا گیا جبکہ مطالبات کے باوجود صرف وعدے اور طفل تسلیاں دی گئیں۔راجہ سعید احمد ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، چیئرمین این ایچ اے اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کہوٹہ بائی پاس منصوبے سے متاثرہ شہریوں کو فوری طور پر ان کا قانونی معاوضہ ادا کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متاثرین کے مسائل فوری حل نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔