11 May 2026DailyNewsHeadlineKahutaPothwar.com

Kahuta: Dignified Ceremony Held to Mark First Anniversary of “Marka-e-Haq Bunyān-ul-Marsous”

کہوٹہ میں “مرکہ حق بنیان المرصوص” کی پہلی سالگرہ پر پروقار تقریب

کہوٹہ: (نمائندہ پوٹھوارڈاٹ کوم، عمران ضمیر، 11 مئی 2026) — “مرکہ حق بنیان المرصوص” میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کے ایک سال مکمل ہونے پر آل پاکستان نمبر دار ایسوسی ایشن اور پریس کلب کہوٹہ رجسٹرڈ کے زیر اہتمام ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں سیاسی، سماجی، کاروباری اور مذہبی حلقوں سمیت نمبرداران، تاجران، وکلا، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور افواجِ پاکستان کی جرات، بہادری اور قربانیوں کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ “مرکہ حق بنیان المرصوص” پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جہاں افواجِ پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت، غیر متزلزل عزم اور قربانیوں کی لازوال مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں پاکستانی عوام کے اتحاد اور یکجہتی نے بھی اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فتح صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی یکجہتی، حب الوطنی اور ایمان کی طاقت کی علامت ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے پوری قوم ہمیشہ اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

تقریب میں چیئرمین سپریم کونسل آل پاکستان نمبر دار ایسوسی ایشن پنجاب کرنل (ر) وسیم احمد جنجوعہ، صدر نمبر دار ایسوسی ایشن راولپنڈی ساجد عباسی، صداقت شاہ، راجہ عامر اور دیگر عہدیداران شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر پریس کلب کہوٹہ رجسٹرڈ راجہ عمران ضمیر جنجوعہ، جنرل سیکرٹری حاجی اصغر حسین کیانی، حاجی ملک عبدالروف، حاجی ملک منیر اعوان، مولانا ظہور اعوان نقیبی، مولانا عبداللہ عباسی، مولانا نصراللہ عباسی، پرویز مغل، حاجی غلام نبی، راجہ تیمور اختر، مہران سعید راجہ، ارسلان کیانی ایڈووکیٹ اور تاجروں، وکلا اور صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان کی تاریخی فتح کا جشن بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا۔ کیک کاٹا گیا جبکہ شرکاء نے “نعرہ تکبیر، اللہ اکبر” اور “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وطنِ عزیز کے دفاع، ترقی اور استحکام کے لیے ہمیشہ متحد رہیں گے۔

تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ارسلان اصغر کیانی ایڈووکیٹ اور افتخار غوری نے انجام دیے۔

Kahuta: (Pothwar.com, Imran Zamir | May 11, 2026) — A dignified ceremony was organized by the All Pakistan Numberdar Association and Press Club Kahuta Registered to commemorate the first anniversary of Pakistan’s historic success in “Marka-e-Haq Bunyān-ul-Marsous.”

A large number of political, social, business, and religious figures, along with numberdars, traders, lawyers, journalists, and citizens, attended the event and paid rich tribute to the bravery, courage, and sacrifices of the Pakistan Armed Forces.

Speakers at the ceremony described “Marka-e-Haq Bunyān-ul-Marsous” as a shining chapter in Pakistan’s military history, where the armed forces demonstrated exceptional professionalism, unwavering determination, and remarkable sacrifice. They stated that the unity and solidarity of the Pakistani nation also played a crucial role in the success, as the public stood shoulder to shoulder with their armed forces against hostile intentions.

The speakers emphasised that the victory was not merely a military achievement but also a triumph of national unity, patriotism, and faith. They reiterated their commitment that the entire nation would always stand firmly with its armed forces for the country’s security, sovereignty, and stability.

Among the prominent participants were Chairman of the Supreme Council of the All Pakistan Numberdar Association, Punjab Colonel (R) Wasim Ahmed Janjua, President of the Numberdar Association of Rawalpindi, Sajid Abbasi, Sadaqat Shah, Raja Amir, and other office-bearers. President Press Club Kahuta Registered Raja Imran Zamir Janjua, General Secretary Haji Asghar Hussain Kayani, Haji Malik Abdul Rauf, Haji Malik Munir Awan, Maulana Zuhur Awan Naqeebi, Maulana Abdullah Abbasi, Maulana Nasrullah Abbasi, Parvez Mughal, Haji Ghulam Nabi, Raja Taimoor Akhtar, Mehran Saeed Raja, Arsalan Kayani Advocate, and a large number of traders, lawyers, and journalists also attended the ceremony.

At the conclusion of the event, participants celebrated Pakistan’s historic victory with enthusiasm. A cake-cutting ceremony was held, while attendees chanted slogans of “Allahu Akbar” and “Pakistan Zindabad.” The atmosphere remained filled with patriotism as participants pledged to remain united for the defence, progress, and stability of the country.

The stage secretary duties were performed by Arsalan Asghar Kayani, Advocate and Iftikhar Ghouri.

 تعزیت

مٹور (نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کو م کبیر احمد جنجوعہ،11مئی2026)
کہوٹہ کی معروف سماجی شخصیت (فخرئے کہوٹہ پنجاڑ) آفتاب ستی نے مشہور سوشل میڈیا ایکٹیو یسٹ سردار ظفیر عرف (چاچو) کی وفات پر تعزیت کا اظہار اور لواحقین سے اظہار ہمدردی انہوں نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ظفیر چاچو کی وفات اور ان کے لیے لوگوں کے جذبات دیکھ کر دل عجیب کیفیت میں چلا گیا۔ ایک طرف دکھ تھا کہ ہمارے گاؤں کا ایک سادہ، مخلص اور محبت کرنے والا انسان ہم سے جدا ہو گیا، اور دوسری طرف یہ احساس بہت مضبوط ہوا کہ انسان اصل میں دلوں میں اپنی جگہ کردار، محبت، خلوص اور تعلق سے بناتا ہے، نہ کہ دولت، بڑی گاڑیوں اور بڑے گھروں سے۔آج کل کے دور میں ہم نے کامیابی کا مطلب ہی بدل دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس بڑا گھر ہو، مہنگی گاڑی ہو، سوشل میڈیا پر شہرت ہو، وہی کامیاب انسان ہے۔ لیکن کل ظفیر چاچو کی وفات نے ثابت کر دیا کہ اصل کامیابی وہ نہیں جو دنیا دکھاتی ہے، بلکہ اصل کامیابی وہ ہے جو انسان کے جانے کے بعد لوگوں کے دلوں میں رہ جاتی ہے۔ کتنے ہی امیر لوگ روز اس دنیا سے جاتے ہیں، لیکن ان کے جانے کی خبر چند لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس دنیا کی ظاہری چمک دمک نہیں ہوتی، لیکن ان کی محبت، سادگی، خلوص اور انسانیت لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ ظفیر چاچو بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ان کی زندگی میں ایک چیز بہت نمایاں تھی، اور وہ تھی اپنے لوگوں سے جڑاؤ۔ وہ اپنے گاؤں، اپنی روایات، اپنے خاندان اور اپنے لوگوں سے جڑے ہوئے انسان تھے۔ ان کے پاس شاید پکا محل نہیں تھا، لیکن ان کا دل پکا تھا۔ ان کے پاس دولت کم تھی، مگر محبت بہت زیادہ تھی۔ اور یہی وہ چیز ہے جو آج کے دور میں ہم کھو چکے ہیں۔ آج ہمارے گھر بڑے ہو گئے ہیں، لیکن دل چھوٹے ہو گئے ہیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے ہمیں دنیا سے جوڑ دیا، مگر اپنوں سے دور کر دیا۔ ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اجنبی ہو چکے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button