روات (پوٹھوار ڈاٹ کام — اکرام الحق قریشی | 14 اپریل 2026)— پاکستان ریلوے افسران کی مسلسل نا اہلی کے باعث پاکستان میں ریل گاڑیوں کے ڈی ریلمنٹ اور حادثات میں اس وقت دنیا بھر سے زیادہ ہے مگر وزیر ریلوے ماسوائے گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنے کے محکمہ ریلوے کے نااہل کام چور ملازمین کو قابو میں لانے کی صلاحیت سے ہی محروم ہیں ریلوے کے شعبہ انجینئرنگ کی افسر شاہی گینگوں کی لیبر کو شارٹ کرتے ہیں ان کی جھوٹی اور بوگس حاضریاں لگا کر پیسے وصول اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں جس سے باقی ملازمین پر کام کا بوجھ پڑتا ہے اور ٹریک کی مینٹیننس بھی نہیں ہوتی،یہی وجہ ہے کہ جب سے فرزند راولپنڈی محمد حنیف عباسی نے ریلوے وزارت کا منصب سنبھالا نہ صرف حادثات میں ریکارڈ اضافہ ہوا بلکہ حادثات کے بعد غیر شفاف تحقیقات، کرپٹ افسران کی پشت پناہی، کرپشن،نا اہلی، انتظامی غفلت اور نظام کی خرابی کے باعث ہزاروں قیمتی انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی جاتی ہیں،یہی وجہ ہے اس وقت ایم ایل ون پشاور راولپنڈی لاہور روہڑی حیدر آباد کراچی روٹ پھر سب سے زیادہ ٹرینیں ڈی ریل ہوئی ہے جس کی مشال ملکی تاریخ میں دستیاب ہیں نہیں صوبہ سندھ کی حدود کے بعد اب پنجاب کی حدود میں بھی رواں سال کے دوران ٹرینوں کے پٹری سے اترنے (ڈی ریلمنٹ) کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس نے پاکستان ریلوے کے سیفٹی اور مینٹیننس نظام کے ساتھ ساتھ متعلقہ ڈیپارٹمنٹس اور افسران کی کارکردگی پر بھی کئی سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں، سال رواں 2026 میں ریلوے پٹڑیوں کی خرابی اور کئی دیگر وجوہات کے باعث مال گاڑیوں اور پسنجر ٹرینوں کے ڈی ریلمنٹ کے متعدد حادثات پیش آچکے ہیں جس کی وجہ ریلوے لائنوں کی غیر معیاری مرمت، دیکھ بھال میں کوتاہی، غیر ذمہ داری، لاپرواہی، ریلوے ٹریک کی کمزوری، بوگیوں میں تکنیکی خرابیوں کے ساتھ ساتھ انسانی غفلت اور دیگر کئی وجوہات شامل ہیں، ان حادثات کا یہ سلسلہ ویسے تو عرصہ دراز سے جاری ہے مگر گزشتہ کئی مہینوں سے محکمانہ غفلت اور حادثات کی وجوہات پر بروقت قابو نہ پانے کے باعث یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور ڈی ریلمنٹ کے واقعات میں خطرناک حد تک اور تسلسل کے ساتھ واضح اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اگر اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ان واقعات کے پس منظر میں کئی وجوہات سامنے آ چکی ہیں جن میں ریلوے کی کھٹارا اور خستہ حال بوگیاں،ٹوٹی پھوٹی بریکیں، پرانی اور بوسیدہ پٹڑیاں، انسانی غفلت، کوتاہی اور غیر ذمہ داری کے ساتھ افسران کی کرپشن اور لالچ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔گزشتہ چند ایام سے مسلسل ہر روز کوئی نہ کوئی ٹرین ڈی ریل ہو جاتی ہے بلکہ چند ایام قبل ایک ہی روز تین ٹرینیں ڈی ریل ہوئیں اور ایک ہی روز شالیمار دو بار ڈی ریل ہوئیں۔ذرائع کے مطابق مینٹیننس میں مسلسل کوتاہی حادثات کی بڑی وجہ کے طور پر سامنے آ رہی ہے، ٹریک کی دیکھ بھال، مینٹیننس اور لیبر مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ پورے انتظامی کنٹرول کی ذمہ داری انہیں افسران کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، جس میں روزانہ کی بنیاد پر ریلوے ٹریک کی نگرانی، دیکھ بھال، سیفٹی، ریلوے ٹریک کے سلیپروں اور پتھروں کی حالت چیک کرنے، نٹ بولٹ، پلیٹوں کی چیکنگ، گینگ مینوں، کیز مین (چابی والے)، جمعدار کی نگرانی کے علاوہ انسپیکشن اور خطرناک مقامات کی نشاندہی اور رپورٹ کرنا ان افسران کے فرائض میںمگر ریکارڈ میں مسلسل ان ملازمین کی حاضریاں لگتی رہتی ہیں یعنی وہ ملازمین کام بھی نہیں کرتے مگر ریلوے کے ریکارڈ میں حاضر بھی ہوتے ہیں اور تنخواہیں بھی لیتے ہیں،وزہراعظم شہبازشریف کو ان ریلوے حادثات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حنیف عباسی کی خدمات کسی دوسرے وزارت ہے حوالے کرکے ریلوے میں فوری بہتری کے لیئے خواجہ سعد رفیق سے مدد و رہنمائی حاصل کرنی چاہیے کیونکہ ریلوے حادثات ہے باعث نہ صرف ریلوے سفر غیر محفوظ ہوتا جا رھا ہے بلکہ ان حادثات کے باعث پہلے ہی قلت کی شکار بوگیوں کو مزید نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجے میں اب تمام ٹرینیں شیڈول بوگیوں سے کم بوگیوں پر چل رہی ہیں۔
Rawat (Pothwar.com — Ikram-ul-Haq Qureshi | 14 April 2026) — A sharp rise in train derailments across Pakistan has raised serious concerns about safety, maintenance, and administrative performance within Pakistan Railways.
According to sources, Pakistan is currently witnessing one of the highest rates of train derailments globally, largely attributed to persistent inefficiency and mismanagement by railway officials. Critics allege that the leadership, including Federal Minister for Railways Muhammad Hanif Abbasi, has failed to control corruption and negligence within the department.
Reports highlight that engineering officials are allegedly involved in corrupt practices, including marking fake attendance for workers while pocketing their wages. This results in staff shortages, increased workload on active employees, and poor maintenance of railway tracks—key factors contributing to frequent accidents.
Since the current leadership assumed office, there has reportedly been a record increase in accidents, accompanied by concerns over non-transparent investigations and continued support for corrupt officials. Observers warn that administrative negligence, corruption, and systemic flaws are putting thousands of lives at risk.
The ML-1 route, connecting major cities such as Peshawar, Rawalpindi, Lahore, Rohri, Hyderabad, and Karachi, has seen a particularly high number of derailments—an unprecedented trend in the country’s history. While such incidents were previously more common in Sindh, there has now been a noticeable increase in Punjab as well during 2026.
Multiple derailments involving both freight and passenger trains have already been reported this year. Causes include substandard track repairs, poor maintenance, outdated infrastructure, faulty train components, and human error. The situation has worsened in recent months due to the failure to address underlying issues in a timely manner.
In some alarming instances, multiple trains have derailed within a single day, including repeated derailments involving the same train service. Sources emphasise that inadequate maintenance remains the primary cause, with officials responsible for track inspection, safety checks, and supervision failing to perform their duties effectively.
Despite official records showing full staff attendance, many workers are reportedly absent from duty while continuing to draw salaries. This further weakens the already fragile maintenance system.
Experts and citizens alike are urging Prime Minister Shehbaz Sharif to take immediate notice of the situation. Some suggest reassigning the current railway minister and seeking guidance from former railways minister Khawaja سعد Rafique, who is credited with previous improvements in the sector.
The ongoing crisis not only threatens passenger safety but also worsens the shortage of operational train coaches, forcing many services to run below their scheduled capacity.